ایران کے معروف جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ سپرد خاک

ایران کے معروف جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ سپرد خاک

ایران کے معروف جوہری سائنس دان محسن فخری زاد کو پیر کے روز سپرد خاک کرنے کی رسومات ادا کر دیں گئیں۔ انہیں جمعے کے روز ایک حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا جس کے بعد ایرانی رہنماؤں نے بدلہ لینے کی دھمکیاں دی ہیں۔

ایران کے وزیر دفاع جنرل عامرحاتمی نے محسن فخری زادہ کی تدفین کے سلسلے میں وزارت دفاع میں ہونے والے ایک اجتماع میں کہا کہ فخری زادہ کی ہلاکت ایرانیوں کو مزید مضبوط اور پر عزم بنائے گی اور ان کا ملک اپنا کام زیادہ رفتار اور قوت سے جاری رکھے گا۔

جمعے کے روز مسلح افراد نے فخری زادہ کی کار پر اس وقت حملہ کیا تھا جب ایک دیہی قصبے ابسرد کے نزدیک سفر کر رہے تھے۔

حمارا ہند کے مطابق ، ایران کی انگریزی زبان پریس ٹی وی نے اطلاع دی ہے کہ محسن فخری کے قتل میں اسرائیلی ساختہ ہتھیار جمعہ کے روز استعمال ہوئے تھے۔

پریس ٹی وی نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ دہشت گرد حملے کے بعد جائے وقوعہ سے جو ہتھیار اکھٹے کئے گئے تھے، ان پر اسرائیلی ملٹری انڈسٹری کا لوگو موجود تھا۔

اُدھر یروشلم میں اسرائیلی عہدے داروں نے ان رپورٹس پر فوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ اسرائیل کے انٹیلی جنس کے وزیر ایلی کوہن نے ایف ایم 103 ریڈیو کو پیر کے روز بتایا کہ انہیں نہیں معلوم کہ کون اس کا ذمہ دار ہے۔

اس حملے کے ردعمل میں ایران کی پارلیمنٹ نے ایک بل کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے جو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو ایران میں کام کرنے سے روک سکتا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت ہو رہی ہے جب امریکہ کے نومنتخب صدر جو بائیڈن کو اپنا عہدہ سنبھالنے میں دو ماہ سے بھی کم مدت رہ گئی ہے، جو ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے میں دوبارہ شامل ہونے کی جانب اشارہ کر چکے ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔

جب کہ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ہے۔

Photo Credit : https://arc-anglerfish-washpost-prod-washpost.s3.amazonaws.com/public/6EQCU7RS7UI6XDJYNLVBVWZYHE.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: