گوجرانوالہ میں اپوزیشن کے ‘پاور شو’ کی تیاریاں، پاکستان میں سیاسی ماحول گرم

گوجرانوالہ میں اپوزیشن کے ‘پاور شو’ کی تیاریاں، پاکستان میں سیاسی ماحول گرم

پاکستان میں حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتیں پاکستان ڈیمو کریٹک الائنس (پی ڈی ایم) کے پلیٹ فارم سے 16 اکتوبر کو پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں حکومت مخالف پہلا جلسہ کر رہی ہیں جس کے لیے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔

حکومتِ پنجاب نے جمعرات کو گوجرانوالہ کے جناح اسٹیڈیم میں جلسے کی باضابطہ اجازت بھی دے دی ہے۔ تاہم جلسے سے قبل حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے ایک دوسرے پر الزامات نے سیاسی ماحول مزید گرم کر دیا ہے۔

گوجرانوالہ کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جلسے کی اجازت کے لیے 28 نکاتی معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت کارکنوں کے درمیان تین سے چھ فٹ فاصلہ رکھنے کے علاوہ اسٹیڈیم کے علاوہ کسی دوسرے مقام سے تقریر کی اجازت نہیں ہو گی۔ جلسہ شام بجے سے رات گیارہ بجے تک ہو گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ہر جلسے کا حکومت پر کوئی نہ کوئی دباؤ ضرور ہوتا ہے۔ اِسی طرح حزبِ اختلاف کے اس جلسے کا حکومت پر کسی حد تک تو دباؤ ہو سکتا ہے۔ لیکن فی الحال حکومت کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے خیال میں اگر پی ڈی ایم کے جلسے پر وسیع القلبی کا مظاہرہ کیا جائے تو یہ ایک جلسہ ہو گا اور گزر جائے گا۔ اِس جلسے سے حکومت نہیں جائے گی۔ لیکن ایک عوامی دباؤ ضرور پڑے گا۔

ہمارا ہند سے بات کرتے ہوئے سہیل وڑائچ نے کہا کہ اگر واقعتا more زیادہ سے زیادہ لوگ اکٹھے ہوجائیں تو اس کا نتیجہ ہوگا۔ ان کی رائے میں ، حکومت نے آخری لمحات میں اجلاس کو انتظامات کو محدود کرنے اور آخری لمحے تک اجازت دی۔ لوگوں کو احساس ہونا چاہئے کہ کوئی میٹنگ ہوگی یا نہیں۔

جلسے کی شرائط کے حوالے سے سہیل وڑائچ نے کہا کہ یہ ایک رسمی کارروائی ہوتی ہے۔ عموماً ان شرائط پر پابندی نہیں ہوتی۔

‘جلسے کا فائدہ مسلم لیگ (ن) کو ہو گا’

سینئر صحافی اور تجزیہ کار صابر شاکر کی رائے میں حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے جلسے اسی وقت سود مند ہو سکتے ہیں جب ساری جماعتیں ایک ہی صفحے پر ہوں۔

ہمارا ہند سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) گوجرانوالہ ریلی کی منتظم ہے اور اس سے اس کو بہت فائدہ ہوگا کیونکہ اس کے کارکن متحرک ہوں گے۔

اُن کے بقول گوجرنوالہ کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہے کیوں کہ یہاں مسلم لیگ (ن) کا اچھا خاصا ووٹ بینک ہے اور لوگ باہر بھی نکلتے ہیں جب کہ اس کے قریبی شہروں لاہور، سیالکوٹ، شیخوپورہ، قصور سے بھی لیگی کارکن با آسانی یہاں پہنچ کر شرکت کر سکتے ہیں۔

ادھر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا کہ وہ چیلنج کرتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں جناح اسٹیڈیم نہیں بھر سکتیں۔ اُن کے بقول احتجاج کسی بھی سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے۔ لیکن اپوزیشن جماعتیں اپنی کرپشن بچانے کے لیے یہ جلسہ کر رہی ہیں۔

جمعرات کو اپنے ایک بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کے اس جلسے سے حکومت پریشان نہیں اور نہ ہی اس پر کوئی دباؤ ہے۔

مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کہتے ہیں کہ جی ٹی روڈ بلاک کرنے کی دھمکی کے بعد حکومت نے جلسے کی اجازت دی۔ اُن کا کہنا تھا کہ گوجرانوالہ ڈویژن میں لیگی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے۔

رانا ثناء اللہ نے شبلی فراز کا چیلنج قبول کرتے ہوئے کہا کہ جناح اسٹیڈیم بھرے گا، لہذٰا شبلی فراز اپنا استعفی تیار رکھیں۔

سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے جنرل سیکریٹری مولانا عبدالغفور حیدری کہتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں نے اپنی تحریک کا آغاز پنجاب سے کیا ہے۔ امید ہے عوام جلسے میں بھرپور قوت کا مظاہرہ کر کے سلیکٹڈ حکمرانوں کو پیغام دیں گے عوام اُنہیں مسترد کر چکے ہیں۔

‘عوامی اور سیاسی جلسے میں فرق ہوتا ہے’

سہہل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ اگر حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے جلسوں کا ایک ٹیمپو بن گیا اور لوگ بھی باہر نکلے تو اِس کے اثرات ہو سکتے ہیں۔ ابھی تو صرف کل کا جلسہ ہے۔ پی ڈی ایم کے باقی جلسوں کے بعد دیکھیں کیا صورتِ حال بنتی ہے۔

سہیل وڑائچ کے بقول عوامی اور سیاسی جلسے میں فرق ہوتا ہے۔ سیاسی جلسوں میں لوگوں کو ٹاسک دے کر بلایا جاتا ہے اور پارٹی رہنماؤں کی ڈیوٹیاں لگائی جاتی ہیں کہ وہ اتنے کارکن لے کر آئیں۔ لیکن عوامی جلسے وہ ہوتے ہیں جن میں عوام اپنی مرضی سے شریک ہوں۔

اُن کا کہنا تھا کہ “اگر جلسے میں ٹوٹی چپل، پھٹے کپڑوں والے یا ایسے افراد جن کی کوئی سیاسی وابستگی نہیں تو پھر تو یہ تحریک آگے بڑھ سکتی ہے۔ لیکن اگر جلسے میں وہی مخصوص سیاسی کارکن آئے جنہیں ڈیوٹیاں لگا کر بلایا جاتا ہے تو پھر یہ صرف ایک جلسہ ہی ہو گا۔”

کیا اسٹیبلشمنٹ اپوزیشن تحریک سے پریشان ہے؟

صابر شاکر کے مطابق حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے جلسے کا پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ کیوں کہ ایک طرف اسٹیبلشمنٹ مخالف تقریریں ہو رہی ہیں، دوسری طرف اُنہیں پیغامات بھجوائے جا رہے ہین۔

صابر شاکر سمجھتے ہیں کہ ابھی یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ڈیل کے لیے معاملات بھی ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ اُن کے بقول شریف خاندان کا اصل ہدف یہ ہے کہ اُنہیں ریلیف دیا جائے۔

صابر شاکر کے بقول اُنہیں نہیں لگتا کہ شریف خاندان انقلابی ہو گیا اور واقعتاً اُن کی سوچ بھی اب جمہوری ہو گئی ہے۔

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اپوزیشن کی اس تحریک میں غیر جانب دار ہے۔ صرف حکومت متحرک نظر آ رہی ہے۔ لہذٰا ہو سکتا ہے کہ اس جلسے میں مسلم لیگ (ن) اپنے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے میں بھی کچھ نرمی لائے اور زیادہ سخت تقاریر دیکھنے کو نہ ملیں اس سے اسٹیبلشمنٹ کے رویے میں بھی فرق پڑ سکتا ہے۔

ادھر ٹوئٹر پر ایک پیغام میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ پولیس، پی ڈی ایم اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ میں مصروف ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پولیس عمران خان حکومت کے غیر قانونی احکامات ماننے سے گریز کرے۔

مریم نواز نے بھی ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ جلسے سے نواز شریف کے خطابات کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) نے گزشتہ عام انتخابات میں گوجرنوالہ سے قومی اسمبلی کی تمام چھ نشستیں جیتی تھیں۔

خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے گزشتہ ماہ 20 ستمبر کو ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں حکومت مخالف احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا۔ پہلے مرحلے میں پاکستان کے مختلف شہروں میں جلسوں کا اعلان کیا گیا تھا جب کہ آئندہ سال اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی کال بھی دی گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: