ایسپر کی برطرفی، صدر ٹرمپ کے حامی پینٹاگون میں اعلٰی عہدوں پر تعینات

ایسپر کی برطرفی، صدر ٹرمپ کے حامی پینٹاگون میں اعلٰی عہدوں پر تعینات


امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیر دفاع مارک ایسپر کو برطرف کیے جانے کے ایک روز بعد صدر کے قریب سمجھی جانے والی تین شخصیات کو پینٹاگون کے کلیدی عہدوں پر تعینات کر دیا گیا ہے۔

ان افراد میں امریکی نشریاتی ادارے ‘فاکس نیوز’ سے ماضی میں وابستہ رہنے والے تجزیہ کار اور سابق فوجی افسر انتھونی ٹاٹا کو انڈر سیکریٹری آف ڈیفنس فار پالیسی تعینات کیا گیا ہے۔

انتھونی ٹاٹا کی نامزدگی کو سینیٹ نے اُن کے اسلام سے متعلق متنازع بیان پر منظوری نہیں دی تھی۔

ٹاٹا نے 2018 میں کی جانے والی بعض متنازع ٹوئٹس میں اسلام مخالف جذبات کا اظہار کرتے ہوئے سابق صدر براک اوباما کو بھی دہشت گرد رہنما قرار دیا تھا۔ تاہم بعدازاں اُنہوں نے اپنی ٹوئٹس ڈیلیٹ کر دی تھیں۔

ایزرا کوہن کو انڈر سیکریٹری فار انٹیلی جنس جوزف کیرنان کے استعفے کے بعد اُن کی جگہ قائم مقام چارج دیا گیا ہے۔

یہ تبدیلیاں مارک ایسپر کو ہٹائے جانے اور اُن کی جگہ کرسٹوفر ملر کو قائم مقام چارج دینے کے بعد سامنے آئی ہیں۔

کرسٹوفر ملر نے کاش پٹیل کو اپنا چیف آف اسٹاف مقرر کیا ہے ان سے قبل جین اسٹیورٹ سابق وزیر دفاع مارک ایسپر کے ساتھ یہ خدمات سرانجام دے رہے تھے۔


کوہن اور پٹیل دونوں کا شمار صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے اور یہ دونوں نیشنل سیکیورٹی کونسل میں بھی کام کر چکے ہیں۔ پٹیل صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے آخری دنوں میں شامل اُس خاص گروپ کا حصہ تھے جو صدر کے ہمراہ سفر کرتے رہے۔

علاوہ ازیں وہ نیشنل سیکیورٹی ڈویژن میں پراسیکیوٹر اور ہاؤس انٹیلی جنس کمیٹی میں بھی کام کر چکے ہیں۔ ہاؤس انٹیلی جنس کمیٹی میں وہ ری پبلکن رہنما ڈیون ننز کے ساتھ 2016 کے انتخاب میں مبینہ روسی مداخلت پر کی گئی تحقیقات میں بھی شامل رہے ہیں۔

بعض میڈیا رپورٹس میں پٹیل پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ اُنہوں نے انتخابات میں روسی مداخلت کی تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔

فروری 2019 میں وہ نیشنل سیکیورٹی کونسل میں تعینات ہو گئے جب کہ اس سال کے اوائل میں وہ دو امریکی شہریوں جن میں صحافی آسٹن ٹائیس بھی شامل ہیں کی بازیابی کے سلسلے میں شام بھی گئے تھے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ محکمہ دفاع میں عجلت میں کی جانے والی ان تبدیلیوں سے محکمے میں غیر یقینی صورتِ حال ہے اور یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ جو صدر ٹرمپ کا وفادار نہیں ہو گا اسے فارغ کیا جا سکتا ہے۔

مارک ایسپر کی برطرفی کے بعد پورا دن پینٹاگون میں یہ باتیں ہوتی رہیں کہ نئے صدر کی 20 جنوری کو حلف برداری سے قبل ٹرمپ انتظامیہ مزید کیا کر سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پینٹاگون میں تعینات سول اور فوجی افسران کو یہ خدشہ ہے کہ ایسے اقدامات سے بنیادی طور پر ایک غیر سیاسی محکمہ سیاست زدہ ہو سکتا ہے۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں سے اقتدار کی منتقلی کی راہ میں پہلے سے ہی حائل رکاوٹوں میں مزید مشکلات آ سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق کرسٹوفر ملر نے پینٹاگون میں اعلٰی حکام سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ وہ اس سے قبل نینشنل کاؤنٹر ٹیرارزم سینٹر کے ڈائریکٹر تھے۔

Photo Credit : https://s.yimg.com/ny/api/res/1.2/.EqaARkBhV_eEPqSSlg6MA–/YXBwaWQ9aGlnaGxhbmRlcjt3PTk2MDtoPTY0MA–/https://media-mbst-pub-ue1.s3.amazonaws.com/creatr-uploaded-images/2020-10/dbcdae60-1950-11eb-b7e7-1f8fbcb469fb

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: