بین الافغان مذاکرات میں تعطل: ‘پیش رفت آسان نہیں ہو گی’

بین الافغان مذاکرات میں تعطل: ‘پیش رفت آسان نہیں ہو گی’


طالبان اور افغان حکومت کے نمائندوں کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات گزشتہ دو ہفتوں سے جاری ہیں۔ طالبان کے مطابق بین الافغان مذاکرات فقہ حنفی اور امریکہ سے امن معاہدے کے تسلسل میں ہونے چاہیں۔ جب کہ افغان حکومت کو طالبان کی تجاویز سے اختلاف ہے اور یوں عملاََ بین الافغان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

طالبان مذاکراتی ٹیم کے اہم رہنما ملا خیر اللہ خیر خواہ کا کہنا ہے کہ طالبان کے افغان حکومت سے مذاکرات رواں سال فروری میں امریکہ کے ساتھ کیے گئے امن معاہدے کے بعد ہی ممکن ہوئے ہیں۔ ورنہ طالبان قیادت گزشتہ 19 سال میں کہیں بھی افغان قیادت کے ساتھ نہیں بیٹھی ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ امریکہ سے ہونے والے امن مذاکرات کے تحت ہی بین الافغان مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے۔

طالبان رہنما کے مطابق دونوں کے مابین بہت سارے معاملات پر اتفاق ہوا ہے کہ تمام بحث طلب معاملات کو فقۂ حنفی کی روشنی میں حل کیا جائے گا۔ لیکن اب اس وفد میں فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والے کچھ ارکان کا کہنا ہے کہ اس میں ان کا ذکر ہونا بھی ضروری ہے۔

طالبان رہنما یہ بھی کہتے ہیں کہ جب قوانین بنائے جائیں گے، تو تمام مسالک، حتیٰ کہ اقلیتی برادری کو بھی ان کے مکمل حقوق دیے جائیں گے۔

اس بارے میں سینئر صحافی اور افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں اگرچہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ لیکن پھر بھی ان دونوں کا ایک دوسرے کو سننا اور بیٹھنا خوش آئند اقدام ہے۔

رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے مقابلے میں افغان حکومت کا مؤقف مختلف ہے۔ افغان حکومت کہتی ہے کہ ان کا طالبان کے ساتھ دوحہ میں بیٹھنا امریکہ سے کیے گئے معاہدے کے تحت نہیں ہے۔ بلکہ یہ مذاکرات لویہ جرگہ کے تحت ہو رہے ہیں اور بین الافغان مذاکرات لویہ جرگے کے فیصلوں کی روشنی میں ہی ہونے چاہیئں۔

رحیم اللہ یوسف زئی نے کہا کہ یہ دونوں آپس میں طویل جنگ لڑتے رہے ہیں۔ ان کے مذاکرات کی میز پر بھی اپنے اپنے مقاصد ہیں۔ یہاں بھی وہ ان کے حصول کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لینے میں لگے ہوئے ہیں۔

ان کے مطابق یہ مذاکرات لمبے، پیجیدہ اور صبر آزما ہوں گے۔ اس میں رکاوٹیں بھی آئیں گی اور اس میں پیش رفت آسان نہیں ہو گی۔

افغان حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے ترجمان نادر نادری نے اتوار کے روز ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ مذاکرات کے طریقہ کار پر اختلافات دور کرنے کے لیے ابھی بھی کوشش جاری ہے۔

دوسری جانب مذاکرات کے ساتھ ساتھ افغان حکومت اور طالبان نے ایک دوسرے پر مسلح حملوں کے الزامات بھی لگائے ہیں۔

افغان حکومت کا کہنا ہے کہ طالبان، حملوں کی آڑ میں اپنا مؤقف مضبوط کرنا چاہتے ہیں، جب کہ طالبان کا اصرار ہے کہ ان کی کارروائیوں میں پہلے کی نسبت بہت کمی آئی ہے اور افغان حکومت ایسے ہتھکنڈوں سے بیرونی قوتوں کو مزید دوام دینا چاہتی ہے۔

ماہرین کے مطابق دو دہائیوں کے بعد طالبان اور افغان حکومت کے نمائندوں کے درمیان یہ پہلے باضابطہ مذاکرات ہیں اور اس میں ایک دوسرے کو سمجھنے میں وقت لگے گا۔

سینئر افغان صحافی عصمت قانع کے مطابق عوام کو بین الافغان مذاکرات سے بہت زیادہ توقعات ہیں۔ کیوں کہ افغانستان اب جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق اب جو چھوٹے چھوٹے مسائل ان مذاکرات میں سامے آ رہے ہیں وہ افغانستان کی تاریخ میں بہت پہلے حل ہو چکے ہیں۔

ان کے مطابق افغانستان میں تمام مسائل حنفی مسلک کے قواعد و ضوابط کے تحت حل ہوتے رہے ہیں اور یہ غیر متنازع مسلک ہے۔ لہذٰا اسے نہیں چھیڑنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی زبانیں سرکاری طور پر پشتو اور فارسی ہیں، جب کہ پشتو 63 فی صد افغان بولتے ہیں۔ اس طرح سے پشتون کوئی نیا تنازع کھڑا کر سکتے ہیں۔ اس لیے ان چھوٹے چھوٹے تنازعات میں نہیں پڑنا چاہیے اور قومی مفاد میں بڑے فیصلوں کی جانب بڑھنا چاہیے۔

https://sl.sbs.com.au/public/image/file/baf851d5-03b8-4d9d-b9d7-3c09e09cd3f7

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: