سنگاپور: لیب میں تیار کردہ مرغی کے ‘گوشت’ کی منظوری

سنگاپور: لیب میں تیار کردہ مرغی کے ‘گوشت’ کی منظوری

سنگاپور، امریکی کمپنی کا لیبارٹری میں تیار کردہ مرغی کا گوشت فروخت کرنے کی اجازت دینا والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔

سنگاپور نے امریکی کمپنی ‘ایٹ جسٹ’ کا لیبارٹری میں بنایا گیا ظاہری طور پر مرغی کا گوشت فروخت کرنے کی منظوری دی ہے۔

‘ایٹ جسٹ’ کا کہنا ہے کہ مرغی کی جان لیے بغیر اس کے گوشت جیسا تیار شدہ صاف ستھرا گوشت فروخت کرنے کی پہلی بار کسی ریگولیٹری نے باقاعدہ منظوری دی ہے۔

قبل ازیں 2013 میں گائے کے گوشت کا متبادل بھی سامنے آ چکا ہے۔ برطانیہ میں گائے کے گوشت کے متبادل کے طور پر لیبارٹری میں تیار کردہ گوشت کا دنیا کا پہلا برگر بھی تیار کیا گیا تھا۔ اب اس طرح کے برگر امریکہ میں بھی فروخت کیے جا رہے ہیں۔

رواں برس ستمبر میں روس کے خلا باز نے انٹرنیشنل سپیس اسٹیشن میں مختلف تجربات کیے تھے، جس میں تھری-ڈی پرنٹر کا استعمال کرتے ہوئے مختلف ٹشوز سے گائے، خرگوش اور مچھلی کے گوشت کی تخلیق کی گئی تھی۔

خلیات سے بنائے جانے والے گوشت کے نام پر بحث ابھی بھی جاری ہے کہ اس گوشت کو لیبارٹری کا گوشت کہا جائے یا مصنوعی گوشت کا نام دیا جائے یا خلیات سے بنایا گیا گوشت کہہ کر پکارا جائے۔

سنگاپور فوڈ ایجنسی کے مطابق منظوری سے قبل پروسس سے متعلق اعداد و شمار، مینوفیکچرنگ کنٹرول اور حفاظتی ٹیسٹنگ کا جائزہ لیا گیا ہے۔

‘ایٹ جسٹ’ کا کہنا ہے کہ یہ پروڈکٹ سنگاپور میں ہی تیار کی جائے گی۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ سے گفتگو میں ‘ایٹ جسٹ’ کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو جوش ٹیٹریک کا کہنا تھا کہ لیب میں تیار شدہ مرغی کا گوشت نگٹس کی شکل میں سنگاپور کے ریسٹورنٹس میں متعارف کرایا جائے گا اور اس کی قیمت پریمیم چکن کے مساوی ہو گی۔

‘رائٹرز’ کا کہنا ہے کہ صحت، جانوروں کی بہبود اور ماحولیات پر تحفظات کی وجہ سے عام گوشت کے متبادل کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔

جانوروں کے پٹھوں سے لیبارٹری میں بنایا جانے والا گوشت ابھی ابتدائی مراحل میں ہے جب کہ اس کی پیداواری لاگت بھی بہت زیادہ ہے۔

57 لاکھ آبادی والا ملک سنگاپور اپنی ضرورت کی صرف 10 فی صد غذائی اشیا پیدا کرتا ہے۔ تاہم وہ غذائی پیداوار میں اضافے کے نئے طریقوں کو اپنا رہا ہے جب کہ کاشت کاری کے لیے بھی جدید ترین ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔

سنگاپور کی کمپنی ‘شیاوک میٹس’ لیبارٹری میں تیار کردہ جھینگے فروخت کرنے والی پہلی کمپنی بننے کی تیاری کر رہی ہے۔

دنیا بھر میں دو درجن سے زائد کمپنیاں لیبارٹری میں مچھلی، گائے اور مرغی کا گوشت بنانے کے حوالے سے تجربات کر رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ کمپنیاں گوشت کی غیر منظور شدہ متبادل مارکیٹ بن سکتی ہیں۔

بارکلیز کے اندازے کے مطابق 2029 تک اس مارکیٹ کا تخمینہ 140 ارب ڈالرز تک پہنچ سکتا ہے۔

Photo Credit : https://s.yimg.com/ny/api/res/1.2/NcARzPUr6Oks_jiEGR1s6w–/YXBwaWQ9aGlnaGxhbmRlcjt3PTIwMDA7aD0xMzM2/https://s.yimg.com/uu/api/res/1.2/qg18.qbuGKknzn5EfgHRNQ–~B/aD0xOTI0O3c9Mjg4MTthcHBpZD15dGFjaHlvbg–/https://media.zenfs.com/en/afprelaxnews.com/88bbeb48a19a35a4720d4767013b45b2

Leave a Reply

Your email address will not be published.