صدر ٹرمپ نے سائبر سیکیورٹی کے سربراہ کو عہدے سے ہٹا دیا

صدر ٹرمپ نے سائبر سیکیورٹی کے سربراہ کو عہدے سے ہٹا دیا


امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابات کو شفاف قرار دینے کے بیان پر امریکی انتخابات کی سائبر سیکیورٹی کے ذمے دار ادارے کے سربراہ کو عہدے سے فارغ کر دیا ہے۔

منگل کو ایک ٹوئٹ میں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ “وہ سائبر سیکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر کو امریکی صدارتی انتخاب سے متعلق ان کے حالیہ بیان کی بنیاد پر فارغ کر رہے ہیں۔”

صدر ٹرمپ کا اپنی ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ کرسٹوفر نے الیکشن سے متعلق بہت غلط بیانی کی۔ صدر نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ تین نومبر کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں اور دھاندلی ہوئی تھی۔

صدر نے الزام لگایا کہ انتخابات میں مردوں نے ووٹ ڈالے، مبصرین کو انتخابی عمل کے جائزے کی اجازت نہیں دی گئی، ووٹنگ مشینیں خراب تھیں جنہوں نے انہیں ملنے والے ووٹوں کو بائیڈن کے ووٹ قرار دے دیا اور وقت گزرنے کے بعد بھی لوگوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی۔

ٹوئٹر نے ایک بار پھر صدر ٹرمپ کی اس ٹوئٹ پر انتباہی نوٹس لگا دیا ہے۔

اپنی برطرفی کے بعد کرسٹوفر کریبز نے اپنے ایک نئے تصدیق شدہ ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ٹوئٹ کی کہ انہیں اپنے کام پر فخر ہے۔ ہم نے سب ٹھیک کیا۔

کرسٹوفر کریبز حالیہ دنوں میں امریکی صدارتی انتخاب کے دوران ووٹر فراڈ کے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

اپنی برطرفی سے قبل منگل کو کرسٹوفر نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی یا فراڈ کے الزامات سے متعلق الیکشن کی سیکیورٹی کے 59 ماہرین کا کہنا ہے کہ ان الزامات کے کوئی ثبوت نہیں اور یہ تیکنیکی طور پر بے ربط ہیں۔


تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کرسٹوفر کا یہ ٹوئٹ اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوا اور اسی ٹوئٹ کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں عہدے سے فارغ کرنے کا اعلان کیا۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ تین نومبر کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب کے بارے میں مسلسل یہ الزام لگا رہے ہیں کہ ان میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی ہے۔ تاہم انہوں نے اپنے دعووں سے متعلق اب تک کوئی قابلِ ذکر ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔

صدر ٹرمپ انتخابات سے پہلے سے ہی کرونا وبا کی وجہ سے ڈاک کے ذریعے بڑے پیمانے پر ہونے والی ووٹنگ میں فراڈ کے خدشات کا اظہار کر رہے تھے جنہیں بیشتر حلقوں نے مسترد کردیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے الیکشن کے دو روز بعد پانچ نومبر کو اپنے ان الزامات کو دہرایا تھا اور انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اُن ریاستوں میں قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا تھا جہاں اُن کے حریف جو بائیڈن کو برتری حاصل تھی۔

لیکن تجزیہ کاروں کے بقول صدر ٹرمپ اور اُن کی انتخابی مہم نے بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات کے اب تک ایسے شواہد نہیں پیش کیے ہیں جن کا انہیں عدالتوں میں فائدہ پہنچے۔

خیال رہے کہ امریکہ میں تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق ڈیمو کریٹک اُمیدوار جو بائیڈن مطلوبہ 270 الیکٹورل ووٹس کا ہدف عبور کرکے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔

لیکن صدر ٹرمپ نے تاحال انتخابی نتائج تسلیم نہیں کیے ہیں اور اُن کا دعویٰ ہے کہ وہی یہ الیکشن جیتے ہیں۔

Photo Credit : https://media3.s-nbcnews.com/i/newscms/2020_47/3429119/201117-chris-krebs-2019-ac-717p_6350ee3086a41693f201a70ab2d42c31.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: