ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف افغانوں کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں: پی ٹی ایم

ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف افغانوں کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں: پی ٹی ایم

پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) نے اتوار کو شمالی وزیرستان کی تحصیل میران شاہ میں بھرپور طاقت کا مظاہرہ کیا۔

پی ٹی ایم کے جلسے سے مرکزی قائدین کے علاوہ مقامی رہنماؤں نے خطاب کے دوران اس عزم کو دہرایا کہ وہ پشتونوں کے حقوق کی لڑائی جاری رکھیں گے۔

پی ٹی ایم کے رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی محسن داوڑ نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ اُن کی تنظمیم کسی ​حد یا لکیر کی پابند نہیں۔ اُن کے بقول وہ ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف افغانوں کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

تنظیم کے قائد منظور پشتین نے اپنے خطاب میں کہا کہ لوگ سوچ رہے تھے کہ پی ٹی ایم ختم ہو گئی ہے لیکن جلسے کے شرکا اور ان کے نعرے پیغام دے رہے ہیں کہ پی ٹی ایم کو کوئی ختم نہیں کر سکتا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ قبائلی علاقوں میں ایک بار پھر ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں، جسے انہوں نے خطے کے حالات خراب کرنے کی سازش قرار دیا۔

منظور پشتین پاکستان فوج کے شدید ناقد سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر کے دوران ایک بار پھر الزام عائد کیا کہ طالبان پاکستان فوج کی پیداوار ہیں اور فوج کے جرنیلوں نے خود دعویٰ کیا ہے کہ یہ دہشت گرد ان ہی کی پیداوار ہیں۔

ان کے بقول جب کوئی اقرارِ جرم کرتا ہے تو اسے سزا ملنی چاہیے، انہوں نے عدلیہ سے مطالبہ کیا کہ اگر عدلیہ میں انصاف باقی ہے تو ایسے جرنیلوں کو سزا دے۔

جنوبی وزیرستان سے رکنِ قومی اسمبلی علی وزیر نے ماضی میں پشتونوں کے کاروبار اور املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ تاہم اب پی ٹی ایم ایسے ہر ظلم کے خلاف کھڑی ہو گی اور اپنے پشتون بھائیوں کا حساب مانگے گی۔

جلسے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر، پشتون رہنما افراسیاب خٹک اور عثمان کاکڑ نے بھی شرکت کی۔

فرحت اللہ بابر کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وزیرستان کے لوگوں نے سب سے زیادہ قربانی دی اور وہ اس قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں۔

حمارہ ہند نے خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات کامران بنگش سے رابطہ کیا تاکہ ٹارگٹ کلنگ میں اضافے اور پی ٹی ایم کے الزامات کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جاسکیں۔ تاہم ان کی طرف سے اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

پی ٹی ایم جلسے کے وقت علاقے میں موبائل فونز، پی ٹی سی ایل اور انٹرنیٹ سروسز معطل رہی۔ جلسے میں شرکت کے لیے آنے والوں کے لیے چیک پوسٹوں اور دیگر مقامات پر کوئی رکاوٹیں کھڑی نہیں کی گئی تھیں۔

Photo Credit : https://www.marxist.com/images/cache/02c902c340b6f4ddc8595240d404b748_w1000_h1000.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: