سابق رُکن اسمبلی مجید اچکزئی کی بریت کے خلاف اپیل کا فیصلہ

سابق رُکن اسمبلی مجید اچکزئی کی بریت کے خلاف اپیل کا فیصلہ

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے شہر کوئٹہ کی پولیس نے ٹریفک پولیس اہلکار ہلاکت کیس میں سابق رُکن اسمبلی کی بریت کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما عبدالمجید اچکزئی کی تیز رفتار گاڑی نے جون 2017 میں دن کی روشنی میں کوئٹہ کی ایک شاہراہ پر فرائض سرانجام دینے والے ٹریفک اہلکار کو کچل دیا تھا جس سے وہ موقع پر ہلاک ہو گئے تھے۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے پر سوشل میڈیا پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔

تاہم تین سال بعد ماڈل کورٹ کی جانب سے عبدالمجید اچکزئی کو باعزت بری کرنے پر نظامِ انصاف اور قانون کی حکمرانی پر سوالات اُٹھائے جا رہے تھے۔

ہلاک ہونے والے ٹریفک سارجنٹ عطااللہ کے لواحقین نے بھی عدالتی فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

عطاء اللہ کے بیٹے معظم نے ٹیلیفون پر حمارا ہند کو بتایا کہ اپنے والد کی موت کے معاملے میں سرکاری وکیل کی سست روی سے ملزم کو فائدہ ہوا۔

معظم نے الزام لگایا کہ سرکاری طور پر مقدمے کی درست پیروی نہیں کی گئی اور نہ حکام نے اپنے وعدے کے مطابق اُنہیں محکمہ پولیس میں والد کی جگہ ملازمت دی۔

اُن کے بقول فی الحال وہ اور دیگر اہلِ خانہ والد کی تنخواہ پر گزارہ کر رہے ہیں جو اُن کی ہلاکت کے بعد بھی دی جا رہی ہے۔

چار ستمبر کو سماعت کے دوران عبدالمجید خان اچکزئی اپنے وکلا کے ہمراہ جب کوئٹہ کی ماڈل کورٹ میں پیش ہو ئے تو عدالت نے اپنا محفوظ کیا ہوا فیصلہ سنایا۔

فیصلہ محفوظ کرنے سے قبل عدالت کی جانب سے پراسیکیوشن کو ملزم کے خلاف ثبوت فراہم کرنے کا کہا گیا تھا تاہم عدالت میں کیس سے متعلق ثبوت جمع نہیں کرائے گئے۔

بعدازاں عدالت نے ملزم عبدالمجید کو عدم شواہد کی بنیاد پر ٹریفک سارجنٹ عطا اللہ کی ہلاکت کے کیس سے باعزت بری کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔

خیال رہے کہ قبل ازیں دسمبر 2017 میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عبدالمجید اچکزئی کو پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت دینے کا فیصلہ دیا تھا۔

عبدالمجید اچکزئی بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ سے رکنِ صوبائی اسمبلی منتخب ہو ئے تھے بعد میں وہ بلوچستان اسمبلی میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے۔

عبدالمجید اچکزئی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے قریبی عزیز بھی ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ماڈل کورٹ کے فیصلے کے خلاف پولیس کی جانب سے اپیل کی تیاری آخری مراحل میں ہے اور جلد یہ اپیل بلوچستان ہائی کورٹ میں دائر کی جائے گی۔

https://media.gettyimages.com/videos/quetta-city-signboard-on-the-highway-conceptual-stock-video-the-to-video-id1266215133?s=640×640

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: