ری پبلکن کنونشن: میلانیا ٹرمپ کا کرونا وائرس کے متاثرین سے اظہار یکجہتی

ری پبلکن کنونشن: میلانیا ٹرمپ کا کرونا وائرس کے متاثرین سے اظہار یکجہتی

امریکہ کی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے واشنگٹن میں جاری ری پبلیکن کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کرونا وائرس کا شکار ہونے والے امریکی شہریوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس موذی مرض کے خلاف جاری جنگ میں تنہا نہیں ہیں۔

ری پبلکن کنونشن میں ان کے شوہر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پارٹی کی جانب سے تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں عہدے کی دوسری معیاد کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ جمعرات کو ایک خطاب میں یہ نامزدگی باضابطہ طور پر قبول کریں گے۔ ان کا مقابلہ ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن سے ہو گا۔

میلانیا ٹرمپ ان چیدہ شخصیات میں شامل ہیں جو اس آن لائن کنونشن سے خطاب کر رہی ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن سے کیے گئے اپنے خطاب میں میلانیا ٹرمپ نے کہا کہ اس سال مارچ میں پھیلنے والی کرونا وبا نے امریکی زندگیوں کو یکسر تبدیل کر دیا ہے، انہیں کووڈ 19 کا شکار ہونے والے تمام افراد سے ہمدردی ہے اور وہ ان کے لیے دعاگو ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس وبا کی وجہ سے پریشان ہونے والے امریکی شہریوں کو بتانا چاہتی ہیں کہ وہ اس مشکل گھڑی میں تنہا نہیں ہیں۔

خاتون اول نے صحت عامہ کے عملے کو خاص طور پر سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس وبا سے متاثرہ لاکھوں لوگوں کے علاج معالجے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو اولیت دینے اور مقدم رکھنے پر وہ خود اور ان کے شوہر صدر ٹرمپ صحت عامہ کے تمام کارکنوں کے ممنون ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عظیم امریکی قوم کو درپیش اس چیلنج کے پیشِ نظر لوگوں نے ایک دوسرے کے لیے جو کچھ کیا وہ بہت حوصلہ افزا ہے۔

دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما کرونا وائرس سے نمٹنے کی کوششوں میں صدر ٹرمپ کو مسلسل تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ وہ اور ان کی انتظامیہ اس مہلک وبا سے نمٹنے میں ناکام ہو چکی ہے اور امریکیوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے لاکھوں کارکن بے روزگار ہو چکے ہیں۔

اپنے خطاب میں میلانیا ٹرمپ نے اس سال 25 مئی کو سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائیڈ کی پولیس کی تحویل میں ہلاکت کے تناظر میں پیدا ہونے والی نسلی بدامنی کو بھی اپنی تقریر کا موضوع بنایا۔

انہوں نے کہا کہ تمام لوگوں کی طرح انہوں نے بھی اس نسلی مسئلے کے متعلق سوچا۔ ان کا لوگوں سے کہنا تھا کہ وہ ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے مستقبل پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔

انہوں نے کہا کہ میں تمام لوگوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ اس چیز کا ہر پہلو سے جائزہ لیں۔ وہ شائستگی سے مل بیٹھ کر کام کریں تاکہ ہم امریکی نظریات کے مطابق اپنی زندگیاں گزار سکیں۔ میں لوگوں سے کہتی ہوں کہ وہ انصاف کے نام پر تشدد اور لوٹ مار کی راہ چھوڑ دیں، اور جلد کی رنگت کی بنا پر مفروضے مت بنائیں۔ آئیے توڑ پھوڑ کی بجائے ہم اپنی کوتاہیوں پر غور کریں۔

اپنے شوہر صدر ٹرمپ کے بارے میں خاتون اول نے کہا کہ وہ محض باتوں پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ ان پر عمل کا مطالبہ کرتے ہیں۔

میلانیا ٹرمپ نے ایک تارکِ وطن کی حیثیت سے سلوانیا سے امریکہ آنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ کیسے ایک 26 سالہ ماڈل کے طور پر یہاں آئیں اور بعد میں امریکی شہریت بھی حاصل کی۔

اپنی زندگی کی کہانی سے میلانیا ٹرمپ نے شاید ان لوگوں سے ایک رابطہ بنانے کی کوشش کی جو غیرقانونی تارکین وطن سے متعلق موجودہ انتظامیہ سے نالاں ہیں۔

ری پبلیکن کنونشن کے پہلے دو روز پارٹی کے رہنماؤں نے ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن پر کڑی تنقید کی اور صدر ٹرمپ کی کرونا بحران سے نمٹنے کی کوششوں کو سراہا۔ دوسری جانب بائیڈن اور ان کے حامیوں نے بھی کئی امور پر صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر تنقید کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

ری پبلیکن پارٹی نے نائب صدارت کے لیے موجودہ نائب صدر مائیک پینس کو نامزد کیا ہے۔ جب کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے کملا ہیرس کو نائب صدر کے طور پر سامنے لایا گیا ہے، جو اس اعلٰی عہدے کے لیے پہلی سیاہ فام اور بھارتی نژاد خاتون امیدوار ہیں۔

https://upload.wikimedia.org/wikipedia/commons/0/04/Melania_Trump_in_February_2016_%28cropped%29.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: