Diliris : Ertugrul – Why it’s a conspiracy of Turkey to promote Khilafat

Diliris : Ertugrul – Why it’s a conspiracy of Turkey to promote Khilafat

اس سلسلے میں ترکی قبیلے کے ایک عمومی خانہ بدوش لڑاکا ہونے سے لے کر عظیم عثمانی سلطنت کے قیام میں ایک اہم شخصیت تک کے سفر کی تصویر کشی کی گئی ہے ۔ بر صغیر پاک و ہند میں عرتوگرول غازی کے نام سے جانا جانے والا شو دنیا بھر میں مشہور ہے اور ترکی، انگریزی اور اردو زبان سے لیکر کئی یورپی زبانوں میں بھی اسکا ترجمہ کر کے دیکھا جا رہا ہے ۔ والدین اپنے نوزائیدہ بچّوں کا نام ارتگرول رکھ رہے ہیں ۔ اس کا مجسمہ ہال ہی میں لاہور میں کھڑا کیا گیا اور مقامی لوگوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس کا نام کے بعد ایک چوک رکھا جائے ۔ سب سے بڑھ کر، پوری دنیا کی مُسلم آبادی کا ایک بڑا طبقہ اسے کھوئے ہوئے اسلامی فخر کی بحال تحریک کے طور پر لے رہا ہے ۔ لوگ ترکی کی تعریف کر رہے ہیں اور اُنھیں اپنی تاریخ سے آگاہ کرنے پر انکا شکریہ ادا کر رہے ہیں جب کے اس میں تاریخ کی کوئی تاریخ قریب نہیں ہے ۔ تاریخی ڈراما کی حیثیت سے جس شو کو قبول اور پسند کیا جا رہا ہے وہ افسانے اور تخیل پر مبنی ہے ۔ اس شو کے تخلیق کار مہمت بوزدگ کا کہنا ہے کے ، “ہم جس دورانیے کو پیش کر رہے ہیں اس کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں ۔ ۴-۵ صفحات سے زیادہ نہیں ۔ یہاں تک کے نام ہر ماخد میں مختلف ہیں ۔ اس تاریخی اعداد و شمار میں کوئی یقین نہیں ہے اور ہم اپنی سوچ سے ایک کہانی کی تشکیل کر رہے ہیں “۔ مسلم دنیا میں فلهال قیادت کی خلا باقی ہے ۔ اردوگان اس کو ایک موقع کے طور پر دیکھتے ہیں ۔ وہ خود کو ترک فخر کا نقاب پہنے ہوۓ نئے قائد کی حیثیت سے پیش کر رہے ہیں ۔ اس کے سیٹوں اور فلم بندی کے مقامات پر اس کے باقاعدہ دورے اس سیریز میں اُن کی دلچسپی کی تصدیق کرتے ہیں ۔ اطلاعات ہیں کے مہمت بوزداگ کے اردوگان کی پارٹی، APK کے ساتھ بھی رابطے ہیں ۔ اردوگان چاہتے ہیں کے مسلم دنیا امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ انکی طویل دوستو کو بھول جائے ۔ ترکی کی سرزمین پر اسرائیل سفارت خانہ ہے ۔ دونوں ممالک سفارتی، معاشی اور تجارتی تعلقات سے لطف اندوز ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کے عہدیداروں کی میزبانی کر چکے ہیں ۔ خود اردوگان ۲۰۱۵ میں اسرائیل کے سرکاری دور پر جا چکے ہیں ۔ اردوگان نے دھمکی دی تھی کے امریکہ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کی دارلحکومت تسلیم کرنے کے بعد اپنے تعلقات منقطع کر دینگے لیکن پھر بھی اس پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے ۔ پھر بھی، وہ مسلم دنیا میں ترک خلافت کے ۶۰۰ سال پرانی یادوں سے گزار رہا ہے ۔ ترکی بھی NATO کا ممبر ہے یہ اُنھیں یاد دلا دیا جائے ۔ لگتا ہے کے اس دہائی میں عالمی عالمی سیاست میں ہونے والی پیشرفت کے بعد ترکی کی شبیہہ رنگنے کی دانستہ کوشش ہے ۔ یہ سلسلہ بالواسطہ طور پر ایک بدنما حقیقت کو پیش کرتا ہے کہ اسلام تلوار سے پھیلایا گیا تھا ۔ ہمارے نبی محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر نگرانی جنگوں اور مذہبی جددوجہد جنگی اخلاقیات کی ایک بہت ہی مختلف تصویر پیش کرتی ہے ۔ انہوں نے جنگ کے میدان میں پودوں اور مویشیوں کو بھی نکسان پہنچانے کی سختی سے پابندی عائد کی، غیر مسلم اور فرار ہونے والے فوجیوں کو بھی چھوڑنے کو کہا ۔ اسلام کے نام پے اقتدار حاصل کرنے والے بادشاہوں نے بہرحال، اُن کی تعلیمات کو نظرانداز کیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: