یونیورسٹی میں داخلے کے امتحان میں ٹاپ کرنے والی افغان لڑکی کے چرچے

یونیورسٹی میں داخلے کے امتحان میں ٹاپ کرنے والی افغان لڑکی کے چرچے

افغانستان میں سن 2018 میں ہونے والے شدت پسند تنظیم ‘داعش’ کے خود کش حملے میں محفوظ رہنے والی 18 سالہ شمسیہ علی زادہ نے میڈیکل یونیورسٹی کے داخلہ ٹیسٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔

کوئلے کی کان میں کام کرنے والے ایک مزدور کی بیٹی شمسیہ علی زادہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر بننا چاہتی ہیں۔
شمسیہ اگست 2018 میں کابل کی ایک اکیڈمی میں زیر تعلیم تھیں جب ایک خود کش بمبار نے وہاں حملہ کیا۔
اس دھماکے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی جس میں 40 طلبہ ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
حمارا ہند کو انٹرویو دیتے ہوئے شمسیہ نے ملک کا صدر بن کر عوام کی خدمت کے عزم کا اظہار کیا۔
افغانستان کی وزارت تعلیم کے مطابق ایک لاکھ 70 ہزار طلبہ نے داخلہ ٹیسٹ میں حصہ لیا اور شمسیہ علی زادہ سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کے بعد پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں۔
شمسیہ کا کہنا ہے کہ وہ ڈاکٹر بننا چاہتی ہیں اور وہ افغانستان میں یہ سوچ بدلنا چاہتی ہیں جس کی وجہ سے یہاں خواتین کے لیے تعلیم حاصل کرنا مشکل ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق افغانستان میں لگ بھگ 22 لاکھ لڑکیاں تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں جب کہ تیس فی صد سے بھی کم خواتین خواندہ ہیں۔
افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ شمسیہ اور دیگر طلبہ کی کامیابی افغانستان کے روشن مستقبل کی امید ہے۔
افغانستان کے لیے قائم مقام امریکی سفیر راس ولسن نے بھی شمسیہ علی زادہ کو مبارک باد دیتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔
ٹوئٹ میں راس ولسن کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن لانے کے لیے خواتین کی تعلیم لازمی ہے۔
شمسیہ کی کامیابی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے کہ جب افغان حکومت اور طالبان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کررہے ہیں۔ تاکہ افغانستان میں چار دہائیوں سے جاری جنگ کو ختم کیا جاسکے۔
افغانستان میں طالبان نے 1996 سے 2001 کے دوران اپنے دورِ اقتدار میں خواتین کی تعلیم پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔
پاکستان میں انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے بھی ٹوئٹ میں شمسیہ کو اس کامیابی پر مبارک بار دی ہے۔
اگست 2018 میں ہونے والے خود کش حملے کو یاد کرتے ہوئے شمسیہ کا کہنا تھا کہ انہیں بہت افسوس ہوتا ہے جب نوجوان لوگ ہلاک کر دیے جاتے ہیں۔
مقامی ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں شمسیہ کا کہنا تھا کہ اس خود کش حملے میں ہلاک ہونے والی روحیلہ نے ممکنہ طور پر پہلی پوزیشن حاصل کرنا تھی مگر افسوس اب وہ زندہ نہیں ہے۔

https://www.deccanherald.com/sites/dh/files/articleimages/2020/06/19/iStock-492198113-1592538508.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: