ہسپانوی اور ایشیائی امریکیوں کے ووٹ نے الیکشن کو کیسے کانٹے کا مقابلہ بنایا؟

ہسپانوی اور ایشیائی امریکیوں کے ووٹ نے الیکشن کو کیسے کانٹے کا مقابلہ بنایا؟


صدارتی الیکشن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن کے درمیان مقابلے کو دلچسپ بنانے میں ہسپانوی اورایشیائی النسل امریکی ووٹروں کا کردار کلیدی رہا۔

ان دونوں برادریوں کے الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے رجحانات اس عام تاثر سے کہیں مختلف رہے جس کے مطابق یہ کہا جا رہا تھا کہ ان سے تعلق رکھنے والے ووٹر ری پبلیکن پارٹی کے امیدوار کے مقابلے میں ڈیموکریٹک امیدوار کو ووٹ دے کر جو بائیڈن کا فیصلہ کن حد تک پلڑا بھاری کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے 2016 کے مقابلے میں ہسپانوی اور ایشیائی ووٹروں کی بڑھتی ہوئی آبادی سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔

قومی سطح پر صدر ٹرمپ نے 2016 کے انتخابات میں 28 فی صد ووٹ حاصل کیے، جب کہ سن 2020 میں 32 فی صد ووٹ حاصل کیے۔

ایگزٹ پولز پر مبنی یہ اعداد و شمار اس تاثر کی نفی کرتے ہیں کہ ہسپانوی ووٹر صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کی بنا پر بڑے پیمانے پر ان کے خلاف ووٹ دیں گے۔

تاہم، لاطینی ووٹروں نے صدر ٹرمپ کے مقابلے میں، دگنی تعداد میں جو بائیڈن کے حق میں ووٹ ڈالا اور اس طرح انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں اور میکسکو کی سرحد پر پناہ حاصل کرنے کیلئے آنے واالے خاندانوں کے بچوں کو ان کے والدین سے علیحدہ کرنے کی پالیسی کی مخالفت کا اظہار کیا۔

امریکہ میں رہنے والے ہسپانوی نژاد ووٹروں میں زیادہ تر کیتھولک مسیحی ہیں۔ اور ان کی بڑی تعداد ہم جنس پرست شادیوں اور اسقاط حمل کے معاملات پر ری پبلیکن پارٹی کی موقف کی حامی ہے۔

اس کے علاوہ صدر ٹرمپ کی کاروبار کے حق میں ٹیکسوں میں چھوٹ اور حکومتی عمل دخل کو کم کرنے جیسی پالیسیوں نے بھی ہسپانوی ووٹروں کو ان کی طرف مائل کیا۔

ہسپانوی ووٹ نے خاص طور پر ریاست فلوریڈا اور ٹیکساس میں صدر ٹرمپ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

ریاست فلوریڈا میں لاطینی ووٹروں نے انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس برادری کے 51 فی صد ووٹ صدر ٹرمپ کے حق میں ڈالے گئے۔

اس رجحان نے الیکشن سے پہلے کیے گئے رائے عامہ کے جائزوں کو غلط ثابت کیا جن کے مطابق، جو بائیڈن کو ٹرمپ پر بانچ پوائنٹس کی برتری حاصل تھی۔

فلوریڈا میں ووٹ ڈالنے کے رجحان کے محرکات میں صدر ٹرمپ کی کیوبا کے خلاف پابندیوں کا نفاذ اور ونیزویلا کے سوشلسٹ صدر نکولس ماڈورو کو ان کے منصب سے ہٹانے کی کوشش بھی شامل تھی۔

علاوہ ازیں کورنیل یونیورسٹی کے لاطینی علوم کے پروفیسر سرگیو گارسیا ریوس کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو سوشلسٹ قرار دے کر کیوبا سے آئے تارکین وطن کو اپنے ایجنڈے پر قائل کیا۔

ایگزٹ پولز کے مطابق فلوریڈا کے 55 فی صد کیوبن امریکی ووٹروں نے صدر ٹرمپ کے حق میں ووٹ دیا جب کہ پیورٹوریا کے ووٹروں میں یہ شرح 30 فی صد رہی۔

کچھ لاطینی ماہرین کے مطابق جو بائیڈن نے فلوریڈا کی ہسپانوی برادری کو نظر انداز کیا۔

ریاست ٹیکساس میں بھی صدر ٹرمپ نے ہسپانوی ووٹ زیادہ حاصل کئے اور 2016 کے 40 فی صد کے مقابلے میں 52 فی صد ووٹ لیے۔

جہاں تک ایشیائی امریکی ووٹروں کا تعلق ہے تو ایڈیسن ری سرچ ادارے کے مطابق ان میں سے 30 فی صد نے صدر ٹرمپ کے حق میں ووٹ دیا۔ ٹرمپ کی یہ کارکردگی 2016 کے مقابلے میں تین پوائنٹس سے بہتر رہی۔

Photo Credit : https://media.npr.org/assets/liveblog/20201103-election/1105-az-GettyImages-1229443336.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: