کراچی میں پی ڈی ایم کے جلسے کے بعد کیپٹن (ر) صفدر گرفتار

کراچی میں پی ڈی ایم کے جلسے کے بعد کیپٹن (ر) صفدر گرفتار

کراچی کی پولیس نے حزبِ اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے خاوند کیپٹن (ر) صفدر اعوان کو مزارِ قائد پر سیاسی نعرے لگانے کے مقدمے میں گرفتار کر لیا ہے۔

کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب اتوار کو حزبِ اختلاف کی گیارہ جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے کراچی میں ایک بڑے جلسے کا انعقاد کیا تھا۔ اس جلسے کی میزبانی پیپلز پارٹی نے کی تھی۔

جلسے سے قبل کیپٹن صفدر، اہلیہ اور کارکنان کے ہمراہ اتوار کی دوپہر مزارِ قائد پہنچے تھے جہاں انہوں فاتحہ خوانی کے بعد ووٹ کو عزت دو اور مادرِ ملت زندہ باد کے نعرے لگوائے تھے۔

کیپٹن صفدر کی نعرے بازی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد بریگیڈ تھانے میں ایک شہری کی مدعیت میں اُن کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

پولیس نے پیر کی علی الصباح کراچی کے نجی ہوٹل میں چھاپہ مارا اور کیپٹن (ر) صفدر کو حراست میں لے لیا۔

مریم نواز نے بھی خاوند کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے اپنی ایک ٹوئٹ میں الزام عائد کیا کہ پولیس نے اُن کے ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑنے کے بعد کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کر لیا ہے۔

مقامی میڈیا چینلز نے صفدر اعوان کی گرفتاری کی ویڈیوز بھی نشر کی ہیں جن میں اُنہیں پولیس کی گاڑی میں بیٹھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے صفدر اعوان کی گرفتاری پر کہا ہے کہ سندھ پولیس کا کیپٹن صفدر کی گرفتاری کا عمل قانون کے احترام کا بیانیہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ قائد اعظم کی قبر اور ان کا مزار کم ظرف سیاسی قیادت کے کھیل کا میدان نہیں بلکہ یہ ہر پاکستانی کے لیے مقدس ہے۔

فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ قائد اعظم کے مزار پر نعرے بازی، اور غیر سنجیدہ طرزِ عمل قانون کے خلاف ہے جس پر سزا ہونی چاہیے۔

سندھ کے وزیرِ تعلیم سعید غنی نے کہا ہے کہ جس انداز میں کیپٹن صفدر کو گرفتار کیا گیا اس کی مذمت کرتے ہیں۔ صوبائی حکومت کی ہدایت پر یہ گرفتاری نہیں ہوئی۔

اُن کے بقول کیپٹن صفدر کی گرفتاری اپوزیشن جماعتوں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی سازش ہے۔

یاد رہے کہ اتوار کو باغِ جناح میں منعقدہ جلسے سے اپوزیشن رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کی حکومت پر کڑی تنقید کی تھی اور اسے کٹھ پتلی اور غیر منتخب حکومت قرار دیا تھا۔

جلسے سے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، مریم نواز، مولانا فضل الرحمن کے علاوہ پشتون تحفظ تحریک کے رہنما محسن داوڑ، بلوچستان نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، محمود خان اچکزئی اور اختر مینگل سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی خطاب کیا تھا۔

مریم نواز نے اپنی تقریر میں عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ پی ڈی ایم کا ابھی تو ایک ہی جلسہ ہوا ہے اور آپ اپنے ہوش و ہواس کھو بیٹھے ہیں۔ آپ یہ نہیں جانتے کہ دباؤ میں وقار کیسے برقرار رکھا جاتا ہے تو اپنے ساتھیوں سے مشورہ کر لیتے۔

مریم نواز نے اپنے والد کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے کرداروں اور اداروں کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچ دی ہے۔ پاکستان کی فوج ہماری ہے، ہم سب کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپنی جانوں کا نذرانہ دینے والے اُن فوجیوں کو سلام پیش کرتے ہیں جن کی وردیوں پر خون کے دھبے ہیں، جنہوں نے اپنے بیٹے قربان کیے اُنہیں نواز شریف اور پی ڈی ایم سلام پیش کرتے ہیں لیکن جو عوام کے ووٹوں کو بوٹوں کے نیچے روندتے ہیں اُنہیں سلام نہیں کرتے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ ہم تاریخ کے اہم موڑ پر ہیں، آج عدلیہ پر دباؤ ہے، میڈیا پر تالے ہیں اور پارلیمان میں بولنے کی اجازت نہیں ہے۔ تمام جمہوری طاقتوں کو یہ جنگ مل کر لڑنی ہے۔

بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا کہ عوام کے حقوق کا تحفظ کرنے والے تمام ادارے ایک ایک کر کے کھوکھلے کیے جا رہے ہیں۔ جب بھی جمہوری اداروں پر شب خون مارا جاتا ہے تو ملک کا ہر شہری اس کی زد میں آتا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم کٹھ پتلی حکومت کے ہاتھ پر کبھی بیعت نہیں کریں گے۔ ہمیں ڈرایا دھمکایا گیا لیکن ہم آج بھی اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: