ووٹوں کی گنتی میں فراڈ کا الزام، ری پبلکنز کا تین ریاستوں میں عدالت سے رُجوع

ووٹوں کی گنتی میں فراڈ کا الزام، ری پبلکنز کا تین ریاستوں میں عدالت سے رُجوع


امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی پر تحفظات کا اظہار کرنے والے صدر ٹرمپ کی جماعت نے تین ریاستوں پینسلوینیا، مشی گن اور جارجیا میں گنتی رکوانے کے لیے عدالت سے رُجوع کر لیا ہے۔

ری پبلکن پارٹی کی انتخابی مہم کا کہنا ہے کہ پینسلوینیا اور نیواڈا میں ری پبلکن جماعت کے نمائندوں کو ان مقامات کا دورہ کرنے کی اجازت دی جائے۔ جہاں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

اس کے علاوہ ریاست مشی گن میں دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈیمو کریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی سیکریٹری آف اسٹیٹ کی موجودگی میں ووٹوں کی گنتی کے دوران غیر جانب دار مبصرین موجود نہیں تھے۔

ریاست جارجیا کی کیتھم کاؤنٹی میں دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ریاست یقینی بنائے کہ ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں پر ریاستی قوانین کا اطلاق ہوا ہے یا نہیں۔

ری پبلکن انتخابی مہم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ ریاست جارجیا کی دیگر متعدد کاؤنٹیز میں بھی ایسی ہی قانونی چارہ جوئی کرنے سے متعلق سوچ رہے ہیں۔

ری پبلکن انتخابی مہم کے ڈپٹی منیجر جسٹن کلارک کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ ریاست پینسلوینیا میں ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے ووٹوں کی گنتی کے معاملے پر بھی مداخلت کرے۔

انتخابی مہم کے منیجر بل اسٹیپئن کا کہنا ہے کہ وہ ریاست وسکونسن میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا بھی مطالبہ کریں گے۔ ان کی طرف سے وسکونسن کی متعدد کاؤنٹیز میں بے ضابطگیوں کا بھی الزام لگایا گیا تاہم ان کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

دوسری طرف صدارتی امیدوار جو بائیڈن کا بدھ کو کہنا تھا کہ تمام ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری رہنا چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ “ہم کسی کو یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہم سے جمہوریت کو دُور لے جائے۔”

ڈیموکریٹس کی انتخابی مہم کے ترجمان اینڈریو بیٹس کا کہنا تھا کہ جو جماعت انتخاب جیتنے کے دعوے کر رہی ہو وہ کبھی عدالت سے رُجوع نہیں کرتی۔

بیٹس کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے صرف ان ریاستوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جہاں وہ ہار چکے ہیں جب کہ وہ اُن ریاستوں میں گنتی رکوانا چاہتے ہیں جہاں سے وہ ہار رہے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکہ میں ہر انتخابات میں بذریعہ ڈاک موصول ہونے والے ووٹوں کی تصدیق میں قدرے زیادہ وقت لگتا ہے۔ تاہم اس سال کرونا وبا اور دیگر وجوہات کی بنا پر ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے ووٹوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے پہلے کی نسبت زیادہ وقت لگ رہا ہے۔ جس کی وجہ سے امریکی عوام میں انتخابی نتائج جاننے سے متعلق بے چینی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

Photo Credit : https://dynaimage.cdn.cnn.com/cnn/digital-images/org/2f3cc2d0-e015-40b3-bff6-a9d97742763a.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: