ایران نے نطنز جوہری پلانٹ میں بھی یورینم کی افزودگی شروع کر دی

ایران نے نطنز جوہری پلانٹ میں بھی یورینم کی افزودگی شروع کر دی


جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے نے ان رپورٹس کی تصدیق کی ہے کہ ایران نے اپنے ایک زیر زمین جوہری مرکز میں نصب سینٹریفوجز پرکام شروع کر دیا ہے۔

تاہم جوہری پیش رفت پر نظر رکھنے والے اس ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے باوجود وہاں افزودگی کی مجموعی صلاحیت میں کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں ہوا ہے۔

ویانا میں بدھ کے روز ہونے والی نیوز بریفنگ میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ 174 سینٹریفوجز کو ایران کی جوہری تنصیب نطنز منتقل کیا گیا ہے اور حال ہی میں ان پر یورینم کی افزودگی کا کام شروع کردیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی سینٹریفوجز کا استعمال کراس معاہدے کی خلاف ورزی ہے جو ایران نے 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ کیا تھا، جسے مشترکہ جامع عمل کا منصوبہ یا جے سی او اے کا نام دیا گیا تھا۔ گروسی نے کہا کہ سینٹریفوجز کے استعمال سے یورینم کی افزودگی کی سطح میں مجموعی طور پر کوئی بڑا اضافہ نہیں ہوا۔

لیکن ان کا کہنا ہے کہ ایران پہلے ہی معاہدے کے تحت مقرر کردہ افزودہ یورینم کی حد کو کافی پیچھے چھوڑ چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر عام زبان میں بات کی جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ افزودہ یورینم کی مقدار میں کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں ہوا۔ وہ پہلے ہی ایک مختلف جگہ پر یورینم کو افزودہ کرنے کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن بلاشبہ یہ 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے طے پانے والے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ آئی اے ای اے کے تفتیش کاروں کی جانب سے اس رپورٹ پر ایران سے وضاحت مانگی گئی تھی لیکن اس کا جواب تسلی بخش نہیں تھا۔

حمارا ہند کی رپورٹ میں ، جوہری توانائی کے رکن ممالک میں تقسیم شدہ ایک مصدقہ دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 2 نومبر کو ایران کے پاس 2،442.9 کلو گرام کم افزودہ یورینیم کا ذخیرہ تھا۔ یہ رقم 2105 ٫ 4 سے زیادہ تھی۔

ایران نے امریکہ، جرمنی، فرانس، برطانیہ، چین اور روس کے ساتھ 2015 میں جس معاہدے پر دستخط کیے تھے، اس کے تحت اسے 202٫8 کلوگرام افزودہ یورینم رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔

آئی اے ای اے کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران یورینم کو 4 اعشاریہ 5 فی صد تک افزودہ کر رہا ہے جو معاہدے میں مقرر کردہ سطح 3 اعشاریہ 67 فی صد سے زیادہ ہے۔

ایران نے اس وقت جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کا کھلم کھلا اعلان کیا تھا جب 2018 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کو ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے الگ کر لیا تھا۔

Photo Credit : https://aijac.org.au/wp-content/uploads/2020/09/v0pvwz9m7nngoe9o6fk8.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: