پی ڈی ایم کا پشاور جلسہ: اپوزیشن رہنماؤں کی حکومت اور اداروں پر پھر تنقید

پی ڈی ایم کا پشاور جلسہ: اپوزیشن رہنماؤں کی حکومت اور اداروں پر پھر تنقید


پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی حکومت اور اسٹبلشمنٹ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور اس کے “سلیکٹرز” کا احتساب ہونا چاہیے۔

اتوار کو پشاور میں اپوزیشن جماعتوں کے حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے دعوی کیا کہ موجودہ حکومت کچھ عرصے کی مہمان ہے اور جنوری تک موجودہ حکومت کا خاتمہ ہو جانا چاہیے۔

بلاول بھٹو نے ایک بار پھر قومی احتساب بیورو (نیب) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ نیب کو صرف اپوزیشن جماعتوں کے رہنما ہی احتساب کے لیے نظر آتے ہیں۔ اُں کا کہنا تھا کہ پاکستان کے سب سے مہنگے میٹرو بس پشاور منصوبے میں کرپشن پر نیب خاموش ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر آج وزیرستان میں پاکستان کا پرچم لہرایا جاتا ہے تو اس کی وجہ جمہوری نظام ہے۔

بلاول بھٹو نے ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب ملک میں نہ تو پنڈی کی مرضی چلے گی اور نہ ہی آبپارہ والوں کو اپنی من مانی کرنے دیں گے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے تحریک انصاف کی حکومت پر الزام لگایا کہ یہ دہشت گردوں کی سہولت کار ہے اور کہا کہ ہم اسے عوام کے خون سے ہولی نہیں کھیلنے دیں گے۔

خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے ایسے وقت میں پشاور میں جلسہ کیا ہے جب ملک میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر 300 سے زائد افراد کے اجتماعات پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

حکومت نے اعلان کیا تھا کہ اگر اپوزیشن جماعتوں کا جلسہ کرونا پھیلانے کا باعث بنا تو اس پر جلسہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ تاہم اپوزیشن نے ہر حال میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

جلسے سے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے بھی خطاب کرنا تھا۔ تاہم اپنی دادی کے انتقال کے باعث وہ مختصر وقت کے لیے اسٹیج پر آئیں اور کارکنوں کو اس خبر سے آگاہ کر کے جلسہ گاہ سے روانہ ہو گئیں۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ وہ حکومت کے خلاف جنگ کا اعلان کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب اشاروں کی باتیں ختم ہوگئی ہیں ہم واضح طور پر اپنا مؤقف پیش کررہے ہیں کہ ہمارے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھاندلی کرنے والوں کا ہمیں معلوم ہے کیوں کہ یہ جو نامعلوم ہے وہ ہمیں معلوم ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کا مزید کہنا تھا کہ وہ فوج اور اداروں کا احترام کرتے ہیں۔ وہ ان کا دفاعی ادارہ ہے۔ لیکن اگر وہ سیاسی ادارہ بنے گا تو ان پر تنقید کی جائے گی اور نام بھی لیے جائیں گے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے گلگت بلتستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح عجلت میں عوامی خواہشات کے برعکس قبائلی اضلاع کو ضم کیا گیا تھا۔ آج اسی طرح عجلت میں گلگت کے عوام سے پوچھے بغیر اسے صوبے کا درجہ دیا جارہا ہے، جو کہ ان کی حق خودارادیت کے منافی ہے۔

وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ بڑی وضاحت کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ دو سال کے عرصے میں پاکستان کی معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔

حکومتی رد عمل

پی ڈی ایم کے پشاور جلسے پر رد عمل دیتے ہوئے وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم جلسے میں لوگوں کی کم شرکت اپوزیشن پر عدم اعتماد ہے۔

جلسے کے شرکا کو پیغام دیتے ہوئے شبلی فراز کا کہنا تھا کہ وہ قرنطینہ میں چلے جائیں، اپنا بھی خیال رکھیں اور دوسروں کا بھی خیال رکھیں۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں اپنے زاتی مفادات کی خاطر عوام کی جان کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ اپوزیشن برائی کی سیاست کر رہی ہے اگر خدانخواستہ کرونا کی دوسری لہر قابو سے باہر ہوئی تو معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اُنہوں نے سوال اُٹھایا کہ کیا اپنے مذموم مقاصد میں ناکامی کے بعد کہیں اپوزیشن ایسا تو نہیں چاہتی؟

Photo Credit : https://static.toiimg.com/thumb/msid-78517264,width-1200,height-900,resizemode-4/.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: