کرونا ٹیسٹ منفی آنے کے بعد صدر ٹرمپ کا فلوریڈا میں ریلی سے خطاب

کرونا ٹیسٹ منفی آنے کے بعد صدر ٹرمپ کا فلوریڈا میں ریلی سے خطاب

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے معالجین نے تصدیق کی ہے کہ صدر کا کرونا ٹیسٹ منفی آ گیا ہے۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ انتخابی ریلی میں شرکت کے لیے ریاست فلوریڈا بھی گئے جہاں انہوں نے شرکا سے خطاب بھی کیا۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے پیر کو جاری کردہ میمو کے مطابق صدر ٹرمپ کا کرونا ٹیسٹ لگاتار دو روز منفی آیا ہے۔ تاہم اُن کے معالج نے یہ نہیں بتایا کہ صدر کے کرونا ٹیسٹ کب کیے گئے تھے۔

صدر کے معالج ڈاکٹر شان کونلی نے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ کے کرونا ٹیسٹ ‘ایبٹ لیبارٹریز’ کی نئی ریپڈ ٹیسٹںگ سہولت کے ذریعے کیے گئے۔

اُن کے بقول کرونا ٹیسٹنگ کے علاوہ صدر ٹرمپ کے چند دیگر ٹیسٹ بھی کیے گئے ہیں جس کے بعد اُن میں وائرس کی عدم موجودگی کی تصدیق ہوئی۔

صدر ٹرمپ کے معالج نے چند روز قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ صدر سے اب دوسروں میں وائرس منتقل ہونے کا خدشہ ختم ہو چکا ہے۔

ادھر صدر ٹرمپ نے صحت یابی کے بعد اپنی انتخابی مہم دوبارہ شروع کر دی ہے۔ صدر رواں ہفتے ریاست فلوریڈا کے علاوہ، پینسلوینیا، آئیوا، شمالی کیرولائنا اور وسکونسن جائیں گے۔

یاد رہے کہ رواں ماہ دو اکتوبر کو صدر ٹرمپ میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ بیماری کے باعث وہ چند روز ریاست میری لینڈ کے والٹر ریڈ اسپتال میں بھی زیرِ علاج رہے جب کہ طبعیت میں بہتری کے بعد وہ وائٹ ہاؤس منتقل ہو گئے تھے۔

دریں اثنا امریکہ میں متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے نشریاتی ادارے ‘سی این این’ سے گفتگو میں صدر ٹرمپ کی جانب سے فلوریڈا میں انتخابی ریلی سے خطاب پر سوال اُٹھا دیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ کیا ایسے مقامات پر جلسے کرنا جہاں وائرس پھیلنے کی شرح زیادہ ہے دانشمندی ہے؟

ڈاکٹر فاؤچی کا کہنا تھا کہ “ہمیں معلوم ہے کہ ایسا کر کے ہم خود مشکلات کو دعوت دے رہے ہیں۔”

صدر ٹرمپ نے اتوار کو کہا تھا کہ اب وہ بہت بہتر محسوس کر رہے ہیں اور اب کوئی دوا بھی نہیں لے رہے۔

نشریاتی ادارے ‘فاکس نیوز’ سے گفتگو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “میں اس خوف ناک چینی وائرس کو شکست دے چکا ہوں۔”

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “مجھے لگتا ہے کہ اس وائرس کے خلاف مجھ میں قوتِ مدافعت پیدا ہو گئی ہے۔ یہ کچھ وقت، لمبے عرصے یا زندگی بھر کے لیے بھی ہو سکتی ہے۔”

ڈاکٹر فاؤچی نے ‘سی این این’ کو بتایا کہ کرونا سے صحت یاب ہونے والا فرد ایک مخصوص دورانیے کے لیے اس سے محفوظ رہتا ہے۔ لیکن کچھ کیسز ایسے بھی سامنے آئے ہیں جن میں مریض ہفتوں یا مہینوں بعد دوبارہ وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔

اپنے انٹرویو کے کچھ دیر بعد صدر ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ “مجھ میں اس وائرس کے خلاف قوتِ مدافعت آ چکی ہے۔ لہذٰا یہ دوبارہ اب مجھے نہیں ہو سکتا۔ یہ جان کر مجھے اچھا لگا۔”

بعدازاں ٹوئٹر نے صدر کی اس ٹوئٹ کو غلط معلومات کی ترویج روکنے کی پالیسی کے تحت اسے شیئر کرنے کا آپشن غیر فعال کر دیا۔ تاہم فیس بک نے صدر کی اسی پوسٹ کے حوالے سے کوئی اقدام نہیں اُٹھایا تھا۔

https://cloudfront-us-east-1.images.arcpublishing.com/bostonglobe/JGZEV33BUCOE2IYU52L4SJARX4.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: