ناگورنو کاراباخ میں جنگ بندی کے باوجود چار فوجی ہلاک ہوئے: آذربائیجان

ناگورنو کاراباخ میں جنگ بندی کے باوجود چار فوجی ہلاک ہوئے: آذربائیجان

آذربائیجان نے کہا ہے کہ گزشتہ ماہ کی ناگورنو کاراباخ میں جنگ بندی معاہدے کے باوجود جھڑپوں میں اس کے چار فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

ہفتے کو آذربائیجان کے حکام نے کہا کہ یہ ہلاکتیں ان علاقوں میں ہوئیں جن کا کنٹرول اس نے نو نومبر کی جنگ بندی سے قبل حاصل کر لیا تھا۔

جمعے کو دونوں ممالک نے روس کی مداخلت سے ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے تھے۔

ابھی یہ بات واضح نہیں ہوا کہ آذربائیجان کے یہ چار فوجی کن علاقوں میں جھڑپوں کے دوران ہلاک ہوئے۔

دریں اثنا آرمینیا کی وزارتِ خارجہ نے آذربائیجان پر الزام لگایا ہے کہ اس نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔

لیکن آرمینیا کے حکام نے اس سلسلے میں کوی تفصیل نہیں دی۔ اس سے پہلے آرمینیا کی وزارتِ دفاع نے بھی آذربائیجان پر ہاردت کے علاقے میں آرمینیا کے زیرِ کنٹرول اس کے ٹھکانوں پر حملے کا الزام لگایا تھا۔


نومبر میں فریقین نے روس کی مدد سے جنگ بندی کے سمجھوتے پر اتفاق کیا تھا۔ جس کے تحت روس نے لڑائی کے علاقے میں دو ہزار امن قائم کرنے والی فوج کو تعینات کیا۔

یاد رہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان نو نومبر کو ہونے والا امن معاہدہ چھ ہفتے کی جنگ کے بعد طے پایا۔ اس جنگ میں آذربائیجان کی فوجوں نے مقامی علیحدگی پسندوں کو شکست دی اور دھمکی دی تھی کہ وہ سٹیپناکارٹ کی جانب پیش قدمی کریں گے۔

اس معاہدے کے مطابق آرمینیا ان سات اضلاع کا کنٹرول چھوڑ دے گا جنہیں اس نے 1990 کی دہائی میں ہونے والی جنگ کے دوران حاصل کیا تھا۔ بہت سے آذربائیجانی جو اس علاقے کو چھوڑ گئے تھے وہ اب واپس آنے کا سوچ رہے ہیں۔

ناگورنو کاراباخ’ کا پس منظر

امریکی تھنک ٹینک کونسل فار فارن ریلیشنز اور دیگر آن لائن ذرائع کے مطابق سوویت حکومت نے 1920 میں ‘ناگورنو کاراباخ’ کے نام سے ایک خود مختار علاقہ تشکیل دیا تھا جہاں 95 فی صد آبادی نسلی اعتبار سے آرمینیائی باشندوں پر مشتمل تھی اور ان کے ساتھ آذربائیجان کے لوگ بھی اس خطے کا حصہ تھے۔

بالشویک رول کے تحت آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان لڑائی پر کنٹرول رکھا گیا لیکن سوویت یونین جب ٹوٹنا شروع ہوا تو اس کا آرمینیا اور آذربائیجان پر بھی کنٹرول کمزور ہو گیا۔

اسی دوران ‘ناگورنو کاراباخ’ کی قانون ساز اسمبلی نے آرمینیا کا حصہ بننے کی ایک قرار داد منظور کی، باوجودیکہ یہ علاقہ محلِ وقوع کے اعتبار سے آذربائیجان کی سرحد کے زیادہ قریب تھا۔

جب 1991 میں سوویت یونین پر زوال آیا تو اس خود مختار علاقے نے باضابطہ طور پر آزادی کا اعلان کر دیا۔ اُس موقع پر آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جنگ چھڑ گئی جس کے نتیجے میں 30 ہزار افراد ہلاک و زخمی ہوئے اور ہزاروں افراد کو پناہ لینے پر مجبور ہونا پڑا۔

سن 1993 میں آرمینیا نے ‘ناگورنو کاراباخ’ پر کنٹرول حاصل کیا اور آذربائیجان کے 20 فی صد علاقے پر بھی قبضہ کر لیا۔

اگلے سال یعنی 1994 میں ایک منسک گروپ تشکیل دیا گیا جس کا مقصد اس تنازع کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کرنا تھا۔ اس گروپ کی سربراہی امریکہ، روس اور فرانس نے مشترکہ طور پر کی۔

گروپ نے آرمینیا اور آذربائیجان کی قیادت کے درمیان ملاقاتوں کا اہتمام کیا جس کے بعد ایک بار پھر جنگ بندی پر اتفاق تو ہو گیا لیکن یہ تنازع اسی طرح اپنی جگہ موجود رہا اور دو دہائیوں کے نسبتاً استحکام کے بعد 2016 میں ایک مرتبہ پھر فریقین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

2016 میں دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا اور بارہا جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہوتی رہیں۔

Photo Credit : https://s.yimg.com/ny/api/res/1.2/xmvE6m77s2LrzjRmrJMmtA–/YXBwaWQ9aGlnaGxhbmRlcjt3PTk2MDtoPTU2Ni4yNzI2MTc2MTE1ODAy/https://s.yimg.com/uu/api/res/1.2/Nxampq.rA7PhG_PdZ34JVw–~B/aD0xOTU2O3c9MzMxNjthcHBpZD15dGFjaHlvbg–/https://media.zenfs.com/en-US/time_72/4bbe5243a8f8fd802b91788ed360a0bb

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: