فرانس: پولیس کی تصاویر کی اشاعت جرم قرار دینے کے مجوزہ قانون کے خلاف احتجاج

فرانس: پولیس کی تصاویر کی اشاعت جرم قرار دینے کے مجوزہ قانون کے خلاف احتجاج


فرانس میں ہفتے کو مظاہرین نے مجوزہ سیکیورٹی قانون کے خلاف مظاہرے کیے جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

فرانس کے مجوزہ سیکیورٹی قانون کے مطابق پولیس اہلکاروں کی فرائض کی انجام دہی کے دوران ایسی تصاویر یا ویڈیوز بنانا جرم سمجھا جائے گا جن سے ان کی جسمانی یا ذہنی سالمیت کو خطرہ لاحق ہو۔

خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق مجوزہ قانون کے خلاف احتجاج میں مظاہرین نے پیرس میں مرکزی بینک کو بھی نظر آتش کیا۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے جواب میں مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ بھی کیا۔

مظاہروں میں انسانی حقوق کے کارکن، صحافی، بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے کارکن، مہاجرین کے حقوق کے لیے سرگرم گروپس اور مختلف سیاسی تنظیموں کے کارکنان کے ساتھ ساتھ عام لوگوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ احتجاج میں ان افراد کی بھی کثیر تعداد موجود تھی جو ماضی میں پولیس کی بد سلوکی کا نشانہ بن چکے تھے۔

مظاہرین نے خدشات کا اظہار کیا کہ اس قانون کی منظوری سے صحافتی آزادی متاثر ہو گی۔ جب کہ اس قانون سے پولیس کی بربریت کو سامنے نہیں لایا جا سکے گا۔

مظاہرے میں شریک انسانی حقوق کی کارکن آسا ٹورور کا کہنا تھا کہ کہ اس قانون پر بحث ہونی چاہیے۔ ان کے بقول اگر پولیس تشدد نہیں کرے گی تو کسی کو پولیس والوں کی تصاویر یا ویڈیو بنانے کی کیا ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ آسا ٹورور کے بھائی 2016 میں پولیس کی حراست میں انتقال کر گئے تھے۔

آسا ٹورور ان 46 ہزار مظاہرین میں سے ایک تھیں۔ جنہوں نے پیرس کے ری پبلک پلازہ اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں مظاہرے کیے۔

فرانس کے دارالحکومت میں ہونے والے مظاہروں میں مظاہرین فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں اور وزیرِ داخلہ کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں کی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قانون پولیس کی حفاظت کے لیے بنایا جا رہا ہے۔

دوسری طرف فرانسیسی اخبار ‘لی مونڈے’ کے مدیر لک برونر کا کہنا ہے کہ پولیس کی تصاویر چھاپنے کے خلاف قانون کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین بشمول پولیس فورسز کی حفاظت سے متعلق قوانین پہلے سے موجود ہیں۔ ان کے بقول مجوزہ قانون صحافیوں کو پولیس کی بربریت نہ دکھانے کے لیے ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘فرانس 24’ کے مطابق وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ پورے ملک میں ہونے والے مظاہروں میں ایک لاکھ 33 ہزار مظاہرین نے شرکت کی۔ جن میں سے 46 ہزار مظاہرین پیرس میں موجود تھے۔

دوسری طرف مظاہروں کے منتظمین کا دعویٰ ہے کہ ان مظاہروں میں پانچ لاکھ مظاہرین شریک ہوئے۔ جن میں سے 2 لاکھ مظاہرین نے پیرس میں احتجاج کیا۔

خیال رہے کہ مجوزہ قانون کے آرٹیکل 24 کے مطابق پولیس اہلکاروں کی تصاویر شائع کرنا ایک جرم تصور کیا جائے گا اور جرم کے مرتکب افراد کو ایک سال قید اور 45 ہزار یوروز جرمانہ بھرنا ہوگا۔

Photo Credit : https://www.politico.eu/wp-content/uploads/2020/11/28/GettyImages-1229832215-scaled.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: