برطانیہ: کرونا ویکسین کے استعمال کا آغاز، طبی عملہ اور بزرگ پہلی ترجیح

برطانیہ: کرونا ویکسین کے استعمال کا آغاز، طبی عملہ اور بزرگ پہلی ترجیح

برطانیہ میں شہریوں کو کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کا عمل منگل سے شروع کر دیا گیا ہے جب کہ حکام نے اس دن کو ‘وکٹری ڈے’ قرار دیا ہے۔

منگل کی صبح 90 سالہ معمر خاتون مارگریٹ کینن کو سب سے پہلے کرونا ویکسین لگائی گئی جب کہ صبح سویرے پرُخطر ماحول میں خدمات جاری رکھنے والے ہیلتھ ورکرز اور سماجی خدمت کے شعبے سے وابستہ اسٹاف کے 80 سے زیادہ افراد ویکسین لگوانے کے لیے قطار میں کھڑے نظر آئے۔

منگل کو ویکسین کی پہلی ڈوز لینے والوں کو دوسری خوارک 21 دن بعد دینا ضروری ہے۔

برطانیہ، گزشتہ ہفتے دنیا کا پہلا ملک بن گیا تھا جب اس نے ‘فائزر اور بائیو این ٹیک’ کی تیار کردہ ویکسین کی منظوری دی تھی۔

برطانیہ میں سب سے پہلے جو لوگ ویکسین لگوا رہے ہیں ان میں نیشنل ہیلتھ سروس، نرسنگ ہومز میں موجود معمر افراد اور ان کی دیکھ بھال کرنے والا عملہ شامل ہے۔


ویکسینیشن کی یہ مہم اس کے ایک ہفتے بعد شروع ہو رہی ہے جب حکومت کی میڈیکل ریگولیٹری ایجنسی نے ویکسین لگانے کی ہنگامی بنیادوں پر منظوری دی تھی۔

اس طرح برطانیہ ایک ایسا پہلا مغربی ملک بن گیا ہے جو اپنے شہریوں کو بڑے پیمانے پر ویکسین لگا رہا ہے۔ یہ منظوری امریکی دوا ساز کمپنی ‘فائزر’ کے اس اعلان کے بعد دی گئی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ویکسین حتمی تجربات میں 90 فی صد سے زیادہ حد تک مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

برطانیہ نے ‘فائزر اور بائیو این ٹیک’ کی تیار کردہ ویکسین کی آٹھ لاکھ خوراکیں اتوار کو وصول کی تھیں۔

برطانیہ نے فائزر سے مجموعی طور پر چار کروڑ ڈوزز خریدنے کا معاہدہ کر رکھا ہے۔

برطانیہ کی کل آبادی چھ کروڑ ساٹھ لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ تاہم ویکسین کو منفی 70 سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں رکھنے کے باعث اس کی فراہمی میں مشکلات کا بھی سامنا ہے۔

دوسری جانب کینیڈا نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ اسے کرونا ویکسین کی ابتدائی خوراکیں دسمبر کے اختتام تک مل جائیں گی۔

وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے پیر کو بتایا کہ دو لاکھ 49 ہزار خوراکیں اس ماہ کے آخر تک کینیڈا کو مل جائیں گی جب کہ 30 لاکھ ڈوزز آئندہ سال ملنے کے معاہدے ہو چکے ہیں۔ کینیڈا کی کل آبادی تین کروڑ ستر لاکھ ہے۔

ادھر ‘سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا’ نے بھی کووڈ-19 کی اس ویکسین کے ہنگامی استعمال کی اجازت طلب کی جو برطانیہ کی آکسفرڈ یونیورسٹی اور دوا ساز کمپنی ‘ایسٹرازینیکا’ تیار کر رہی ہے۔ یہ ویکسین دو سے آٹھ سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں محفوظ رکھی جا سکتی ہے۔


انڈونیشیا کے صدر جوکو ودودو نے بھی اتوار کو اعلان کیا تھا کہ چینی کمپنی ‘سینوویک بائیو ٹیک’ کی تیار کردہ ویکسین کی پہلی کھیپ موصول ہو گئی ہے۔

ایسے میں جب کہ کئی ممالک اپنے شہریوں کو ویکسین لگانے کی تیاری کر رہے ہیں، عالمی ادارہ صحت ضروری ویکسینیشن سے متعلق خبردار کر رہا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے عہدیداروں نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو ویکسین لگوانے کے لیے تیار کریں۔

امریکہ میں ہیلتھ ریگولیٹرز جمعرات کو ایک اجلاس میں شریک ہو رہے ہیں، جہاں اس بات پر غور ہو گا کہ آیا ‘فائزر اور بائیو این ٹیک’ کی ویکسین کے ہنگامی استعمال کی اجازت دی جائے یا نہیں۔

اسی طرح ایک اجلاس اس کے ایک ہفتے بعد ہو گا جس میں امریکی کمپنی ‘موڈرنا’ کی نگرانی میں تیار ہونے والی ویکسین پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

Photo Credit : https://cdn.koreabiomed.com/news/photo/202012/9785_9757_60.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: