ٹوئٹر آؤٹ آف کنٹرول ہو گیا: ٹرمپ کا شکوہ

ٹوئٹر آؤٹ آف کنٹرول ہو گیا: ٹرمپ کا شکوہ

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی الیکشن میں کامیابی کے دعوؤں یا دھاندلی پر مبنی ٹوئٹس پر خصوصی لیبل لگا رہا ہے یا اُنہیں ہائیڈ کر رہا ہے۔ اس پر صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر سے شکوہ بھی کیا ہے۔

امریکہ میں منگل کو صدارتی انتخابات کے دن سے اب تک ٹوئٹر ری پبلکن امیدوار صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کئی ٹوئٹس پر لیبل لگا چکا ہے کہ اس ٹوئٹ میں موجود معلومات گمراہ کن یا حقائق کے خلاف ہو سکتی ہیں۔

البتہ ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن کی اب تک ایسی کوئی بھی ٹوئٹ نہیں جس پر ٹوئٹر نے کسی قسم کا لیبل لگایا ہو۔

الیکشن کے دن سے لے کر اب تک صدر ٹرمپ کی کم از کم 10 ٹوئٹس ایسی ہیں جن پر ٹوئٹر نے اپنی پالیسی کے مطابق وارننگ لیبل لگایا ہے۔

ٹوئٹر نے امریکی انتخابات سے قبل ہی آگاہ کر دیا تھا کہ وہ الیکشن سے متعلق گمراہ کن معلومات کو اپنے پلیٹ فارم سے روکنے کے لیے اقدامات کرے گا۔

تین نومبر کو ہونے والے امریکی انتخابات کے اگلے روز ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کی اس ٹوئٹ پر لیبل لگا دیا تھا جس میں انتخابات میں کامیابی کا دعویٰ اور دھاندلی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

پانچ نومبر کو صدر ٹرمپ نے پھر دعویٰ کیا کہ وہ ابتدائی نتائج میں کئی ریاستوں میں آگے تھے لیکن جادوئی طور پر وہ سب ریاستیں غائب ہوتی گئیں۔

صدر ٹرمپ کی اس ٹوئٹ پر بھی ٹوئٹر نے لیبل لگاتے ہوئے اسے ہائیڈ کر دیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے ریاست پینسلوینیا میں بھی دھاندلی کا الزام لگایا تھا۔

بعد ازاں انہوں نے پینسلوینیا کے ساتھ ساتھ جارجیا اور نارتھ کیرولائنا میں بھی دھاندلی کے الزامات لگانا شروع کیے۔

گزشتہ روز امریکی صدر نے ایک ٹوئٹ کی جس میں کہا گیا تھا کہ وہ ووٹ جو الیکشن کے دن کے بعد موصول ہوگا، وہ شمار نہیں کیا جائے گا۔

ان کے اس ٹوئٹ پر بھی ٹوئٹر نے اپنی پالیسی کے مطابق لیبل لگایا کہ اس میں موجود مواد متنازع یا گمراہ کن ہو سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو اپنے حریف جوبائیڈن کی مختلف ریاستوں کے ابتدائی نتائج میں برتری کے حوالے سے بھی ایک ٹوئٹ کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جوبائیڈن نے جن ریاستوں میں حالیہ برتری حاصل کی ہے ان تمام کو دھاندلی اور انتخابی بدعنوانی کے باعث قانونی طور پر چیلنج کیا جائے گا۔

صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ اس حوالے سے کئی شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ وہ ذرائع ابلاغ کا مشاہدہ کریں اور ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی دہرایا تھا کہ “ہم ہی جیتیں گے۔

صدر ٹرمپ نے جمعے کو بھی متعدد ٹوئٹس کیں جن پر ٹوئٹر نے اپنی پالیسی کے مطابق لیبل لگائے۔

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی بریفنگ کی ویڈیو شیئر کی تو اس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی طور پر ڈالے گئے ووٹوں سے وہ باآسانی انتخاب جیت گئے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتخابی مبصرین کو کسی بھی صورت کام کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ مبصرین کی غیر موجودگی میں ڈالے گئے ووٹوں کو لازمی غیر قانونی قرار دیا جانا چاہیے۔

اس ویڈیو میں انہوں نے تاخیر سے موصول ہونے والے ووٹ شمار کرنے کی کوشش کا ایک بار پھر ذکر کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے میڈیا بریفنگ سے متعلق نشریاتی ادارے ‘فاکس نیوز’ پر نشر ہونے والا ایک کلپ بھی شیئر کیا ہے جس پر ٹوئٹر نے لیبل لگایا ہے۔ اس ویڈیو میں صدر ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ کسی کو انتہائی اہم انتخابات چوری کرنے کے لیے دھاندلی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صدر نے ایک اور ویڈیو بھی شیئر کی ہے جس پر ٹوئٹر کا لیبل لگا ہوا ہے۔

ٹوئٹر کی جانب سے پے در پے لیبل لگائے جانے پر صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ٹوئٹر “آؤٹ آف کنٹرول” ہو چکا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ‘بلوم برگ’ کی رپورٹ کے مطابق ٹوئٹر دنیا کے اہم رہنماؤں کے حوالے سے عمومی صارفین کے مقابلے میں خصوصی پالیسی اختیار کرتا ہے۔

ٹوئٹر کی اس پالیسی کے تحت ہر اس ٹوئٹ پر خصوصی نوٹ لگا دیا جاتا ہے جس میں اس کی پالیسی کے خلاف مواد موجود ہو یا جس سے دیگر صارفین کو گمراہ کیا جا رہا ہو۔

عمومی صارفین کے ایسے ٹوئٹس ڈیلیٹ کر کے ان کو تنبیہ کی جاتی ہے جب کہ عالمی رہنماؤں کے ٹوئٹس ہائیڈ کرنے کے بعد اس پر تنبیہ کا نوٹ لگا دیا جاتا ہے کہ اس ٹوئٹ میں موجود مواد درست نہیں ہے۔

ٹوئٹر کی اس پالیسی کا مقصد یہ ہے کہ دنیا بھر میں لوگ عالمی رہنماؤں کے، چاہے وہ گمراہ کن معلومات شیئر کر رہے ہوں، خیالات سے آگاہ ہوتے رہیں۔

رپورٹ کے مطابق اگر ڈونلڈ ٹرمپ انتخاب ہار گئے تو ٹوئٹر ان کے حوالے سے اپنی پالیسی کی خلاف ورزی پر کیے جانے والے خصوصی اقدامات جنوری میں اُس وقت ختم کر سکتا ہے جب ان کے عہدے کی مدت مکمل ہو جائے گی۔

Photo Credit : https://s.yimg.com/ny/api/res/1.2/XJxHIcHziRN1gqc3Vl2GNw–/YXBwaWQ9aGlnaGxhbmRlcjt3PTk2MDtoPTY0MC4wNjQzOTkyNzU1MDgx/https://media-mbst-pub-ue1.s3.amazonaws.com/creatr-images/2020-06/eb492150-a806-11ea-8f79-8681c386bd4e

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: