یورپ اپنی اقدار کا دفاع کرے گا، لندن میں دہشت گرد حملے کا انتباہ

یورپ اپنی اقدار کا دفاع کرے گا، لندن میں دہشت گرد حملے کا انتباہ


فرانس اور آسٹریا میں دہشت گرد کاروائیوں کے بعد، برطانیہ نے ملک میں کسی دہشت گرد خطرے کا درجہ بڑھا کر شدید کر دیا ہے۔ یورپی لیڈروں نے ان حملوں کے تناظر میں یکجہتی پر زور دیا ہے۔

برطانوی وزیر داخلہ ہپریتی پٹیل نے منگل کے روز ایک پریس کانفرنس میں انتباہ کا درجہ بلند کرنے کا اعلان کیا۔

داخلی امور سے متعلق برطانیہ کی انٹیلی جنس ایجنسی ایم آئی فائیو کے مطابق چوتھے درجے کے انتباہ سے مراد یہ ہے کہ کسی دہشت گرد حملے کے خطرے کا امکان بہت زیادہ ہے۔ برطانیہ میں انتباہ کے پانچ درجوں میں سے یہ چوتھے درجے کا انتباہ ہے۔

لندن میں رپورٹروں سے بات کرتے ہوئے، وزیر داخلہ پریتی پٹیل کا کہنا تھا کہ ایم آئی فائیو کے جائنٹ ٹیرر انیلیسس سینٹر نے فرانس کے شہر نیس میں ایک چیچن باشندے کے ہاتھوں چاقو کے وار سے ہلاک کرنے اور پھر پیر کے روز ویانا میں ایک جہادی کے طور پر شناخت کیے جانے والے شخص کے ہاتھوں چار لوگوں کو گولی مارنے کے واقعات کے بعد، انتباہ کا درجہ بلند کر دیا ہے۔

پریتی پٹیل کہتی ہیں کہ اِس الرٹ کے معنی ہیں کہ لوگوں کو چوکنا رہنا ہو گا نہ کہ خوف زدہ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ انتباہ ایک احتیاطی اقدام ہے۔

پٹیل کا کہنا تھا کہ برطانوی عوام اب یہ توقع کر سکتے ہیں کہ انٹیلی جنس ایجنسی اور پولیس کے مختلف محکمے انہیں ملک بھر میں واضح طور پر اقدامات کرتے ہوئے نظر آئیں۔

قبل ازیں ،اپنے ٹوئٹر پیغام میں، پٹیل نے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ چوکنا رہیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع پولیس کو دیں۔

لندن سے وائس آف امریکہ کے ہینری رج ویل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ آسٹریا میں چار شہریوں کی ہلاکت کے بعد، وہاں کے چانسلر کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے ملک میں مسیحیوں اور مسلمانوں کے درمیان جنگ نہیں بلکہ یہ ہماری تہذیب اور جہالت کے درمیان جنگ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ نفرت پرمبنی حملہ تھا۔ ہماری بنیادی اقدار پر حملہ تھا، اور یہ ہماری طرزَ زندگی اور ہماری جمہوریت پر حملہ تھا، جس میں ہر انسان برابر ہے۔

یورپی لیڈروں نے ان حملوں کے تناظر میں یکجہتی پر زور دیا ہے۔فرانس کے صدر ایمنوئل میکرون کا کہنا تھا کہ ہمارے دشمن اس خطہ پر حملہ کرنے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔ ان کا اصل ہدف یورپ ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ یورپ ثقافت،آزادیوں اور اقدار کی سرزمین ہے اور ہم انہیں اس کی جگہ نہیں دیں گے۔

آسٹریا کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ یہ تفتیش کر رہے ہیں کہ ویانا میں ہونے والے حملے میں کیا ایک سے زیادہ افراد ملوث تھے۔ حالیہ دنوں میں یہ یورپ میں .ہونے والے حملوں کا تازہ ترین واقعہ ہے۔

Photo Credit : https://s.yimg.com/ny/api/res/1.2/Xqiapb7AC_Xq_ATnb5v_Yg–/YXBwaWQ9aGlnaGxhbmRlcjt3PTY0MDtoPTQyNi41MjUzMzk1MTYzOTYy/https://media-mbst-pub-ue1.s3.amazonaws.com/creatr-uploaded-images/2020-09/fad09510-f741-11ea-979f-afbf179b824a

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: