پاکستان میں اشیا خور و نوش کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی مزید بڑھنے کا اندیشہ

پاکستان میں اشیا خور و نوش کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی مزید بڑھنے کا اندیشہ


پاکستان میں مہنگائی کی شرح گزشتہ کئی ماہ سے 10 فی صد سے کم ہونے کے باوجود اشیا خور و نوش کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔

اشیا خور و نوش کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی مزید بڑھنے کا اندیشہ برقرار ہے اور اکتوبر میں سالانہ بنیاد پر غذائی اشیا کی قیمتوں میں 16.53 فی صد اضافہ جب کہ ماہانہ بنیادوں پر 3.9 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ستمبر میں مہنگائی کی شرح 9.04 فی صد تھی۔ جو اکتوبر میں معمولی کمی کے ساتھ 8.91 فی صد ہو گئی۔

وزارتِ خزانہ کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ کچھ ماہ سے ضروری غذائی اشیا ٹماٹر، پیاز، مرغی، انڈے، چینی اور گندم کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ایک ماہ میں ٹماٹر 48 فی صد اور پیاز 39 فی صد مہنگی ہوئی ہے جب کہ اکتوبر میں مرغی 26.6 فی صد، انڈے 23.8 فی صد اور مصالحہ جات 38.5 فی صد مہنگے ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چینی اور گندم کی قیمت میں حالیہ مہینوں میں اضافہ ہوا ہے۔ چینی کی قیمت میں اکتوبر میں مزید 4.54 فی صد اضافہ ہوا۔ جب کہ ایک ماہ میں گندم 8.39 فی صد اور گندم سے تیار ہونے والی مصنوعات 8 فی صد مہنگی ہوئیں۔

تاہم سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تازہ پھلوں اور سبزیوں کی قیمت میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

قیمتوں میں اضافے کو اگر سالانہ بنیاد پر دیکھا جائے تو گندم کی قیمت 52.21 فی صد، آٹا 24.67 فی صد، چاول 8.6 فی صد، انڈے 43.32 فی صد اور چینی 32.97 فیصد بڑھی۔

وزیرِ اعظم نے حالیہ ہفتوں میں مہنگائی میں اضافے پر کئی بار اپنی تشویش ظاہر کی ہے اور وفاقی وزرا کو قیمتوں میں کمی کے اقدامات کی ہدایات جاری کی ہیں۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے حالیہ مہنگائی کی وجہ ذخیرہ اندوزی کو قرار دیا دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خلاف اقدامات سے قیمتوں میں جلد کمی کو ممکن بنایا جائے گا۔

معاشی تجزیہ کار علی خضر کہتے ہیں کہ اگر شہروں میں غیر غذائی اشیا کی مہنگائی کی شرح دیکھیں تو 3.6 فی صد ہے اور اگر دیہات میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ دیکھیں تو یہ 17.07 ہے جو کہ بہت بڑا فرق ہے۔

حمارہ ہند سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر کی وجہ سے ، غیر خوردنی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہو رہا ہے۔

علی خضر کے مطابق حکومت اشیا خور و نوش کی فراہمی یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے۔ جب کہ اسٹاک کی دستیابی اور بر وقت درآمد کے اقدامات نہ ہونے سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔

صارفین کے حقوق کی تنظیم کے صدر محسن بھٹی کہتے ہیں کہ مہنگائی کے یہ اعداد و شمار عوام پر دُگنا اثر کر رہے ہیں اور روز مرہ کی اشیا ضروریہ بھی عوام کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی ایک وجہ حکومت کی عمل داری اور قیمتوں کے تعین کا مناسب نظام کا نہ ہونا ہے۔

محسن بھٹی کہتے ہیں کہ اضلاع کی سطح پر پرائس کنٹرول اتھارٹی کے قیام سے حکومت غیر حقیقت پسندانہ مہنگائی پر قابو پا سکتی ہے۔

حکومت نے رواں مالی سال کے لیے سالانہ افراطِ زر کی حد 6 فی صد مقرر کی تھی لیکن مہنگائی کی یہ شرح فروری میں ہی تجاوز کر گئی تھی۔

حکومت نے فروری میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کنٹرول کرنے کے لیے اشیا خور و نوش کی قیمتوں پر سبسڈی کے لیے 10 ارب روپے کا پیکیج کا اعلان کیا تھا۔

Photo Credit : https://quintype-dropbox.s3-accelerate.amazonaws.com/bloombergquint.quintype.com/2019-06-25/1240/327066001.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: