فیس بک کا آسٹریلوی صارفین کے لیے خبریں شیئر کرنے پر پابندی کا عندیہ

فیس بک کا آسٹریلوی صارفین کے لیے خبریں شیئر کرنے پر پابندی کا عندیہ

سماجی رابطے کی سائٹ ‘فیس بک’ نے آسٹریلیا کے شہریوں کی جانب سے شئیر کیا گیا خبروں کا مواد بلاک کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

آسٹریلیا کی حکومت کی جانب سے تجویز کردہ نئے قانون میں فیس بک اور گوگل کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ مقامی خبر رساں اداروں کو ان کا مواد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شئیر کرنے کے بدلے معاوضہ ادا کریں۔

اگر آسٹریلیا نے اس قانون کی منظوری دے دی تو وہ دنیا کا پہلا ملک بن جائے گا جہاں سوشل میڈیا کی کمپنیاں مقامی ذرائع ابلاغ کو ان کا مواد شائع کرنے کا معاوضہ دینے کی پابند ہوں گی۔

آسٹریلیا میں فیس بک کے مینیجنگ ڈائریکٹر ول ایسٹن کا کہنا ہے کہ اگر یہ ڈرافٹ قانون کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے تو فیس بک اور انسٹاگرام پر آسٹریلیا کے شہریوں اور پبلشرز کو مقامی اور بین الاقوامی خبریں شیئر کرنے پر پابندی لگائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ آسٹریلوی حکومت کی جانب سے مجوزہ قانون ہر قسم کی منطق سے عاری ہے۔

ول ایسٹن نے اپنے ایک بلاگ پوسٹ میں کہا کہ آسٹریلوی شہریوں کو خبریں شیئر کرنے سے روکنا پہلی نہیں بلکہ آخری ترجیح ہو گی۔

اُن کے بقول خبروں کا معاوضہ ادا کرنے کا قانون آسٹریلیا کے مقامی ذرائع ابلاغ کے شعبے کو نقصان پہنچانے کا موجب ہو گا۔

دوسری جانب آسٹریلیا کے وزیرِ خزانہ جوش فریڈن برگ کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون قومی مفاد میں ہے اور اس پر 18 مہینے عوامی طور پر غور و خوص کیا گیا ہے۔

اُنہوں نے کہا ہے کہ ‘انٹرنیٹ اصلاحات’ کے قانون کے ذریعے مقامی میڈیا انڈسٹری کو طویل البنیاد فائدہ ہو گا اور مقامی مواد بنانے والوں کو ان کا معاوضہ ملے گا۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کو بذریعہ ای میل اپنے ردِ عمل میں جوش فریڈن برگ نے کہا کہ “ہم جبر اور دھمکیوں کا جواب نہیں دیتے، چاہے وہ کہیں سے بھی آئیں۔”

آسٹریلیا کے کمپیٹیشن اور کنزیومر کمیشن (ACCC) کے چیئرمین راڈ سمز نے ‘انٹرنیٹ اصلاحات’ قانون کی تجاویز مرتب کرنے کے عمل کی نگرانی کی ہے۔ ان کے بقول فیس بک کا ردِعمل بے وقت اور غلط فہمی پر مبنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجوزہ قانون کا مقصد آسٹریلوی نیوز میڈیا کے کاروبار اور فیس بک و گوگل کے درمیان شفافیت اور انصاف پر مبنی تعلقات قائم کرنا ہے۔

یاد رہے کہ دنیا بھر کی طرح آسٹریلیا کے روایتی میڈیا نے بھی اشتہارات کی مد میں اپنا کاروبار سوشل میڈیا کی وجہ سے کھو دیا ہے۔ بہت کم صارفین اب آن لائن سبسکرپشن لیتے ہیں۔

فری ٹی وی آسٹریلیا کی چیف ایگزیکٹو برجٹ فیئر کا کہنا ہے کہ ‘فیس بک’ کا منصوبہ ‘بلئینگ’ یعنی زور زبردستی کے مترادف ہے اور فیس بک منصفانہ معاوضہ ادا کرنے سے بچنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔

انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ آسٹریلیا کے فیس بک صارفین کو یرغمال بنا کر آسٹریلوی حکومت کو دھمکایا جا رہا ہے کہ وہ اپنے اقدام سے باز رہے۔

برجٹ فیئر کے بقول، “یہ مجوزہ قانون فیس بک، گوگل اور آسٹریلوی نیوز میڈیا کاروبار کے مابین معاملات طے کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔”

گزشتہ ماہ گوگل نے ایک تشہیری مہم شروع کی تھی جس میں دعویٰ کیا تھا کہ آسٹریلیا کے ‘انٹرنیٹ اصلاحات’ قانون کی وجہ سے اگر گوگل کو خبر رساں اداروں کو ان کے مواد کی وجہ سے معاوضہ ادا کرنا پڑا تو صارفین کا نجی ڈیٹا غیر محفوظ ہو جائے گا۔

دوسری جانب اے سی سی سی کا مؤقف کہ گوگل کا ایسا خیال غلط معلومات کی وجہ سے ہے۔

https://assets.bwbx.io/images/users/iqjWHBFdfxIU/iXHSM88X9HQ4/v1/-1x-1.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: