موٹر وے گینگ ریپ کیس: خاتون سے زیادتی ثابت، ملزمان تاحال مفرور

موٹر وے گینگ ریپ کیس: خاتون سے زیادتی ثابت، ملزمان تاحال مفرور

موٹروے گینگ ریپ کیس کی میڈیکل رپورٹ میں خاتون سے زیادتی ثابت ہو گئی ہے مگر پولیس تاحال ملزموں تک پہنچنے میں ناکام ہے۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے حکومتِ پنجاب نے دو کمیٹیاں بھی تشکیل دے دی ہیں۔

وزیرِ اعلٰی پنجاب عثمان بزدار نے لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹروے کے قریب خاتون کے ساتھ ریپ اور ڈکیتی کے مقدمے کی تفتیش اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے دو الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔

ایک کمیٹی کی سربراہی صوبائی وزیرِ قانون راجا بشارت جب کہ دوسری کمیٹی کی سربراہی ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کریں گے۔

راجا بشارت کی سربراہی میں قائم کی جانے والی کمیٹی میں محکمۂ داخلہ پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری، ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ پنجاب، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب اور ڈائریکٹر جنرل پنجاب فارینزک سائنس ایجنسی شامل ہیں۔

آئی جی پنجاب انعام غنی نے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور شہزادہ سلطان کی سربراہی میں چھ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔

اس ٹیم کے ارکان میں آر او اسپیشل برانچ لاہور جہانزیب نذیر، ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور ذیشان اصغر، آر او سی ٹی ڈی لاہور نصیب اللہ خان، ایس پی سی آئی اے لاہور عاصم افتخار اور انچارج جینڈر کرائمز سول لائنز لاہور فضہ اعظم شامل ہیں۔

کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) لاہور عمر شیخ کے مطابق متاثرہ خاتون کی میڈیکل رپورٹ سے جنسی زیادتی کی تصدیق ہو گئی ہے۔

لاہور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر شیخ نے کہا کہ تین سے پانچ کلو میٹر کے علاقے میں واردات ہوئی جس کے دوران ملزمان نے متاثرہ خاتون کی گاڑی کا شیشہ توڑا۔ جائے وقوعہ سے ملزموں کے خون کے نمونے ملے ہیں۔۔

اُن کے بقول اب تک 14 مشتبہ افراد کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ مشتبہ افراد کے ڈی این اے سیمپلز فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں اور جائے وقوعہ کی جیو فینسنگ بھی مکمل کر لی گئی ہے۔

پولیس نے جائے وقوعہ کے اطراف میں موجود کارخانوں اور فیکٹری ملازمین کے کوائف اکھٹے کرنا شروع کر دیے ہیں۔

ملزمان کا سراغ لگانے کے لیے پولیس کی چار ٹیمیں تفتیش میں مصروف ہیں۔ تحقیقاتی ٹیموں نے ڈی این اے سمیت دیگر اہم شواہد جمع کر لیے ہیں اور سی سی ٹی وی کیمروں سے فوٹیج بھی حاصل کرلی ہے۔

سی سی پی او لاہور کے ہمراہ جمعرات کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان کے مشیر برائے احتساب و داخلہ شہزاد اکبر نے کہا کہ موٹروے پر بچوں کے سامنے خاتون کے ساتھ ہونے والا زیادتی کا واقعہ انتظامیہ کی نا اہلی ہے۔ اس واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی سی پی او عمر شیخ کو تحقیقات کی ہدایت کر دی گئی ہے اور جائے وقوعہ سے تمام شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔

سی سی پی او کے بیان کا دفاع

ریپ کی شکار خاتون سے متعلق سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے بیان میں سوشل میڈیا اور مقامی ذرائع ابلاغ میں شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

عمر شیخ نے مقامی میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ خاتون رات ساڑھے 12 بجے گوجرانوالہ جانے کے لیے نکلیں۔ اُنہیں موٹروے کے بجائے جی ٹی روڈ سے سفر کرنا چاہیے تھا۔ اس طرف سے ہی جانا تھا تو کم از کم گاڑی میں پیٹرول ہی چیک کر لیتیں۔

جمعرات کو پریس کانفرنس کے دوران مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ ​سی سی پی او کے بیان کا غلط مطلب نکالا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کلچر تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آئندہ چند دنوں میں جرائم کی شرح کم ہو گی۔

سیاسی جماعتوں کی مذمت

موٹر وے کے قریب خاتون سے زیادتی کے واقعے پر سیاست دانوں، مذہبی رہنماؤں، انسانی حقوق کی تنظیموں، سول سوسائٹی کے ارکان اور معاشرے کے ہر طبقے کی جانب سے مذمت کی جا رہی ہے اور ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ موٹروے پر اجتماعی زیادتی و بے حرمتی کے واقعے کا سن کر دل دہل گیا ہے۔ اس وحشیانہ کارروائی میں ملوث تمام افراد کو کیفر کردار تک پہنچا کر نشان عبرت بنانا لازم ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ متاثرہ خاتون کو جلد از جلد انصاف فراہم کیا جائے اور ایسے واقعات کی روک تھام کیے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

دوسری جانب سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ چیئرمن انسانی حقوق کمیٹی مصطفٰی نواز کھوکھر نے سیکریٹری مواصلات، آئی جی پولیس اور آئی جی موٹرویز کو 16 ستمبر کو طلب کر لیا ہے۔

یاد رہے خاتون سے زیادتی کا واقعہ نو اور 10 ستمبر کی درمیانی شب پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے گجرپورہ میں رنگ روڈ پر پیش آیا۔

متاثرہ خاتون اپنے بچوں کے ہمراہ گاڑی میں لاہور سے گوجرانوالہ جا رہی تھیں۔ راستے میں پیٹرول ختم ہونے پر گاڑی رنگ روڈ پر رک گئی تھی۔

پریشانی میں خاتون گاڑی سے باہر نکلیں اور مدد کے لیے اپنے ایک عزیز، موٹروے پولیس ہیلپ لائن 130 اور پولیس ہیلپ لائن 15 پر فون کیا۔ لیکن اِسی اثنا میں دو مسلح ڈاکو وہاں پہنچ گئے۔

ڈاکوؤں نے خاتون پر تشدد کیا اور پھر زبردستی قریبی کرول جنگل میں لے جا کر بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

پولیس نے واقعے کے خلاف تھانہ گجر پورہ میں دو نامعلوم ملزمان کےخلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ جس کے مطابق ڈاکو ایک لاکھ روپے نقد، طلائی زیورات و دیگر اشیا بھی لوٹ کر فرار ہو گئے۔

https://www.thestatesman.com/wp-content/uploads/2020/05/rape.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: