حکومتِ پاکستان کی لاپتا شہری کے اہلِ خانہ کو معاوضہ ادا کرنے کی یقین دہانی

حکومتِ پاکستان کی لاپتا شہری کے اہلِ خانہ کو معاوضہ ادا کرنے کی یقین دہانی


پاکستان کی وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ سن 2016 میں لاپتا ہونے والے انجینئر ساجد محمود کے اہلِ خانہ کو ماہانہ اخراجات ادا کرے گی۔

وفاقی وزارتِ داخلہ کو ساجد محمود کے اہلِ خانہ کو 2016 سے لے کر اب تک کے 45 لاکھ روپے کے بقایا جات اور اس کے بعد ہر ماہ ایک لاکھ پانچ ہزار روپے ادا کرنا ہوں گے۔

اس کیس میں عدالت نے 11 جولائی 2018 کو وفاقی حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ ساجد محمود کے اہلِ خانہ کے ماہانہ اخراجات برداشت کرے۔ لیکن عدالتی فیصلے پر عمل نہ ہونے پر توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پیر کو سماعت کی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ نے سماعت کے دوران عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ وفاقی حکومت 60 روز کے اندر لاپتا آئی ٹی ایکسپرٹ ساجد محمود کے اہلِ خانہ کو ماہانہ اخراجات ادا کر دے گی۔

درخواست گزار کے وکیل عمر گیلانی نے کہا کہ ہم صرف عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فیصلہ دینے کے علاوہ عدالت کیا کر سکتی ہے؟ ریاست کہتی ہے کہ ہم شہری کو تلاش نہیں کر پا رہے۔ اب عدالت خود تو جا کر ڈھونڈ نہیں سکتی۔ عدالت کی کچھ حدود ہیں۔ ریاست پر سب کا اعتماد ختم ہو جائے تو پھر انارکی پھیلے گی۔

عدالت نے پولیس کو لاپتا ساجد محمود کی بازیابی کے لیے کی جانے والی کوششوں پر ہر دو ہفتے بعد رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کے ساتھ توہینِ عدالت کی یہ درخواست نمٹا دی ہے۔

ساجد محمود کے اغوا کا پس منظر

انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکسپرٹ ساجد محمود کو 14 مارچ 2016 کو اسلام آباد کے سیکٹر ‘ایف ٹین’ میں قائم ان کے گھر سے اغوا کیا گیا تھا اور آج تک ان کا کوئی پتا نہیں چل سکا ہے۔

ساجد محمود تین بیٹیوں کے والد ہیں اور وہ گھر کے واحد کفیل تھے۔ ان کے اغوا کی ذمہ داری پاکستان کی خفیہ ایجنسوں پر عائد کی جاتی رہی جس کی وفاقی حکومت نے تردید کی۔

ساجد محمود کی اہلیہ ماہرہ ساجد کی جانب سے 2016 میں درخواست دائر کی گئی تھی جس میں انہوں نے اپنے شوہر کے اغوا کو ممکنہ طور پر جبری گمشدگی کا کیس قرار دیا تھا۔

انہوں نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ان کے شوہر کی گمشدگی کا ذمہ دار وفاقی حکومت کو قرار دیا جائے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ وفاقی حکومت اُنہیں ان کے بچوں کے اخراجات کے لیے ایک لاکھ پانچ ہزار روپے ہر ماہ فراہم کرے جس کا اطلاق 14 مارچ 2016 سے ہو جب ان کے شوہر کو اغوا کیا گیا تھا۔

عدالت نے 2018 میں اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ درخواست گزار کو ماہانہ ایک لاکھ پانچ ہزار روپے ادا کیے جائیں یا تصدیق کے بعد تعین کی گئی رقم ادا کی جائے گی۔ واجبات کا حساب لگایا جائے گا اور درخواست گزار کو اخراجات 14 مارچ 2016 سے ادا کیے جائیں گے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں اسپیشل برانچ، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) سمیت ریاستی ایجنسیوں کو واقعے کی معلومات اکھٹا کر کے متعلقہ حکام تک پہنچانے اور ایک شہری کی جبری گمشدگی کی کھوج لگانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکامی کا ذمہ دار ٹھیرایا تھا۔

‘فیصلہ جبری لاپتا افراد کے اہلِ خانہ کے لیے اہم ہے’

ماہرہ ساجد کے وکیل عمر گیلانی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ان تمام افراد کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے جن کے پیارے ایک عرصے سے لاپتا کر دیے گئے ہیں اور وہ سخت مالی مشکلات کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی حکومتی ادارے نے ان کی جبری گمشدگی کو تسلیم کیا ہے تو یہ فیصلہ اس لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے اہلِ خانہ کو بھی ریاست کی طرف سے ادائیگی کی جا سکتی ہے۔

عمر گیلانی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ساجد محمود جبری گمشدگی کیس میں 2016 سے اب تک کے ماہانہ اخراجات کی مد میں وفاقی حکومت 45 لاکھ روپے کی رقم ادا کرے گی۔ اس کے بعد ایک لاکھ پانچ ہزار روپے اہلِ خانہ کو ہر ماہ ادا کیے جائیں گے۔

‘آئین اور قانون کی موجودگی میں کوئی شخص جبری لاپتا ہی کیوں ہو’

انسانی حقوق کی کارکن طاہرہ عبداللہ اس معاملے پر کہتی ہیں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے وفاقی حکومت کو ماہانہ اخراجات کی ادائیگی کا حکم ایک احسن اقدام ہے اور ہم اس کی تعریف کرتے ہیں۔ لیکن یہاں ایک سوال یہ ہے کہ کوئی شخص جبری طور پر لاپتا ہی کیوں ہو؟

ہمارا ہند سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین ہے ، عدالتیں ہیں ، پولیس ہے اور دیگر تمام ایجنسیاں کام کر رہی ہیں ، تو پھر کسی فرد کے لاپتہ ہونے کی ضرورت کیوں ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں افراد کو جبری طور پر لاپتا کیا گیا ہے۔ ایسے میں ایک خاندان کو معاوضہ ملنا ایک احسن قدم ہے لیکن ریاست کی ذمہ داری ہے کہ کوئی بھی شخص جسے جبری گمشدہ کیا گیا ہے، اسے بازیاب کرایا جائے اور اس کے اہلِ خانہ سے ملوایا جائے۔

اُن کے بقول اگر کوئی الزام ہے تو عدالتوں میں پیش کر کے اسے سزا دلوائی جائے لیکن برسوں تک ایسے لاپتا رکھنا آئینِ پاکستان کی خلاف ورزی ہے۔

Photo Credit : https://www.ft.com/__origami/service/image/v2/images/raw/http%3A%2F%2Fcom.ft.imagepublish.upp-prod-us.s3.amazonaws.com%2F444d1d48-88cb-11ea-a109-483c62d17528?fit=scale-down&source=next&width=700

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: