جاپان کے’ ٹوئٹر کلر’ کو نو افراد کے قتل پر سزائے موت

جاپان کے’ ٹوئٹر کلر’ کو نو افراد کے قتل پر سزائے موت

جاپان کی ایک عدالت نے منگل کے روز ایک نوجوان کو نو افراد کو قتل کرنے اور ان کی نعشوں کو ٹکڑے کرکے اپنے فریزر میں رکھنے کے جرم میں موت کی سزا سنائی ہے۔

تاکا ہیرو شیراشی نامی 30 سالہ شخص اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے ان لوگوں سے رابطہ کرتا تھا جو سوشل میڈیا پر ان خیالات کا اظہار کرتے تھے کہ وہ خودکشی کرنا چاہتے ہیں۔

جاپان میں خودکشی کرنے کی شرح دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔

تاکا ہیرو دارالحکومت ٹوکیو کے مضافاتی علاقے زاما کے ایک اپارٹمنٹ میں رہ رہا تھا۔ جب پولیس نے اس کے اپارٹمنٹ پر چھاپہ مارا تو وہاں انہیں اس کے فریز میں نو انسانی نعشیں ملیں جسے اس نے ٹکڑے ٹکڑے کر کے محفوظ کر رکھا تھا۔

تاکا ہیرو جاپان میں ‘ٹوئٹر کلر’ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو خودکشی کرنا چاہتے ہیں۔

تاکا ہیرو نے ٹوکیو ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپنے جرم کا اقرار کیا جس کے بعد جج نے اسے موت کی سزا سنا دی۔ تاکا ہیرو کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سزا کے خلاف اپیل نہیں کرے گا۔

پولیس نے تاکا ہیرو کو 2017 میں اس وقت گرفتار کر لیا تھا جب اس کے اپارٹمنٹ کے فریز سے نو انسانی نعشیں ملی تھیں۔ ان میں سے آٹھ نعشیں خواتین کی تھیں جب کہ ایک نعش مرد کی تھی۔

تفتیشی عہدے داروں داروں نے میڈیا کو بتایا کہ اس نے ہلاک کیے جانے والے افراد سے اپنے ٹوئٹر کے ذریعے رابطہ کیا تھا۔ اس نے عہدے داروں کو بتایا کہ وہ ان لوگوں سے رابطہ کرتا تھا جو سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹوں میں اس خواہش کا اظہار کرتے تھے کہ وہ خودکشی کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ان سے رابطہ کر کے مدد کرنے کی پیش کش کرتا تھا۔

عہدے داروں نے بتایا کہ اس نے قتل کیے جانے والے تمام افراد کو مشاورت اور مدد کے لیے اپنے اپارٹمنٹ میں بلایا۔ پھر خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کے بعد انہیں قتل کر دیا اور نعش ٹکڑے ٹکڑے کر کے فریزر میں ڈال دیے۔ قتل ہونے والا واحد مرد ایک لڑکی کا بوائے فرینڈ تھا، جسے اس واقعہ کا پتا چل گیا تھا۔ تاکا ہیرو نے اسے اس لیے قتل کیا تاکہ یہ راز پوشیدہ رہے۔

تاکا ہیرو کے وکیل نے عدالت میں اپنے دلائل میں کہا کہ اس کے موکل نے کوئی جرم نہیں کیا، کیونکہ تمام مقتول خودکشی کرنے کے ارادے سے اس کے پاس آئے تھے۔ اس نے اس کام میں ان کی مدد کی۔ لیکن تاکا ہیرو نے عدالت کو بتایا کہ اس نے قتل کرنے سے پہلے ان سے اجازت نہیں لی تھی۔

ڈسٹرکٹ جج نوکومی یانو نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی مقتول نے بھی خود کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی تھی اور ان کی ہلاکتوں کی مکمل ذمہ داری تاکا ہیرو پر عائد ہوتی ہے۔

فیصلے میں کہا کیا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا ایک انتہائی وحشیانہ واقعہ ہے اور اس سے معاشرے میں بڑے پیمانے پر خدشات اور خوف و ہراس پھیلا ہے۔

جاپان میں خودکشی کی شرح دنیا بھر میں سب سے زیادہ رہی ہے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران اس میں کچھ کمی دیکھی جا رہی تھی۔ لیکن اس سال کرونا وائرس کی عالمی وبا پھیلنے کے بعد دوبارہ خودکشی کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔

جاپان میں جرائم کی شرح نمایاں طور پر کم ہے، لیکن بعض اوقات وہاں انتہائی غیر معمولی واقعات پیش آتے ہیں۔ جولائی 2016 میں معذورافراد کی ایک رہائش گاہ میں ایک ملازم نے 19 افراد کو ہلاک اور 20 سے زیادہ کو زخمی کر دیا تھا۔

Photo Credit : https://cdn01.dailycaller.com/wp-content/uploads/2020/12/GettyImages-868795198.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: