جاپان: خود کشی کے رحجان کو کم کرنے کے لیے نوجوان کی رضاکارانہ آن لائن کونسلنگ

جاپان: خود کشی کے رحجان کو کم کرنے کے لیے نوجوان کی رضاکارانہ آن لائن کونسلنگ

جاپان میں کم عمر افراد میں خود کشی کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں ایک 21 سالہ نوجوان کوکی اوزورا نے آن لائن ٹیکسٹ میسج کے ذریعے کونسلنگ شروع کی ہے۔

کوکی اوزورا خود بھی تنہا بڑے ہوئے ہیں جس کے باعث وہ بھی اداسی کا شکار رہتے تھے۔

انہوں نے آن لائن ٹیکسٹ میسج کونسلنگ کے لیے ایک تنظیم ‘پلیس فار یو’ بھی قائم کی ہے جو مکمل طور پر رضاکاروں کے ذریعے چلائی جاتی ہے۔ یہاں 24 گھنٹے ٹیکسٹ میسج کی رضاکارانہ سروس ایسے لوگوں کو دی جاتی ہے جو ہمدردی کے دو بول سننا چاہتے ہیں۔ بعض لوگ بس سوالوں کے جواب کے منتظر ہوتے ہیں۔

اس آن لائن سروس کے رضاکاروں میں اضافہ ہو رہا ہے جو اب بڑھ کر 50 سے زائد ہو چکے ہیں۔ ان میں بہت سے بیرونِ ملک بھی ہیں اور مختلف اوقاتِ کار میں کام کرتے ہیں۔ کئی رضاکار باہر بیٹھ کر جاپان کے رات 10 سے صبح تک کام کرتے ہیں جب خود کشی سے بچانے کی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔

عالمی وبا کے دوران کوکی اوزورا کا خیال اس لیے مقبول ہو رہا ہے۔ کیوں کہ یہ مکمل طور پر آن لائن کونسلنگ ہے۔ رضا کاروں کی تربیت سے لے کر سروس تک سب کچھ آن لائن ہے۔

اس حوالے سے کوکی اوزورا کا کہنا ہے کہ اتنے زیادہ رضاکاروں کی شمولیت سے ان کی امید بڑھی ہے۔

ان کے بقول “وہ مجھ سے کہتے ہیں کہ ہم کچھ کرنا چاہتے ہیں۔

اس غیر سرکاری تنظیم کو 15 ہزار آن لائن پیغامات موصول ہو چکے ہیں۔ یومیہ اوسطاً 130 کے قریب پیغامات موصول ہوتے ہیں۔

کوکی اوزورا کی ڈیزائن کی ہوئی ویب سائٹ کے ذریعے کونسلنگ کی نگرانی تجربہ کار عملہ کرتا ہے۔ مدد مانگنے والوں کی معلومات کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔

انہوں سب سے زیادہ 32 فی صد پیغامات خود کشی کے متعلق موصول ہوتے ہیں۔ بچوں کی پرورش سے متعلق ذہنی دباؤ کے 12 فی صد کے قریب پیغامات آتے ہیں۔ ایسے میں 40 منٹ کے اندر اندر کونسلنگ سمیت پولیس اور محفوظ مقامات کی نشان دہی بھی کرنی ہوتی ہے۔

کوکی اوزورا کے بقول روزانہ ایسے پیغامات موصول ہوتے ہیں جو شدید درد، خوف اور خود ترسی پر مبنی ہوتے ہیں۔

سماجی علوم کے ماہرین کے مطابق جاپان میں خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ او ای سی ڈی کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں تنہائی کے معاملے میں جاپان سرفہرست شمار ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔

جاپان میں یومیہ اوسطاََ 50 افراد خود کشی کرتے ہیں۔ جب کہ ہر تیسرے روز ایک خاتون اپنے پارٹنر کے ہاتھوں قتل ہوتی ہے۔

حکومت اور اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بچوں پر تشدد کے ہر برس ایک لاکھ 60 ہزار کے قریب واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔

Photo Credit : https://pocket-syndicated-images.s3.amazonaws.com/5f1096829743b.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: