پاکستان میں بائیں بازو کے لکھاریوں کی کتب کیوں کم چھپ رہی ہیں؟

پاکستان میں بائیں بازو کے لکھاریوں کی کتب کیوں کم چھپ رہی ہیں؟


برصغیر پاک و ہند میں مزاحمتی اور بائیں بازو کی ادبی تحاریک کی تاریخ 1947 میں ہونے والی تقسیم ہند سے بھی پرانی ہے۔ اس زمانے کے ترقی پسند مصنفین نے لکھنے کے اصول وضح کیے اور ادب برائے زندگی کو اپنا موضوع بنایا۔

1936 میں ‘انڈین پروگریسو رائٹرز ایسوسی ایشن’ کے بانیوں میں دائیں بازو کی سوچ کے حامل سجاد ظہیر ملک، ڈاکٹر راج آنند اور ایم ڈی تاثیر اس تحریک کی بنیاد رکھنے والوں میں شامل تھے۔ تاہم تقسیمِ ہند کے بعد دسمبر 1947 میں ‘آل پاکستان پروگریسو رائٹرز ایسوسی ایشن’ کی بنیاد پڑی۔ جسے سبطِ حسن اور سعادت حسن منٹو جیسے اردو کے مصنفین کے علاوہ سندھ سے تعلق رکھنے والے لکھاریوں ابراہیم جویو اور سوبھو گیان چندانی جیسے کئی افراد نے زندہ رکھا۔

پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے 73 سالوں بعد یہ لبرل اور بائیں بازو کی آوازیں، کیا واقعی پاکستان کی ادبی دنیا میں کم ہو رہی ہیں یا مسئلہ پبلشرز کا بھی ہے؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کراچی میں واقع پبلشنگ ہاؤس ‘مکتبہ دانیال’ کی مالک حوری نورانی کا کہنا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ بائیں بازو کی سوچ کو چھپنے کا موقع نہیں مل رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ بائیں بازو کا فلسفہ نہیں ہے اسے کبھی بھی چھاپہ جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ جب پیدا ہوتا ہے جب مخصوص ریاستی اداروں کے بارے میں لکھا جائے۔

حوری نورانی کہتی ہیں کہ ان کا پبلشنگ ہاؤس ماضی قریب میں ایسے کئی مسائل سے نبرد آزما ہو چکا ہے جن میں کتاب کا موضوع ملٹری اسٹیبلشمنٹ تھا۔

سنہ 2019 میں مکتبہ دانیال نے صحافی اور مصنف محمد حنیف کی انگریزی تصنیف کا ترجمہ ‘پھٹے آموں کا کیس’ کے نام سے شائع کیا تھا۔

حوری کے مطابق ایک وقت آیا کہ یہ کتاب مختلف اسٹالز سے اٹھا لی گئی اور ان کے ادارے کو ریاستی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

تاہم وہ کہتی ہیں کہ بائیں بازو، لبرل یا سیکولر سوچ کے خلاف اقدامات کا سلسلہ آج شروع نہیں ہوا۔

اس بات سے ‘انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان’ کے مرکزی سیکریٹری جاوید آفتاب بھی متفق نظر آتے ہیں۔

حمارا ہند سے بات کرتے ہوئے ، انہوں نے کہا کہ بائیں بازو کے لوگ 80 سال سے زیادہ عرصے سے ادبی رسائل اور کتابیں شائع کررہے ہیں اور متعدد موضوعات پر گفتگو کر رہے ہیں جو دائیں طرف سے متصادم ہیں۔

لیکن اُن کے بقول صدر ایوب خان کی آمریت کے دور میں بائیں بازو کے لکھاریوں کی حوصلہ شکنی کے بعد جنرل ضیا کے دورِ آمریت میں زیادہ پابندیاں لگائی گئیں جب لبرل خیالات کے افراد کو قیدو بند کی صعوبتیں بھی اٹھانا پڑیں۔

جاوید آفتاب کہتے ہیں کہ دائیں بازو کو حکومتی مالی امداد ہر دور میں میسر رہی لیکن بائیں بازو والوں کے پاس اب ایسے وسائل ہی نہیں ہیں کہ وہ اب اپنے خیالات کو کتابی شکل دے سکیں۔

جاوید آفتاب اور حوری نورانی دونوں کا یہی کہنا ہے کہ دائیں بازو یا لبرل سوچ کے لکھنے والوں کی کمی بالکل نہیں ہے اور نہ ہی ان کے قارئین کم ہوئے ہیں۔ بلکہ مسئلہ ریاستی اداروں سے متعلق چبھتے ہوئے موضوعات پر کھل کر لکھنے سے پیدا ہوتا ہے۔

حوری نورانی کا کہنا ہے کہ ریاستی عمل دخل بڑھنے سے لکھنے اور چھاپنے والے دونوں افراد کے پاس اب ‘سیلف سینسر شپ’ کو اپنانے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔

حوری نورانی کا کہنا ہے کہ جب کسی کتاب کا مسودہ ان کے سامنے آتا ہے تو وہ بہتر سمجھتی ہیں کہ اس کو چھاپنے سے پہلے ایک نہیں بلکہ کئی بار سوچیں۔

ان کے مطابق بار ہا پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کے نتیجے میں ان کے اور ان جیسے دیگر ناشرین کے دماغوں میں ایک خوف بیٹھ چکا ہے اور شاید ان اقدامات کا مقصد بھی یہی تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں پر تنقید کے علاوہ جو دوسرا موضوع اشاعت کے حوالے سے دن بدن سنگینی اختیار کر رہا ہے وہ ہے مذہب۔

حوری نورانی کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بھی کتاب جس کا موضوع مذہب ہو، بہت دیکھ بھال کر چھاپنی پڑتی ہے۔

ان کا کہنا ہے اس کی ایک وجہ معاشرے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی عدم برداشت ہے جس کے سبب معاشرے میں کچھ ہٹ کر سوچنے والوں کی آوازیں آہستہ آہستہ مدہم ہو رہی ہیں۔

‘سیلف سینسر شپ کا مسئلہ کافی سنجیدگی اختیار کر چکا ہے۔’ یہ بات جمہوری پبلی کیشن کے بانی فرخ سہیل گوندی بھی مانتے ہیں۔

حمارہ ہند سے بات کرتے ہوئے ، انہوں نے کہا کہ کئی بار ایسا محسوس ہوا جیسے ناشر کی حیثیت سے جان اپنے ہاتھ کی ہتھیلی پر ہے۔

فرخ سہیل کے مطابق بہت سی کتب حساس موضوعات پر محض اس لیے چھپ کر بک بھی جاتی ہیں چوں کہ وہ انگریزی زبان میں ہوتی ہیں۔

ان کے بقول قومی زبان ہونے کی وجہ سے اردو یا دیگر علاقائی زبان میں چھپنے والی کتاب لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں افراد پڑھ سکتے ہیں۔ ان کے بقول ایسی کتاب کی پہنچ دور تک اور اثر گہرا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو میں چھپنے پر اسی کتاب کے انگریزی میں چھپنے کے مقابلے میں کہیں زیادہ طوفان برپا ہو جاتا ہے۔

ان کے مطابق دائیں بازو یا سیکولرازم کے فلسفے پر جتنی مرضی کتب شائع کریں۔ مسئلہ نہیں ہوتا جب تک کہ اس کو آج کے تناظر میں پیش نہ کیا جائے۔

جہاں روایتی اشاعت اور اشاعتی ادارے مختلف چیلنجز سے نمٹتے دکھائی دیتے ہیں، وہیں گزشتہ چند سال میں کئی آن لائن پلیٹ فارمز بھی سامنے آئے ہیں۔ جن پرحساس موضوعات پر کھل کر بات کی جارہی ہے۔

ان کا معاشرے پر کیا اثر ہے، اس کے جواب میں فرخ سہیل کہتے ہیں کہ کتابوں کے سنجیدہ قارئین، آن لائن پلیٹ فارمز پر ایک آدھ کالم پڑھ لینے والے افراد سے مختلف سوچ رکھتے ہیں۔ اس لیے ان مباحثوں کی افادیت ہے تو ضرور لیکن محدود ہے۔

حوری نورانی ان پلیٹ فارمز کو مزاحمت کا ایک مثبت ذریعہ قرارد دیتی ہیں۔


ان کے بقول جب لوگوں کی سوچ کا دائرہ تنگ کرنے کی کوشش کی جائے گی جیسے کہ اتنے سالوں میں کی گئی ہے تو وہ کہیں نہ کہیں اس پر اپنا رد عمل دیں گے اور ان اونچی ہوتی دیواروں کو پیچھے بھی دھکیلیں گے۔

دن بدن بڑھتی سینسر شپ کے بارے میں حوری نورانی کا کہنا ہے کہ مسئلہ یہ ہے کہ حالات ایک دن میں یہاں تک نہیں آئے بلکہ 70 سال میں آزادی اظہار کا دائرہ تنگ ہوتے ہوئے بات یہاں تک پہنچی ہے۔

ان کے بقول اگرچہ موجودہ حکومت ایک منتخب حکومت ہے لیکن گزشتہ فوجی آمریت کے ادوار میں بھی الفاظ پر اتنی پابندی نہیں لگی جتنی کہ آج ہے۔

ان کا کہنا ہے سوشل میڈیا کے لیے لائے جانے والے نئے قوانین کھل کر آزادی اظہار پر مزید پابندیوں کا سبب بن سکتے ہیں ۔

حلقہ مصنفین کے رکن ہوں یا پھر اشاعتی اداروں کے مالکان۔ ان کا ماننا ہے کہ موجودہ حالات بائیں بازو، سیکولر اور تنقیدی سوچ کے اظہار کے لیے سازگار نہیں۔ لیکن یہ پہلی بار نہیں ہو رہا۔

ان کے مطابق مصنفین اپنی انفرادی سوچ دوسروں تک پہنچانے کے لیے کتابیں بھی لکھیں گے اور دیگر پلیٹ فارمز کا استعمال بھی کرتے رہیں گے جب کہ قارئین اور عام شہری بھی اپنے بنیادی حق آزادی رائے کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔

لیکن ان تحفظات پر حکومت اور ریاستی اداروں کے ترجمان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ ملک میں اظہار رائے پر کوئی قدغن نہیں ہے۔

Photo Credit : https://citybook.pk/wp-content/uploads/2018/02/book-bank2-660×400.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: