چلی میں عدم مساوات کے خلاف ہزاروں افراد کا مظاہرہ، دو چرچ نذرِ آتش

چلی میں عدم مساوات کے خلاف ہزاروں افراد کا مظاہرہ، دو چرچ نذرِ آتش

چلی کے دارالحکومت سانتیاگو میں اتوار کو ہزاروں مظاہرین نے عدم مساوات کے خلاف تحریک کو ایک سال مکمل ہونے پر شہر کے سینٹرل اسکوائر پر احتجاج کیا۔ اس دوران مشتعل افراد نے دو چرچوں کو بھی نذر آتش کر دیا۔

چلی میں یہ مظاہرے ایسے موقع پر ہوئے ہیں جب ملک میں ایک ہفتے بعد ریفرنڈم ہونا ہے جس میں عوام یہ فیصلہ کریں گے کہ اُنہیں آمرانہ دورِ کے دوران منظور ہونے والے آئین میں تبدیلی منظور ہے یا نہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس 18 اکتوبر کو چلی میں میٹرو کے کرائے بڑھانے کے ردِ عمل میں مظاہرے پھوٹ پڑے تھے جو جلد ہی ملک بھر میں معاشی ناانصافی اور حکومت کے خلاف بڑے مظاہروں میں بدل گئے تھے۔

ان مظاہروں نے ملک کے کئی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور مظاہرین کا آئین میں ترمیم کا مطالبہ سرِ فہرست تھا۔

اگرچہ اتوار کو صبح کے آغاز سے ہی پلازہ اٹالیہ میں ماحول جشن سے بھرپور تھا لیکن دوپہر تک پرتشدد واقعات، لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کے کئی واقعات رونما ہوئے۔

مظاہرین نے ایک چرچ کو مکمل طور پر نذرِ آتش کر دیا جب کہ دوسرے چرچ میں لوٹ مار کی گئی اور اسے آگ لگا دی جس سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ تاہم بعدازاں فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پالیا۔

سانتیاگو کے ایک علاقے میں فٹ بال کے شائقین کے مابین بھی جھڑپیں ہوئیں جب کہ مظاہرین نے پلازہ اٹالیہ میں ایک مجسمے کو سرخ رنگ سے بھی پینٹ کر دیا۔

مظاہرین نے سینٹرل اسکوائر کے کمیونسٹ میئر کو پزا اٹالیہ سے نکال باہر کیا اور انہوں نے ریفرنڈم کے دوران شہریوں سے نئے آئین کو ‘منظور’ ہے کو ووٹ دینے کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین نے کرونا وائرس کی وجہ سے ماسک پہن رکھے تھے۔ اکثر مظاہرین بینرز پکڑے ناچ گا رہے تھے جب کہ پولیس بھی پلازہ اٹالیہ سے پیچھے پوزیشن سنبھالے کھڑی تھی۔

ملک کے صدر سیبیسٹئین پنیرہ نے مظاہرین سے پر امن رہنے اور کرونا وائرس کی وجہ سے عائد پابندیوں کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ چلی میں اب تک 13 ہزار 600 افراد کرونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ کیسز کی تعداد چار لاکھ 90 ہزار سے زائد ہے۔

اتوار کو مظاہروں میں شامل شہری وویانہ ڈونسو نے خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “یہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہ چلی کے لیے بہت اچھا ہے۔ چلی کے عوام کے لیے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں۔”

چلی کے اخبار لی مونڈے ڈپلومیٹیک کے مینیجر اور صحافی وکٹر ہیوگو ڈی لا فیونٹے کے مطابق مظاہرین میں زیادہ تر خوشی پائی گئی اور اُن کا خیال ہے کہ مظاہروں کے بعد زیادہ منصفانہ اور جمہوری چلی پانے کی خواہش پوری ہونے والی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: