دس فروری سے قبل سینیٹ الیکشن خلاف آئین ہے، الیکشن کمشن

دس فروری سے قبل سینیٹ الیکشن خلاف آئین ہے، الیکشن کمشن

الیکشن کمشن آف پاکستان نے پارلیمان کے ایوان بالا کی آئندہ سال مارچ میں خالی ہونے والی نشستوں پر انتخابات سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے 10 فروری 2021 سے قبل الیکشن کے انعقاد کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے دیا ہے، جب کہ حکومت نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے کے لیے رواں ہفتے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ نے سینیٹ کے شو آف ہینڈ انتخابات کی اجازت دے دی تو یہ بہت بڑا انقلاب ہو گا جب کہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ استعفوں کی صورت میں سینیٹ انتخابات ملتوی ہو سکتے ہیں۔

ایک طرف حکومت اور اپوزیشن کی سیاسی کشمکش جاری ہے اور دوسری جانب ایسی صورت حال میں پاکستان کے نئے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن سمیت کئی سیاست دانوں کی جان کو خطرہ ہے۔

الیکشن کرانا الیکشن کمشن آف پاکستان کی آئینی ذمہ داری ہے

ترجمان الیکشن کمشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سینیٹ کے نصف ارکان 11 مارچ کو ریٹائر ہو جائیں گے اور آئین کے مطابق جو نشستیں اپنی مدت معیاد پوری کرنے کے بعد خالی ہوں ان پر الیکشن کا انعقاد 30 دن سے قبل نہیں ہو سکتا۔

اس طرح سینیٹ کی خالی ہونے والی ان نشستوں پر انتخابات کا انعقاد 10 فروری 2021 سے قبل نہیں کرایا جا سکتا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عام طور پر سینیٹ کے گزشتہ 4 سے 5 انتخابات مارچ کے پہلے ہفتے میں منعقد ہوتے رہے ہیں اس بار بھی الیکشن کمشن آئین اور قانون کے مطابق مناسب وقت پر ان انتخابات کی تاریخ کا اعلان ایک انتخابی پروگرام کی صورت میں جاری کرے گا۔

الیکشن کمشن کا کہنا ہےکہ سینیٹ الیکشن کا انعقاد الیکشن کمشن کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے اور الیکشن کمشن اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے، کمشن آئین اور قانون کی روشنی میں اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے پرعزم ہے۔

سابق سیکرٹری الیکشن کمشن کنور دلشاد کا کہنا ہے ’سینیٹ کے انتخابات فروری کے آخر میں بھی ہو سکتے ہیں اور اس کا فیصلہ حکومت نے نہیں بلکہ الیکشن کمشن نے کرنا ہے۔

ہمارا ہند سے بات کرتے ہوئے دلشاد نے کہا کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ وہ پہلے یا 30 دن پہلے انتخابات کرائے گی۔ حکومت کا کام انتخابات کروانا نہیں ، یہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق شو آف ہینڈ کے ذریعے الیکشن نہیں ہو سکتا اور 10 فروی کے بعد 11 مارچ تک کسی بھی وقت الیکشن کروائے جا سکتے ہیں۔ اس میں آئین بہت واضح ہے اور کسی شک کی گنجائش نہیں ہے۔

اوپن بیلٹ پر رائے کے لیے حکومت کا سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ

دوسری جانب حکومت نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے کے لیے سپریم کورٹ میں ریفرنس رواں ہفتے دائر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

حکومت سپریم کورٹ سے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے کے متعلق رائے طلب کرے گی۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات شو آف ہینڈ کے ذریعے ہونے سے شفافیت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ 12 فروری سے الیکشن ہو سکتے ہیں۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ میں اسمبلی کا شاید سب سے پرانا پارلیمنٹیرین ہوں اور آئین کے مطابق 12 فروری کے بعد کسی بھی وقت انتخاب ہو سکتے ہیں۔

شیخ رشید نے کہا کہ الیکشن اوپن بیلٹ کے ذریعے ہوں گے یا پھر سیکرٹ بیلٹ کے ذریعے، اس بارے میں سپریم کورٹ آف پاکستان فیصلہ کرے گی۔ تاہم ہم الیکشن کے لیے تیار ہیں اور مجھے لگ رہا ہے کہ اپوزیشن بھی اس انتخاب میں حصہ لے گی۔ اگر انہوں نے استعفے دیے تو ہم ان کی جگہ پر ضمنی انتخاب کروا دیں گے۔

اس بارے میں ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کا کہنا ہے کہ سینیٹ انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہوں گے اور اگر اپوزیشن نے اسمبلیوں سے استعفی دے دیا تو یہ انتخابات ملتوی بھی ہو سکتے ہیں۔

سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ جو اپوزیشن کے بغیر انتخاب کرانے کا کہہ رہے ہیں، ان کے بارے میں مجھے حیرانگی ہے کیونکہ الیکٹورل کالج مکمل نہ ہو تو انتخاب کیسے ہو سکتا ہے۔ اگر اپوزیشن نے استعفیٰ دے دیا تو یہ انتخاب ملتوی بھی ہو سکتا ہے۔

مولانا فضل الرحمن کو خطرہ ہے، شیخ رشید

وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ ملک کے بعض سیاست دانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں اور ان پر دہشت گرد حملے کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں مولانا فضل الرحمن بھی شامل ہیں ۔

اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز پر حملے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا چکا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ بعض عناصر ملک میں بدامنی پھیلانے کے لیے ایسے حملے کر سکتے ہیں۔

نیکٹا نے اس حوالے سے تھریٹ الرٹ جاری کیے جو پی ڈی ایم کے جلسوں سے قبل بھی جاری کیے جا چکے ہیں تاہم اپوزیشن ان تھریٹ الرٹس کو اپوزیشن کی تحریک روکنے کا ذریعہ قرار دیتی ہے۔

Photo Credit : https://www.thenews.com.pk/assets/uploads/akhbar/2020-10-15/729587_7633810_ECP-once-again-writes-to-ministries-of-Law,-Justice,-Parliamentary-Affairs_akhbar.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: