مدارس پر قانون سازی کے خلاف مذہبی رہنماؤں کا تحریک چلانے کا اعلان

مدارس پر قانون سازی کے خلاف مذہبی رہنماؤں کا تحریک چلانے کا اعلان

پاکستان کے بعض مذہبی رہنماؤں نے مدارس کے نظام میں تبدیلی کے لیے پارلیمنٹ سے منظور کردہ قانون سازی کو مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔

مدارس سے متعلق قانون سازی کے خلاف نو تشکیل شدہ اتحاد ‘تحریک تحفظ مساجد و مدارس’ کے زیر انتظام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ وقف املاک بل 2020 ایف اے ٹی اے ایف کے دباؤ پر بنایا گیا اور وہ اس قانون کی ہر سطح پر مزاحمت کریں گے۔

پچھلے سال ستمبر میں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں حکومت ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی منظور کرانے میں کامیاب ہوئی تھی۔

اس قانون سازی میں وقف املاک بل 2020 بھی شامل تھا۔ جس کے تحت حکومت کو وقف املاک پر قائم تعمیرات کی منی ٹریل معلوم کرنے اور آڈٹ کا اختیار ہو گا اور وقف کی زمینوں پر قائم تمام مساجد، امام بارگاہ اور مدارس وفاق کے انتظام میں آ جائیں گی۔

کانفرنس میں مفتی منیب کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مذہبی پابندیاں قبول نہیں اور اگر لگانے کی کوشش کی تو مخالفت کریں گے۔

مفتی منیب الرحمن نے اسپیکر قومی اسمبلی سے کہا کہ وہ اپنے وعدے کے مطابق اس بل میں ترامیم منظور کرائیں۔

خیال رہے کہ مفتی منیب الرحمن کو رواں ہفتے ہی رویت ہلال کمیٹی کی سربراہی سے ہٹایا گیا ہے، جس پر وہ دو عشروں سے زائد عرصہ تک براجمان رہے۔

اس کانفرنس سے جمعیت علماء اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا غفور حیدری اور جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے بھی خطاب کیا۔

مذہبی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ مدارس کی رجسٹریشن کے نام پر رکاوٹیں کھڑی کرنا قابل قبول نہیں ہے اور ان کے بقول اسلامی تعلیمی اداروں کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنا بدنیتی پر مبنی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستانی ریاست مدرسوں کو سرکاری نظام میں لانے کی کوشش کر رہی ہے، البتہ ماضی میں ایسی تمام کوششوں کو ناکامی ہی ہوئی ہے۔

پاکستان کے دینی مدارس کو عسکریت پسندی کی بنیاد کے طور پر دیکھا جاتا ہے، تاہم مقامی سطح پر انہیں دینی تعلیم کا ذریعہ اور فلاحی نظام سمجھا جاتا ہے۔

یہ مدارس لاکھوں غریب بچوں کو مفت تعلیم اور کھانا مہیا کرتے ہیں۔

مذہبی امور اور انتہا پسندی پر دسترس رکھنے والے تجزیہ کار خورشید ندیم کہتے ہیں کہ مذہبی رہنماء مدارس کے نظام میں مداخلت کو دین میں مداخلت تصور کرتے ہیں اور اس حوالے سے کوئی پابندی قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

حمارا ہند سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ریاست مختلف اوقات میں اپنے مفادات کے لئے دینی مدارس کو ایک اثاثہ کے طور پر استعمال کرتی رہی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کی فوج کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ دینی تعلیم ایسے ہی چلتی رہے گی جیسے چل رہی ہے مگر ہم نفرت پر مبنی خیالات کی اجازت نہیں دیں گے۔

خورشید ندیم کہتے ہیں کہ مدارس بہت طاقت ور ہو چکے ہیں اور وہ خود کو ایک گروہ کے طور پر منوا چکے ہیں۔ اس بنا پر ماضی میں بھی انہیں حکومتی نظم میں لانے کی کوشش ناکام رہی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ یہ مدارس مسالک کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں مگر ایک دوسرے سے اختلافات کے باجود جب ان مدارس کو حکومتی نظام میں لانے کی بات آتی ہے تو سب اکٹھے ہو جاتے ہیں۔

وفاق المدارس کے رہنماء مولانا زاہد الراشدی کا کہنا ہے کہ دینی مدارس کی رجسٹریشن کی آڑ میں اسلامی اداروں کے خلاف سازش کے تحت یہ قانون مسلط کیا گیا ہے۔

انہوں نے حمارا ہند کو بتایا کہ حکومت نے ایف اے ٹی ایف کے دباؤ میں مدرسوں سے متعلق قانون پاس کیا ، جس نے اسے پارلیمنٹ کے قواعد کو نظر انداز کرتے ہوئے منظور کیا۔

زاہد الراشدی کہتے ہیں کہ حکومت کا قانون لانے کا مقصد مدارس کو سرکاری تحویل میں لانا ہے جو مذہبی طبقے کو قبول نہیں ہے۔

خورشید ندیم کہتے ہیں کہ مدارس کے نظام کے حوالے سے ریاست کی پالیسی میں ابہام پایا جاتا ہے اور مدارس کے نظام میں تبدیلی کے موجودہ اقدامات ایف اے ٹی ایف کے دباؤ کی بنا پر ہیں، نہ کہ قومی سوچ کے مطابق۔

انہوں نے کہا کہ اگر ریاست مدارس کو تعلیمی نظام کے طور پر دیکھے تو یہ بتدریج حکومتی نظام میں لائے جا سکتے ہیں، مگر یہ بیرونی دباؤ کے تحت جلد بازی میں نہیں ہو سکے گا۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود واضع طور پر کہہ چکے ہیں کہ مدارس کو اپنے نصاب تعلیم، طلبہ کی تعداد، ان کا پس منظراور فنڈنگ کے ذرائع ظاہر کرنے ہوں گے، بصورت دیگر ان کے بقول انہیں بند کر دیا جائے گا۔

Photo Credit : https://m.psecn.photoshelter.com/img-get/I0000IUw8jSCL0xM/s/1200/I0000IUw8jSCL0xM.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: