یمن میں خواتین کے لیے خواتین کا کیفے

یمن میں خواتین کے لیے خواتین کا کیفے

مشرق وسطیٰ کے ملک یمن میں ‘خواتین کے لیے خواتین کا کیفے’ کھل گیا ہے۔ جی ہاں یہ کیفے صرف خواتین کے لیے ہے جہاں مردوں کا داخلہ ممنوع ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک کی طرح یمن میں بھی خواتین کاروبار نہیں کرتیں۔ مردوں کی اجارہ داری والے معاشرے میں خواتین کے کام کرنے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔

یمن کے شہر ماریب کی رہائشی ام فیراس نے کسی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنا ذاتی کیفے کھول لیا ہے۔ اس کیفے کے ذریعے وہ خواتین کی زیرِ قیادت کاروبار کے بارے میں لوگوں کا رویہ اور ان کی سوچ بدلنا چاہتی ہیں۔​

انہوں نے گزشتہ سال اپریل میں خواتین کے لیے ‘دی مارننگ آئیکون کیفے’ قائم کیا تھا۔ اس کیفے کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں ہر کام صرف خواتین ہی انجام دیتی ہیں جب کہ صرف خواتین کو ہی کیفے میں داخلے کی اجازت ہے۔

ان کے بقول بعض افراد کیفے سے متعلق منفی خیالات رکھتے ہیں اور وہ کیفے سے متعلق خدشات کا شکار ہیں۔

امِ فیراس کہتی ہیں ہر نئے تصور کے کچھ حامی ہوتے ہیں تو کچھ مخالف، کیفے کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے اور وہ ایک خاتون ہوتے ہوئے بھی کاروبار کو کامیابی سے چلا کر لوگوں کے لیے مثال بننا چاہتی ہوں۔

وداد میڈیکل کی طالبہ ہیں اور ام فیراس کے کیفے کی ریگولر صارف بھی۔ اُن کا کہنا ہے کہ ان کے لیے کیفے کا انٹرنیٹ کنکشن سب سے اہم ہے۔ ماریب میں ناقص انٹرنیٹ نیٹ ورک کے ساتھ عام خواتین کے لیے جگہیں موجود ہیں مگر طالبات کے لیے یہ تعداد بہت کم اور محدود ہے۔

ام فیراس کا کہنا ہے کہ ماریب ہی کیا پورے یمن میں خواتین کے لیے کوئی ایسی عارضی آرام گاہ نہیں جہاں وہ چند گھڑی سکون سے بیٹھ سکیں۔ خواتین کہیں بھی آزادانہ طور پر وقت نہیں گزار سکتیں، ان کے ساتھ گھر کا کوئی مرد ہونا ضروری ہے۔

ام فیراس نے خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ سے گفتگو کے دوران بتایا کہ یمنی معاشرے میں خواتین کا گھروں سے باہر کام کرنا مقامی روایت توڑنے اور قدامت پسندانہ رویوں سے تصادم کے مترادف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کیفے کا قیام کچھ لوگوں کے نزدیک عجیب و غریب منصوبہ ہے۔

یاد رہے کہ یمن چھ سال تک خانہ جنگی کا شکار رہا ہے جہاں اب بھی غیر ملکی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔

ام فیراس اپنی بیشتر کافی اور مشروبات بیرونِ ملک سے درآمد کرتی ہیں اور ملکی کشیدہ حالات کی وجہ سے انہیں مشکلات درپیش رہتی ہیں۔

ام فیراس کہتی ہیں کرنسی کے اتار چڑھاؤ کے باعث درآمدی اشیا کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور قیمت بڑھنے کے باوجود کافی کے معیار کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔

مشکلات کے باوجود ام فیراس خواتین اور بچوں کے لیے کیفے جیسی تفریح گاہ کو توسیع دینے کے جذبے پر ثابت قدم ہیں۔

Photo Credit : https://www.newdelhitimes.com/yemens-collapsing-health-system-unable-to-cope-with-disease-upsurge/

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: