کیلی فورنیا: آگ سے ڈھائی لاکھ ہیکٹر رقبے میں جنگلات جل گئے

کیلی فورنیا: آگ سے ڈھائی لاکھ ہیکٹر رقبے میں جنگلات جل گئے

کیلی فورنیا کے شمالی حصوں میں جہاں بڑے پیمانے پر جنگلات اور جنگلی جھاڑیوں میں آگ لگی ہوئی ہے، ڈھائی لاکھ ہیکٹر رقبے پر جنگلات تباہ ہو گئے ہیں۔

تاہم پیر کے روز ایک بڑا خطرہ اس وقت ٹل گیا جب آندھی اور جھکڑ چلنے اور بجلی گرنے کی پیش گوئی نہیں ہوئی کیونکہ خدشہ تھا کہ آسمانی بجلی گرنے اور تیز ہوائیں چلنے سے نہ صرف مزید مقامات پر آگ بھڑک اٹھے گی بلکہ پہلے سے لگی ہوئی آگ کے پھیلاؤ میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

اس علاقے میں 600 سے زیادہ مقامات پر آگ لگی ہوئی ہے، جس کی زیادہ تر وجہ آسمانی بجلی کا گرنا بتایا جاتا ہے۔

کیلی فورنیا کے شمالی حصے میں بڑے پیمانے پر جنگلات پائے جاتے ہیں۔ گرمیوں میں یہاں موسم عموماً خشک رہتا ہے۔ جس سے درخت اور جنگلی جھاڑیاں سوکھ جاتی ہیں اور ذرا سی چنگاری پر فوراً جل اٹھتی ہیں۔

اس علاقے میں گرمیوں کے موسم میں جنگلوں میں آگ لگنے کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں، لیکن اس سال آگ نے ماضی کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔

عہدے داروں کا کہنا ہے کہ آتش زدگی سے تقریباً ڈھائی لاکھ ہیکٹر زمین پر جنگلات جل کر راکھ ہو چکے ہیں، جس میں وہاں موجود سینکڑوں عمارتیں اور مکانات بھی شامل ہیں۔ آگ کی نذر ہونے والا رقبہ امریکی ریاست روہوڈ آئی لینڈ سے بڑا ہے۔

اب تک سات افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے، جب کہ ہزاروں افراد کو اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونا پڑا ہے۔ کچھ لوگوں کو تو اتنی اجلت میں گھر سے نکلنا پڑا کہ ان کے پاس سوائے اپنے تن کے کپڑوں کے کچھ اور نہیں تھا۔


تاہم جن علاقوں میں آگ پر قابو پالیا گیا ہے، وہاں لوگوں کو یہ دیکھنے کے لیے واپس جانے کی اجازت دے دی گئی ہے کہ اگر کچھ بچ گیا ہو تو وہ اسے لے آئیں۔

جنگل کی آگ نے کیلی فورنیا کے ایک اہم شہر اور تجارتی مرکز سان فرانسسکو پر گہرے دھوئیں کی لپیٹ میں لے لیا ہے, جس سے لوگوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور سڑکوں پر حد نگاہ متاثر ہوئی ہے۔

کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوسام نے کہا ہے کہ ہمیں ایک مختلف آب و ہوا اور صورت حال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کی جدید تاریخ میں کوئی مثال موجود نہیں ہے۔

جنگلات کی آگ کے ساتھ ساتھ علاقے میں گرمی بھی نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں کیلی فورنیا کی ڈیتھ ویلی میں درجہ حرارت 54 ڈگری سینٹی گریڈ پر پہنچ گیا تھا۔

شدید گرمی اور آگ کے پھیلاؤ کی وجہ سے قدرتی ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے علاقے کے قدیم سرخ لکڑی کے جنگلات کے بارے میں فکر مند ہیں۔

ان درختوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ کم و بیش دو ہزار سال پرانے ہیں اور ان کا شمار دنیا کے اونچے ترین اور قدیم ترین درختوں میں بھی کیا جاتا ہے۔ تاہم ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سینٹا کروز کاؤنٹی کے بک بیسن ریڈ وڈ پارک کے علاقے میں یہ جنگلات آگ کا نشانہ بننے سے بچ گئے ہیں۔

اس علاقے میں ہزاروں فائر فائیٹرز آگ بجھانے اور اس کا پھیلاؤ روکنے کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

https://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/a/a6/The_Rim_Fire_in_the_Stanislaus_National_Forest_near_in_California_began_on_Aug._17%2C_2013-0004.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: