بائیڈن کو اپنے دورِ صدارت میں کن چیلنجز کا سامنا ہو گا؟

بائیڈن کو اپنے دورِ صدارت میں کن چیلنجز کا سامنا ہو گا؟


امریکہ میں اس سال تین نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق جو بائیڈن امریکہ کے نئے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ تاہم اُن کا انتخاب ایسے موقع پر ہوا ہے جب امریکہ کو کرونا کی عالمگیر وبا، معاشی مسائل اور خارجہ پالیسی کے معاملات پر کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے۔

قومی اور عالمی معاملات پر امریکی عوام میں تقسیم بھی واضح طور پر عیاں ہے۔ تاہم جو بائیڈن کا کہنا ہے وہ امریکی عوام کو متحد کریں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے صدر کے لیے عوامی توقعات کے مطابق ان چیلنجز سے نبرد آزما ہونا آسان عمل نہیں ہو گا۔

سابق نائب صدر اور ڈیلاویئر سے سینیٹر جو بائیڈن یوں تو قومی سیاست میں کئی دہائیوں سے سرگرم ہیں تاہم انتخابات سے قبل کیے گئے اُن کے وعدے جن میں صحتِ عامہ اور تعلیم کے شعبوں میں سہولیات، کم سے کم اُجرت میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع اور غریب طبقے کی مالی اعانت جیسے وعدوں کے بعد عوام نے اُن سے اُمیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔

لیکن اُن کے لیے فوری نوعیت کا اہم مسئلہ کرونا وبا سے نمٹنا ہو گا جس کے لیے اُنہوں نے 20 جنوری کو اپنی حلف برداری سے قبل ہی کام شروع کر دیا ہے۔

جو بائیڈن نے امریکہ کے طبی ماہرین پر مشتمل ایک ٹاسک فورس تشکیل دی ہے جو وبا سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی بنائے گی۔

اپنی وکٹری اسپیچ میں جو بائیڈن نے دعویٰ کیا تھا کہ آنے والے دنوں میں وہ اس مہلک وبا سے کئی جانیں بچا سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بائیڈن کو درپیش چیلنجز بہت بڑے ہیں اور ان کی کامیابی کا انحصار ملک کو متحد کرنے اور صدر ٹرمپ کے اقتدار چھوڑنے کے بعد کیپٹل ہل میں ری پبلکنز کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے مشترکہ اہداف سے ہی ممکن ہو گا۔

یونیورسٹی آف ڈیلاویئر میں شعبہ سیاسیات کے پروفیسر ڈیوڈ ریڈلاسک کا کہنا ہے کہ “میں اُمید کرتا ہوں کہ ہم مرہم رکھنے کے راستے پر گامزن ہوں گے، لیکن یہ جلدی نہیں ہو گا اور نہ ہی یہ آسان ہو گا۔”

ری پبلکن سینیٹ

کرونا وبا سے نمٹنے کے لیے حکمتِ عملی کے علاوہ بائیڈن اس وبا کی وجہ سے بے روزگار ہونے والے دو کروڑ سے زائد امریکیوں کو معاشی ریلیف دینے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔

اپنے اصلاحاتی ایجنڈے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے بائیڈن کو لامحالہ سینیٹ میں اکثریتی جماعت ری پبلکن کے ساتھ سمجھوتے کرنا ہوں گے۔

خیال رہے کہ سینیٹ میں اکثریتی ری پبلکن رہنما مچ میکونل چھ سالہ مدت کے لیے دوبارہ سینیٹر منتخب ہو گئے ہیں۔

یونیورسٹی آف ٹیکساس کے شعبہ سیاسیات کے پروفیسر شینین او برائن کہتے ہیں کہ مچ میکونل جو بائیڈن کی جانب سے لبرل تقرریوں کی راہ میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔ لہذٰا اُنہیں اس کے لیے مچ کے ساتھ مذاکرات کرنے کی ضرورت پیش آئے گی۔


تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گو کے بائیڈن صدارتی انتخاب جیت گئے ہیں، تاہم اُن کی ڈیمو کریٹک پارٹی کو کانگریس کے ایوانِ بالا سینیٹ میں اکثریت نہیں مل سکی۔

امریکی سینیٹ کی بنیادی ذمہ داریوں میں صدر کے نامزد کردہ کابینہ ارکان، دیگر اہم وفاقی عہدے داروں اور اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی منظوری دینا سرِ فہرست ہے یہی وجہ ہے کہ ہر سیاسی جماعت کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اسے سینیٹ میں بھی اکثریت مل جائے تاکہ صدر کی جانب سے کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد آسان ہو۔

لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سینیٹ انتخابات میں ڈیمو کریٹک پارٹی کو اکثریت ملنا مشکل نظر آ رہا ہے۔ کیوں کہ جنوری میں ریاست جارجیا کی دو نشستوں پر کامیابی حاصل کرنا اس کے لیے لازمی ہے لیکن اسے ری پبلکنز کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ اگر ڈیمو کریٹس یہ دونوں نشستیں جیت جاتے ہیں تو سو رُکنی سینیٹ میں دونوں جماعتوں کے 50، 50 ارکین ہوں گے اور کسی بھی ٹائی کی صورت میں امریکی نائب صدر کا ووٹ فیصلہ کن ثابت ہو گا۔

بائیڈن ‘ڈیل میکر’ سیاست دان

ان تمام تر چیلنجز کے باوجود تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ کئی دہائیوں پر محیط جو بائیڈن کا سیاسی سفر اہم معاملات پر مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے سے عبارت رہا ہے۔ اوباما دور میں بطور نائب صدر بجٹ کے معاملات پر اختلافِ رائے کے دوران وہ سینیٹ میں اکثریتی رہنما مچ میکونل کے ساتھ مذاکرات کے بعد حل نکالنے میں کامیاب رہے تھے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ واشنگٹن ڈی سی میں کسی بھی ڈیڈ لاک کی صورت میں بائیڈن کے کام آئے گا۔

وینڈر بلٹ یونیورسٹی کے پروفیسر جیف بینیٹ کہتے ہیں کہ جو بائیڈن کے کیپٹل ہل میں دیرینہ تعلقات کے باعث ممکن ہے کہ وہ ایک غیر متوقع اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں جس سے حکومتی اُمور اور قانون سازی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے جس کا گزشتہ چار سالوں میں فقدان رہا ہے۔

اپنی وکٹری اسپیچ میں بائیڈن نے زور دیا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو مشترکہ بھلائی کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔

بائیڈن نے کہا تھا کہ “ہم مخالف ہو سکتے ہیں، لیکن ہم ایک دوسرے کے دُشمن نہیں ہیں۔”

پارٹی کے اندر اتفاق رائے

تجزیہ کاروں کے مطابق جو بائیڈن کو بیرونی محاذ کے علاوہ پارٹی کے اندر بھی کئی معاملات پر مخالف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پارٹی کے اعتدال پسند اور ترقی پسند رہنماؤں کے درمیان یونیورسل ہیلتھ کیئر کے پروگرام (صحتِ عامہ ہر کسی کے لیے) کے مجوزہ پلان پر بھی اختلافات سامنے آ سکتے ہیں۔

بعض ڈیمو کریٹک رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ اس پروگرام کے تحت کھربوں ڈالرز کی رقم درکار ہو گی جس کے لیے لامحالہ نئے ٹیکسز عائد کرنا ہوں گے۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں تاحال اکثریت حاصل نہ کرنا جب کہ ایوانِ نمائندگان میں بھی کچھ نشستوں سے شکست کی وجہ سے پارٹی کے اعتدال پسند اور ترقی پسند حلقوں کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔

بعض ڈیمو کریٹک رہنماؤں کی جانب سے پولیس کے اخراجات میں کٹوتی اور سوشلزم کے نعروں پر بھی اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔

Photo Credit : https://www.newdelhitimes.com/biden-defends-health-care-law-as-high-court-mulls-its-fate/

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: