Christian girls targeted in the name of love jihad

Christian girls targeted in the name of love jihad

سیرو مالابار میڈیا کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق کیلا ریاست میں عیسائی لڑکیوں کو لو جہاد کے ذریعے نشانہ بنا کر جبرن یا دھوکھے سے اسلام قبول کرایا جا رہا ہے، جن میں زیادۃ تر داعش (ISIS) میں شامل ہو گئی، انہیں دوسرے ملکوں ملسن سریا، افغانستان وغیرہ میں لیے جاکر جنسی غلام یہ دہشتگرد حرکات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، کیرلا کیتھولک بیشپس کانفرنس (KCBC) نے ان واقعات پر فکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیکولرزم اور سماجی ہم آہنگی کے خلاف ہیں، اور بتایا کہ 2005 سے 2012 کے مابین بین لو جہاد کے چار ہزار سے زیادہ معاملات ہوچکے ہیں، لیکن ریاستی پولیس اسیپر کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے، اور اسے اسلام میں نہیں دہشتگردی میں شامل ہونا قرار دیا، جسکے خلاف مسلم معاشرہ بھی ہے، سیرو مالابار سینود نے لو جہاد کو حقیقت بتاتے ہوئے پولیس کاروائی کی مانگ کی اور عیسائی معاشرے کو اس کے خلاف اپنے گھر والوں کو آگاہ کرنے کے لیے مہم چلانے کو کہا، حالانکہ کیرلا وزیر خزانہ تھومس ائجیک نے ان الزامات کو واقعتاً غلط قرار دیا، پچھلے سال ستمبر میں قومی اقلیتی کمیشن کے نائب صدر جارج کورین نے وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر لو جہاد کے معاملات میں قومی تحقیقات ایجنسی سے تحقیقات کی مانگ کیا، انہوں نے شدتپسند دہشتگردوں کے لیے عیسائی سماج کو آسان نشانہ بتایا

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: