صدارتی مہم کا آخری مباحثہ: ‘ٹرمپ بات کاٹنے سے گریز کریں گے’

صدارتی مہم کا آخری مباحثہ: ‘ٹرمپ بات کاٹنے سے گریز کریں گے’


ایسے میں جب کہ وائٹ ہاوس کی دوڑ میں شریک صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن تین نومبر کے انتخابات سے قبل آئندہ جمعرات کو آخری مباحثے میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں، صدر ٹرمپ کی مہم نے عندیہ دیا ہے کہ اس بار مسٹر ٹرمپ پہلی بحث کے برعکسں زیادہ مداخلت یا روک ٹوک سے گریز گریں گے​۔

جب تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کی دوڑ اب آخری مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، کرونا وائرس کے سبب امریکی عوام کو درپیش مشکلات سے نمٹنے کے لیے امدادی پیکج اور سپریم کورٹ کے لیے نئے جج کی منظوری کے معاملات اہم ترین سیاسی مسائل کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ اور اپنے تازہ ترین بیانات میں دونوں امیدواروں نے ایک دوسرے پر تنقید جاری رکھتے ہوئے ووٹروں سے حمایت کی اپیل کی ہے جب ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے۔


آخری انتخابی مباحثہ کیسا ہوگا؟

صدر ٹرمپ اور ان کے ڈیموکریٹک حریف بائیڈن کے مابین اب تک ایک ہی مباحثہ ہو پایا ہے جب کہ دوسرا مباحثہ صدر ٹرمپ کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد ان کی طرف سے آن لائن شرکت سے انکار کے بعد منعقد نہیں ہو سکا تھا۔ مباحثہ کی بجائے دونوں امیدواروں نے الگ الگ ٹاون ہال کے ذریعہ عوام سے اہم معاملات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

پہلے مباحثہ میں دونوں امیدواروں نے بارہا ایک دوسرے کو روکا ٹوکا جس کے باعث بہت سے ووٹروں کے ذہنوں میں موجود سوالات کیے۔ ماہرین کے مطابق، تفصیلی جوابات نہ ملنے سے تشنگی رہ گئی ہے۔

آئندہ جمعرات کو ہونے والے تیسرے مباحثے کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے ایک مشیر نے عندیہ دیا ہے کہ صدر پہلی بحث کے مقابلے میں زیادہ مداخلت یا روک ٹوک سے گریز گریں گے۔

مشیر جیسن ملر نے فاکس نیوز کو بتایا کہ جہاں تک مباحثے میں شرکت کے انداز کا تعلق ہے تو صدر ٹرمپ اپنے مقابل بائیڈن کو پہلے کی نسبت زیادہ وقت دیں گے تاکہ وہ مسائل پر اپنا موقف بیان کر سکیں۔

ملر نے کہا کہ صدر ٹرمپ بائیڈن سے سننا چاہیں گے کہ بائیڈن اپنے بیٹے پر عائد ان الزامات پر کیا کہتے ہیں۔


صدرٹرمپ کی بائیڈن پرتنقید کن نکات پرہے؟

حالیہ انتخابی ریلیوں میں صدر ٹرمپ نے بایئڈن کو ان کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کے یوکرین اور چین میں اپنے والد کے تعلقات سے کاروبار میں فوائد حاصل کرنے کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ یہ جرائم میں ملوث خاندان ہے۔

یاد رہے کہ بائیڈن کے بیٹے پر ان الزامات کا تعلق اس وقت سے ہے جب بائیڈن امریکہ کے نائب صدر کے عہدے پر فائز تھے۔

ان الزامات کے جواب میں بائیڈن کہتے ہیں کہ یہ انہیں داغدار کرنے کی ایک مہم ہے۔ لیکن بائیڈن نے اپنے بیٹے پر مالی فوائد حاصل کرنے کے معاملے پر خصوصی طور پر کوئی وضاحت نہیں کی۔

صدر ٹرمپ یہ بھی سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا بائیڈن ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند ممبران کی منشا کے مطابق امریکہ کی سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد میں اضافہ کر کے آزاد خیال ججوں کی تعیناتی کے حق میں ہیں یا نہیں۔

ری پبلیکن سیاست دانوں کی طرف سے ایسے سوال صدر ٹرمپ کی نامزد قدامت پسند قانونی ماہر ایمی کونی بیرٹ کی سینیٹ میں متوقع منظوری کے تناظر میں اٹھائےجاتے ہیں۔

امریکہ میں 1869 سے اب تک عدالت عالیہ میں ججوں کی تعداد میں کوئی ردو بدل نہیں ہوا۔ بائیڈن ماضی میں ججوں کی تعداد میں اضافہ کی مخالفت کر چکے ہیں لیکن انتخابی مہم کے دوران انہیں نے اس پر اب تک کوئی مخصوص موقف نہیں اپنایا۔

بایئڈن کی ٹرمپ پرنکتہ چینی کن نکات پر ہے؟

بائیڈن نے اپنی مہم میں کرونا وائرس کے خلاف لڑائی میں صدر ٹرمپ کی حکمت عملی کو مسلسل نشانہ بنائے رکھا ہے۔

گزشتہ ہفتے کے اختتام پر انہوں نے صدر ٹرمپ کے اس بیان پر کڑی تنقید کی کہ امریکہ اس عالمی وبا کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کے موڑ پر کھڑا ہے۔ بائیڈن نے کہا کہ اس دعوے کے برعکس پورے امریکہ میں کووڈ 19 کے کیسوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

بائیڈن نے الزام لگایا کہ صدر ٹرمپ نے کرونا وائرس پر قابو پانے کے معاملے پر حالات کے متعلق غلط بیانی سے کام لیا ہے۔

اپنی کارکردگی کے دفاع میں صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس وبا کے پھیلتے ہی چین اور امریکہ کے درمیان فضائی سفر پر پابندی عائد کر دی تھی۔ وہ یہ بھی کہتے آئے ہیں کہ ان کی انتظامیہ نے وسیع تر ٹیسٹنگ کا انتظام کیا اور یہ کہ اس مرض سے بچاؤ کے لیے ویکسین بھی جلد دستیاب ہو گی۔

بائیڈن نے صدر ٹرمپ اور ری پبلیکن پارٹی کو عوام کے لیے صحت کی قابل عمل قیمت پر دستیابی کے افورڈ ایبل ہیلتھ کیر پروگرام کے خاتمے کی کوششوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کرونا کے بحران کے دوران اس پروگرام کی صحت عامہ کے لیے بہت اہمیت ہے اور اگر وہ اقتدار میں آتے ہیں تو وہ اس کو جاری رکھیں گے۔

صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ صحت عامہ کا ایک بہتر پروگرام لانے کے حق میں ہیں۔

کرونا ریلیف پیکج

ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے تجویز کردہ دوسرا کرونا اسٹیمولس پیکج یا امدادی پیکج گزشتہ کئی ماہ سے کانگرس میں تعطل کا شکار ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے منگل تک ٹرمپ انتظامیہ سے پیکج کے سلسلے میں ایوان کے تجویز کردہ پلان پر ان کے فیصلہ کے لیے کہا ہے۔

اس ریلیف پلان کا مقصد کرونا بحران کے پیش نظر بے روزگار ہونے والے لوگوں کی مالی امداد کرنا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس اقدام میں تاخیر کے باعث دونوں جماعتوں کو تنقید کا سامنا ہے۔

Photo Credit : https://www.newdelhitimes.com/trump-biden-campaign-in-swing-states-they-are-trying-to-flip-2/

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: