کیا مسلم حکمران ‘اسلاموفوبیا’ سے نمٹنے کے لیے متحد ہو سکتے ہیں؟

کیا مسلم حکمران ‘اسلاموفوبیا’ سے نمٹنے کے لیے متحد ہو سکتے ہیں؟

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے اسلامی دنیا کے رہنماؤں کے نام ایک خط میں ان سے کہا ہے کہ ہم سب کو غیر مسلم ممالک، خاص طور یورپی ممالک میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے رجحان کے تدارک کے لیے مل کر کام کرنا ہو گا۔

خط میں وزیرِ اعظم عمران خان نے مغربی دنیا کو بھی باور کرایا ہے کہ اسلام اور پیغمبرِ اسلام پر بعض حلقوں کے حملوں کے نتیجے میں بنیاد پرست اور انتہائی دائیں بازو کے گروہوں کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔

وزیرِ اعظم عمران نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بھی دو صفحوں پر مشتمل یہ خط لگایا ہے جس میں مسلم رہنماؤں کو مشترکہ طور پر اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف فوری اقدام کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

عمران خان کے بقول اسلامو فوبیا کا رجحان دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے خط میں لکھا ہے کہ مغربی دنیا، خاص طور پر یورپ میں ہمارے نبی پر ہونے والے طنزیہ حملے مسلمانوں میں تشویش اور بے چینی کا سبب رہے ہیں۔

عمران خان نے کسی کا نام لیے بغیر کیا کہ یورپی رہنماؤں کے بیانات اور قرآن کی بے حرمتی کے واقعات اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتے ہیں جو یورپ میں پھیل رہا ہے۔ جہاں بڑی تعداد میں مسلمان آباد ہیں۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم نے اسلامی ممالک کے سربراہان مملکت کو یہ خط ایک ایسے وقت میں لکھا ہے جب چند روز قبل فرانس میں پیغمبرِ اسلام کے توہین آمیز خاکے شائع اور آویزاں کیے گئے تھے۔

یاد رہے کہ فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں کے توہین آمیز خاکوں سے متعلق بیان کی وجہ سے مسلمان دنیا میں غم و غصہ بڑھا ہے۔ انہوں نے ان خاکوں کا دفاع کیا تھا۔

ترکی اور پاکستان کی قیادتوں نے فرانس کے صدر کے بیان پر سخت تنقید کی تھی جس پر فرانس کے وزیرِ داخلہ نے کہا تھا کہ ان کے لیے یہ بات باعثِ افسوس ہے کہ غیر ملکی طاقتیں ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہی ہیں۔

تاہم وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ ان ممالک کے رہنما اکثر اوقات پیغمبرِ اسلام اور قرآن سے متعلق مسلمانوں کے جذبات اور گہری عقیدت کا ادراک نہ ہونے کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کے ایک عمل اور پھر ردِ عمل کا خطرناک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

ادھر وزیرِ اعظم عمران خان نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام مسلمانوں کو مل کر مغرب کو بتانا ہو گا کہ اگر آپ یہودیوں کے ہولو کاسٹ کے معاملے پر حساس ہیں تو ہماری حساسیت کا خیال بھی رکھنا چاہیے۔ کیوں کہ جب قرآن اور پیغمبرِ اسلام کے خلاف کوئی توہین آمیز عمل کیا جاتا ہے تو یہ عمل مسلمانوں کے لیے تکلیف کا باعث بنتا ہے۔

بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کا اسلاموفوبیا کے تدارک کے لیے اسلامی ممالک کے متفقہ لائحہ عمل کی تجویز اس بات کا اظہار ہے کہ مسلمان ممالک کو متحرک کر کے ایک سفارتی دباؤ پیدا کیا جائے ۔

ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کی یہ کوشش کس حد کامیاب ہو سکتی ہے، یہ کہنا اس لیے مشکل ہے کہ ایسی صورتِ حال پہلے بھی سامنے آ چکی ہے۔ اس وقت بھی بہت سے ممالک بشمول پاکستان نے اسلاموفوبیا اور توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے معاملے کو اٹھایا تھا اور احتجاج کیا تھا، لیکن اس پیغام کا ابلاغ نہیں ہو سکا کہ یہ مسئلہ مسلمان ممالک کے کتنا اہم ہے اور نہ ہی تمام مسلمان ممالک اس اسلامو فوبیا کے معاملے پر اکھٹے ہو سکے۔

تجزیہ کار حسن عسکری کا کہنا ہے کہ اب یہ دیکھنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اس حوالے سے ہونے والی موجودہ کوشش کس حد تک مؤثر ہو سکتی ہے۔

حسن عسکری کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر ایک مکالمے کی ضرورت ہے تاکہ مذہبی رواداری کو فروغ دے کر معاملات کو بہتر طور سمجھا جائے۔

Photo Credit : https://www.lowyinstitute.org/sites/default/files/GettyImages-1147208735.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: