کتے سے کھیلتے ہوئے جو بائیڈن کے پیر میں فریکچر

کتے سے کھیلتے ہوئے جو بائیڈن کے پیر میں فریکچر

امریکہ کے نومنتخب صدر جو بائیڈن کے پیر میں فریکچر ہونے کے بعد ڈاکٹروں نے انہیں آئندہ کئی ہفتوں تک مخصوص جوتا پہننے کی ہدایت کی ہے۔

نومنتخب صدر کے ذاتی معالج ڈاکٹر کیون اوکونر نے کہا ہے کہ نومنتخب صدر جو بائیڈن کے دائیں پیر کی دو ہڈیوں میں معمولی فریکچر کی نشان دہی ہوئی ہے جس کی وجہ سے انہیں اپنے دائیں پیر میں خصوصی جوتا پہننا ہو گا تاکہ وہ جلد صحت یاب ہو سکیں۔

ڈاکٹر کے بقول بائیڈن کے دائیں پیر کی دو ہڈیوں میں معمولی فریکچر ہفتے کو اس وقت ہوا جب وہ اپنے ایک پالتو کتے سے کھیل میں مصروف تھے۔

بائیڈن کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اتوار کو نو منتخب صدر ڈیلاویئر میں ہڈیوں کے ڈاکٹر کے پاس پیر کا معائنہ کرانے گئے۔

جو بائیڈن کے معالج کیون اوکونر نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ابتدائی ایکسرے میں تو کوئی فریکچر واضح نہیں ہوا تھا لیکن سی ٹی اسکین میں دائیں پیر کے درمیان کی دو چھوٹی ہڈیوں میں معمولی فریکچرز نظر آئے۔

جو بائیڈن کے پیر میں فریکچر اپنے دو سالہ جرمن شیفرڈ کتے ‘میجر’ سے کھیلتے ہوئے آئے ہیں۔

‘میجر’ نو منتخب صدر جوبائیڈن کے پاس 2018 سے ہے۔ قبل ازیں 2008 میں انتخابی مہم کے فوری بعد بھی انہوں نے ایک کتا ‘چیمپ’ پالا تھا۔ یہ دونوں کتے جرمن شیفرڈ نسل کے ہیں۔

جو بائیڈن کہہ چکے ہیں کہ یہ دونوں کتے وہ اپنے ساتھ وائٹ ہاؤس میں رکھیں گے۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ وہ اپنے ساتھ ایک پالتو بلی بھی وائٹ ہاؤس لا سکتے ہیں۔

رواں برس کے آغاز میں جوبائیڈن کی اہلیہ جل بائیڈن نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اُنہیں گھر میں اپنے ارد گرد جانوروں کا ہونا بہت پسند ہے۔

واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں ان کے پاس وائٹ ہاؤس میں کوئی پالتو جانور نہیں تھا۔

وائٹ ہاؤس کی تاریخ مرتب کرنے والوں کے مطابق گزشتہ لگ بھگ ایک صدی میں ایسا پہلی بار ہوا کہ وائٹ ہاؤس کے مکین کے پاس کوئی پالتو جانور نہیں تھا۔

سابق صدر براک اوباما کے پاس بھی دو کتے تھے۔ اس سے قبل جارج ڈبلیو بش نے وائٹ ہاؤس میں اپنے دورِ صدارت کے آٹھ سال کے دوران کئی پالتو جانور رکھے تھے۔

Photo Credit : https://hollywoodunlocked.com/wp-content/uploads/2020/11/5DCFBA42-E2DB-448E-ABAC-C834A370AA6F-594×372.jpeg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: