پاکستان میں ڈیٹنگ ایپس پر پابندی، بعض کمپنیاں حکام سے بات چیت پر تیار

پاکستان میں ڈیٹنگ ایپس پر پابندی، بعض کمپنیاں حکام سے بات چیت پر تیار

انٹرنیٹ ڈیٹنگ ایپ ‘گرنڈر’ نے پاکستان کی جانب سے گرنڈر اور ٹنڈر سمیت دیگر تین ڈیٹنگ ایپس پر پابندی کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے گزشتہ ہفتے ٹنڈر، گرنڈر، ٹیگڈ، سکاؤٹ اور ‘سے ہائے’ پر یہ کہتے ہوئے پابندی لگا دی تھی کہ ان پر غیر اخلاقی مواد شیئر کیا جا رہا ہے۔

پی ٹی اے نے مذکورہ ایپس کے عہدے داروں سے کہا تھا کہ وہ اپنی لائیو اسٹریمنگ سروسز میں مقامی قوانین سے مطابقت پیدا کریں۔

‘گرنڈر’ کے چیف آپریٹنگ افسر رک مارینی نے کہا ہے کہ ہمیں پی ٹی اے کے اس اقدام سے بہت مایوسی ہوئی ہے جس میں گرنڈر سمیت ایسی ڈیٹنگ ایپس پر پابندی لگائی گئی ہے جن کے ذریعے پاکستانی شہری ایک دوسرے سے رابطے قائم کر سکتے ہیں۔

حمارا ہند کو ای میل میں ، انہوں نے کہا کہ ان کی ایپ اس بات پر غور کررہی ہے کہ وہ خطے میں ایل جی بی ٹی کیو برادری کی خدمت کیسے کرسکتی ہے۔

پاکستان میں غیر شادی شدہ افراد کے درمیان جنسی تعلقات اور ہم جنس پرستی غیر قانونی ہے، جب کہ مذکورہ ایپس خواجہ سراؤں اور ہم جنس پرست افراد کے لیے دنیا کی سب سے بڑی ایپس ہونے کی دعویدار ہیں۔

‘پی ٹی اے’ کی جانب سے حالیہ دنوں میں آن لائن مواد پر پابندیاں دیگر بڑے پلیٹ فارمز کے لیے بھی انتباہی پیغام کے طور پر دیکھی جا رہی ہیں۔

میچ گروپ کی موبائل ایپلی کیشن ‘ٹنڈر’ کے ترجمان کے مطابق موجودہ صورتِ حال میں ‘ٹنڈر’ پاکستان کے اندر نفاذ قانون کے اداروں کے ساتھ کام کرنے پر تیار ہے۔

انہوں نے حمارا ہند کو ایک ای میل میں بتایا کہ وہ پی ٹی اے سے اپنی مصنوع کے بارے میں معنی خیز گفتگو کرنے کے لئے تیار ہیں۔

دوسری جانب ‘گرنڈر’ نے اپنے بیان میں اس معاملے پر پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت پر کوئی بات نہیں کی۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے ‘پی ٹی اے’ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے یوٹیوب سے بھی کہا ہے کہ وہ اپنی بعض ویڈیوز کو پاکستان میں بلاک کر دے۔ ایک ہفتے کے دوران پی ٹی اے کی جانب سے یوٹیوب کو یہ دوسری بار ہدایت دی گئی تھی۔

اس سے قبل پاکستان میں 2016 تک یوٹیوب پر تین برس تک پابندی عائد رہی تھی۔

پاکستان میں آن لائن حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم ‘بولو بھی’ کے ڈائریکٹر اسامہ خلجی نے کہا ہے کہ اخلاقیات کی بنیاد پر ڈیٹا کو بلاک کرنے کا مطالبہ سوشل میڈیا کمپنیوں پر صارفین کا ڈیٹا حکومت کو فراہم کرنے اور ریاستی پالیسیوں پر تنقیدی آوازوں کو دبانے کا ذریعہ ہے۔

https://abc17news.b-cdn.net/abc17news.com/2020/09/hypatia-h_cc621be7c550b8559f9aa4a4102fc5b0-h_c7acd0bc00493688f604ddf7fb2c66ce_preview.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: