گوگل کی عارضی بندش سے پاکستان میں کس کا کتنا نقصان ہوا؟

گوگل کی عارضی بندش سے پاکستان میں کس کا کتنا نقصان ہوا؟


سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز یا ایپس کی بندش کی خبر عام طور پر جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی ہے۔ لیکن رواں ماہ 14 دسمبر کو ‘گوگل’ کی سروسز 40 منٹ تک متاثر رہیں۔ جن کا اثر گوگل کو بطور سرچ انجن استعمال کرنے والوں کے علاوہ اس کی دیگر سروسز کو پیشہ وارانہ طور پر استعمال کرنے والوں پر بھی پڑا۔

آئی ٹی انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق صرف پاکستان میں ہی گوگل سروسز پر انحصار کرنے والوں کو کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

گوگل کی عارضی طور پر بند ہونے والی سروسز میں جی میل، گوگل ڈاکس اور گوگل میپس سمیت یو ٹیوب کی ایپلی کیشن بھی شامل تھی۔

گوگل کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ مسئلہ تکینکی نوعیت کا تھا۔ لیکن 40 منٹ کی بندش سے یہ بات کھل کر سامنے آ گئی کہ پاکستان کے کتنے شعبے معاشی طور پر ان سروسز پر انحصار کرتے ہیں۔

بندش سے متاثر ہونے والوں میں اسد میمن بھی شامل تھے۔ جو ایک مشہور یوٹیوب فوڈ چینل چلاتے ہیں۔

ہمارا ہند سے گفتگو کرتے ہوئے اسد میمن نے کہا کہ بہت سارے پلیٹ فارم ہیں جن میں اکثر تکنیکی مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن گوگل ان میں سے ایک نہیں ہے۔

اسد میمن کہتے ہیں کہ ان 40 منٹ میں تو ہمارے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی تھی۔ ان کے بقول اس کی وجہ ان کے چینل کی ویوورشپ ہے۔ جو اس سے متاثر ہو رہی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ جب آپ کو ایک ایک لائک اور کلک سے ہی پیسے ملنا ہوں تو پلیٹ فارم کا بلا تعطل چلنا بہت اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس جھٹکے نے انہیں اور ان جیسے لاکھوں یو ٹیوبرز کو خبردار کر دیا ہے کہ ایسا واقعہ دوبارہ بھی پیش آ سکتا ہے۔ اس صورت میں اس کا کیا حل ہو سکتا ہے؟

آئی ٹی ایکسپرٹ اور سافٹ ویئر ہاؤس کے مالک عمران علی نقوی بھی انہی خدشات کا شکار ہیں۔

حمارہ ہند سے بات کرتے ہوئے عمران علی نقوی نے کہا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔ لہذا ان خدمات کے لئے کسی کے پاس متبادل نہیں تھا۔


ان کے بقول گوگل جیسی بڑی سروس کا متبادل یوں تو مارکیٹ میں موجود ہی نہیں۔ لیکن پھر بھی سافٹ ویئر ہاؤسز کے پاس کچھ بیک اپ ضرور ہوتا ہے۔

عمران علی نقوی کے مطابق ان متبادل سروسز میں ‘ایمیزون’ کی سروسز شامل ہیں۔ لیکن وہ بھی اپنی افادیت میں محدود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آئی ٹی انڈسٹری براہِ راست تو متاثر ہوئی۔ لیکن اس وقت دوسرا بڑا سب سے زیادہ نقصان تعلیم کے شعبے کو ہوا۔

ان کے بقول اس وقت کرونا وائرس کی وجہ سے کروڑوں افراد آن لائن تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسی وجہ سے لاکھوں افراد کے تعلیمی ریکارڈ اور ان تک تمام تر رسائی کا دار و مدار گوگل کی فراہم کردہ سروسز پر ہی ہے۔

ان افراد کے علاوہ جو پیشہ وارانہ ضرورت کے لیے یہ سروسز استعمال کر رہے تھے۔ ان میں ایک بڑی تعداد ایسے صارفین کی بھی تھی جو جی میل تک رسائی حاصل نہں کر پا رہے تھے۔

ان سروسز تک رسائی میں بندش کے ساتھ ہی ٹوئٹر پر بھی ٹرینڈ دیکھا گیا۔ جہاں دنیا بھر سے صارفین اپنی پریشانی اور مشکلات کا اظہار کرتے نظر آئے۔

ان تمام آن لائن سروسز اور سہولیات پر دن بدن بڑھتا انحصار نفسیاتی طور پر کس حد تک صحت مند ہے۔ اس بارے میں ماہرِ نفسیات ڈاکٹر نوشابہ منان کا کہنا ہے کہ انفرادی طور پر ہر شخص اس حد تک ان پلیٹ فارمز کا عادی ہو چکا ہے کہ اسے کسی طور بھی نارمل رجحان نہیں کہا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس قدر نئے ٹرینڈز کے لیے عالمی ادارۂ صحت ‘ڈیجیٹل ہیروئن’ جیسی سخت اصطلاحات کا استعمال کر رہا ہے۔

ان کے مطابق بظاہر ایک دوسرے سے رابطے میں نظر آنے والے افراد حقیقی طور پر بالکل تنہا ہو کر رہ گئے ہیں۔

ان کے بقول اب سب تعلقات اور ملاقاتیں کرونا وائرس سے پہلے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک محدود ہو گئی تھیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جن افراد کے لیے آن لائن رہتے ہوئے کام کرنا نا گزیر ہے۔ انہیں بھی 40 منٹ سے زیادہ وقت کمپیوٹر یا موبائل کی سکرین کے سامنے نہیں گزارنا چاہیے۔

ڈاکٹر نوشابہ کا کہنا ہے کہ آئی ٹی یا دوسرے کئی شعبوں کے افراد کا کاروبار زندگی مستقل طور پر آن لائن موجودگی سے جڑ گیا ہے اور یہ ان میں نفسیاتی پیچیدگیاں پیدا کر رہا ہے۔ جس سے بہت سے افراد خود آگاہ بھی نہیں ہیں۔

اس بات پر اسد میمن بھی متفق نظر آتے ہیں۔ کیوں کہ ان کے بقول اگر ایک دن بھی ان کا یا زیادہ فالونگ رکھنے والا کوئی یوٹیوب چینل بند ہو جائے۔ تو اس کے معاشی نقصانات کا تخمینہ ایک لاکھ سے پانچ لاکھ روپے کے درمیان آرام سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس لیے ان پلیٹ فارمز پر کم وقت گزارنا نا ممکن ہو چکا ہے جو بسا اوقات ذہنی بوجھ کی وجہ بھی بنتا ہے۔

عمران علی نقوی کے مطابق ہر شعبے میں ان سروسز پر بڑھتے انحصار کو محدود کرنے کی کوشش کی تو جا رہی ہے۔ لیکن اس میں کتنی کامیابی ہوتی ہے اس کا اندازہ لگانا قبل از وقت ہو گا۔ آن لائن پلیٹ فارمز پر زیادہ انحصار کے صارفین پر پڑنے والے منفی نفسیاتی اثرات کو کم کرنے کے لیے ماہر نفسیات یہی مشورہ دیتے ہیں کہ نہ صرف کام کرنے کے طریقے کار کو بدلنے کی کوشش کی جائے۔ بلکہ تفریح کے لیے استعمال کی جانے والی ایپس پر کم سے کم وقت گزارہ جائے۔

Photo Credit : https://s.yimg.com/ny/api/res/1.2/qfqEzL.U0CZUjC4kyMPl8w–/YXBwaWQ9aGlnaGxhbmRlcjt3PTk2MDtoPTY0MA–/https://s.yimg.com/os/creatr-images/2020-04/6dd60fa0-74fb-11ea-bf7f-7fb473523e83

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: