ہائپر لوپ: سفر کی دنیا میں نیا اضافہ، زمین پر چھ سو میل فی گھنٹہ کی رفتار

ہائپر لوپ: سفر کی دنیا میں نیا اضافہ، زمین پر چھ سو میل فی گھنٹہ کی رفتار


انسان کے پاس یوں تو سفر کرنے کے بے شمار ذرائع ہیں، لیکن خوب سے خوب تر کی جستجو اسے محفوظ، تیز تر اور ارزاں ذرائع ڈھونڈنے پر اکسا رہی ہے۔ سائنس دان کچھ عرصے سے ایک نئی سواری پر کام کر رہے ہیں جسے ہائپر لوپ پاڈ کا نام دیا ہے۔

یہ ایک منفرد انداز کی سواری ہے۔ جو ایک مقاطیسی سرنگ کے اندر چلتی ہے۔ مقناطیسی ماحول کیپسول نما گاڑی کو سرنگ کی دیواروں سے ٹکرانے یا رگڑ کھانے سے محفوظ رکھتا ہے۔

چونکہ کیپسول پہیئوں کی بجائے خلا میں تیرتا ہوا سفر کرتا ہے، اس لیے یہ سفر بے آواز ہوتا ہے۔ سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ یہ کیپسول زیر زمین سرنگ میں ہوائی جہاز کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی سفر کر سکتا ہے اور اس کی رفتار کو چھ سو میل فی گھنٹہ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

مقناطیسی کیپسول پر کام کرنے والی کمپنی کا نام ورجن ہائپرلوپ ہے۔ اس کمپنی نے پہلی بار ایک انسان کو مقناطیسی کیپسول میں بھیجنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

کمپنی کے مالک کا نام رچرڈ برینسن ہے۔ انہوں نے اتوار کے روز بتایا کہ ہائپرلوپ پاڈ کا پہلا انسانی تجربہ کامیاب رہا۔ اس تجربے میں اس ٹیکنالوجی کے محفوظ ہونے کو پرکھا گیا تھا۔ اب یہ توقع پیدا ہو گئی ہے کہ اس ایجاد کو انسانوں اور سامان کی نقل و حرکت کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔

ورجن ہائپرلوپ کے چیف ٹیکنالوجی افسر، جاش گیجل اور مسافروں کے امور کی ڈائریکٹر سارہ لوچیان نے اس انسانی تجربے کے متعلق بتایا کہ یہ تجربہ ریاست نیواڈا کے شہر لاس ویگاس میں کمپنی کی تجربہ گاہ میں کیا گیا، جہاں اس مقصد کے لیے مقناطیسی میدان کی سرنگ تعمیر کی گئی ہے۔۔پاڈ نے اس سرنگ میں 107 میل یعنی 172 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کیا۔

ورجن ہائپر لوپ کے چیئرمین اور ڈی پی ورلڈ کے گروپ چیئرمین سلطان احمد بن سلیم کا کہنا تھا کہ میری آنکھوں کے سامنے ایک نئی تاریخ رقم ہونا ایک خوش کن تجربہ تھا۔

لاس اینجلس میں قائم کمپنی ہائپر لوپ ایک ایسے مستقبل کا خواب دیکھ رہی ہےجس میں ایک ایسی سرنگ میں، جس میں ہوا نہیں ہو گی، تیرتے ہوئے کیپسول مسافر اور سامان کو چھ سو میل فی گھنٹہ کی یعنی 966 کلو میٹر فی گھنٹہ یا اس سے بھی زیادہ رفتار سے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچائیں گے۔

ہائیر لوپ نظام مقناطیسی قوت کو استعمال کرتے ہوئے ہوا میں معلق ہو کر تقریبا ًبغیر کسی آواز کے سفر ممکن بناتا ہے۔ اس کے معنی ہیں کہ شہر نیو یارک سے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے درمیان کا فاصلہ 30 منٹ میں طے ہو گا۔ یہ کسی بھی کمرشل جیٹ پرواز سے دگنا تیز،اور تیز رفتار ٹرین سے چار گنا زیادہ تیز رفتار سفر ہو گا۔

کمپنی اس سے پہلے، نیواڈا کی اپنی تجربہ گاہ میں چار سو کے قریب تجربے کر چکی ہے، تاہم یہ پہلا انسان بردار تجربہ تھا۔

یہ تجربہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب ایک ماہ قبل، برطانوی خبر رساں ادارے رائیڑز نے خبر دی تھی کہ ورجن ہائپر لوپ نے اپنی ٹیکنالوجی کے کامیاب تجربے کیلئے امریکی ریاست ویسٹ ورجینیا کو اپنے ٹیسٹ ٹریک اور مرکز کے طور پر چنا ہے۔

کمپنی اب سن 2025 میں سیفٹی سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے اور 2030 میں اپنی کمرشل سروس شروع کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

کینیڈا کی کمپنی ٹرانسپاڈ اور اسپین کی کمپنی زیلیراس بھی اسی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہے جسے بعد ازاں انسانی سفر اور سامان کی نقل و حرکت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

ان کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اس سے سفر کے وقت کی بچت ہونے کے ساتھ ساتھ ماحول کی آلودگی کم کرنے میں بھی مدد ملے گی کیونکہ اس ٹیکنالوجی میں معدنی تیل استعمال نہیں ہوتا۔

Photo Credit : https://a57.foxnews.com/static.foxbusiness.com/foxbusiness.com/content/uploads/2020/11/0/0/hyperloop-cropped-933p.jpg?ve=1&tl=1

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: