لیبیا میں حکومت مخالف مظاہرے، مہنگائی اور بدعنوانی پر کنٹرول کا مطالبہ

لیبیا میں حکومت مخالف مظاہرے، مہنگائی اور بدعنوانی پر کنٹرول کا مطالبہ

لیبیا میں کئی سال سے جاری لڑائیوں کے بعد گزشتہ دنوں ہونے والی جنگ بندی کے بعد احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں۔

احتجاجی مظاہروں کا آغاز اتوار کو اس وقت ہوا جب سینکڑوں مظاہرین نے دارالحکومت طرابلس کے ‘شہدا اسکوائر’ میں جمع ہو کر حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔

مظاہرین بدعنوانی، غربت، مہنگائی اور شہری سہولیات کے فقدان پر احتجاج کر رہے تھے۔

اتوار کو ہونے والے مظاہرے کو سرکاری فوج نے ہوائی فائرنگ کر کے منتشر کر دیا تھا، لیکن اب مظاہروں کا سلسلہ دوسرے شہروں تک پھیل گیا ہے۔

طرابلس میں قائم اقوامِ متحدہ کی حمایت یافتہ اتحادی حکومت نے الزام لگایا ہے کہ سیکیورٹی فورسز میں شامل بعض دراندازوں نے احتجاجی مظاہروں کو منظم کیا۔

خیال رہے کہ چند روز قبل اقوامِ متحدہ کی مداخلت کے بعد لیبیا میں قائم حریف حکومتوں نے اپنے الگ الگ بیانات میں ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیاں روک کر قومی سطح پر نئے انتخابات کرانے پر اتفاق کیا تھا۔

اقوامِ متحدہ نے بھی اس معاہدے کا خیر مقدم کیا تھا۔

یاد رہے کہ طرابلس میں اقوامِ متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت قائم ہے جس کے سربراہ فائز السراج ہیں۔ جب کہ ملک کے مشرقی حصے پر باغی فوجی کمانڈر خلیفہ حفتر عبدالرحمن نے اپنی حکومت قائم کر رکھی ہے۔

سراج کی حکومت کے قیام کے بعد سے دونوں فریق دسمبر 2015 سے عملی طور پر حالتِ جنگ میں رہے ہیں۔

ملک کے تیسرے بڑے شہر مصراتہ میں بھی پیر کو عوام سڑکوں پر نکل آئے اور حکومت مخالف نعرے بازی کی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ ملک میں ہر روز 15 سے 20 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے، جب کہ ادویات اور خوارک کی رسد بھی کم ہو رہی ہے۔

بعض مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب وہ تنخواہوں کی وصولی کے لیے بینک جاتے ہیں تو وہاں اکثر کیش کی قلت ہوتی ہے۔

لیبیا میں کرونا وبا کے بعد صورتِ حال مزید خراب ہو گئی ہے جب کہ مطاہرین کا یہ بھی گلہ ہے کہ تیل کے وافر ذخائر ہونے کے باوجود اُنہیں یہ دستیاب نہیں ہے۔

تیل کے ذخائر سے مالا مال ملک لیبیا 2011 میں سابق فوجی حکمران معمر قذافی کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے خانہ جنگی کا شکار ہے اور ملک میں 2015 سے اقتدار کے لیے رسہ کشی جاری ہے۔

IMAGE- https://idsb.tmgrup.com.tr/ly/uploads/images/2020/08/24/53632.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: