اپوزیشن نے گلگت بلتستان انتخابات کے نتائج مسترد کر دیے

اپوزیشن نے گلگت بلتستان انتخابات کے نتائج مسترد کر دیے

گلگت بلتستان اسمبلی کی 23 نشستوں پر اتوار کو ہونے والی پولنگ کے بعد نتائج کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔

غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق وفاق میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف نے گلگت بلتستان کی آٹھ نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی ہے جب کہ دوسرے نمبر پر آزاد امیدوار آگے ہیں جن کی تعداد سات ہے۔

حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے چار، پاکستان مسلم لیگ (ن) نے دو اور مجلس وحدت المسلمین نے ایک نشست پر کامیابی سمیٹی ہے جب کہ ایک نشست سے اب بھی نتائج آنا باقی ہیں۔

ابتدائی نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے سابق وزرائے اعلیٰ حفیظ الرحمان اور مہدی شاہ کو انتخابی معرکے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا الیکشن چوری کر لیا گیا ہے۔

بلاول نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ وہ گلگت بلتستان کے عوام کے احتجاج میں شریک ہوں گے۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے بھی انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کیا۔

انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں الزام عائد کیا کہ انتخابات میں پوری ریاستی طاقت، حکومتی اداروں اور سرکاری مشینری کا استعمال کیا گیا، اس بدترین دھاندلی کے باوجود سادہ اکثریت حاصل نہ کرنا حکومت کے لیے شرمناک شکست ہے۔

مریم نواز نے ایک اور ٹوئٹ میں گلگت بلتستان کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمت نہ ہاریں کیوں کہ حکومت کا کھیل ختم ہونے والا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے بھی الزام عائد کیا کہ انتخابات میں سرکاری وسائل استعمال کیے گئے۔ تاہم گلگت بلتسان کے چیف منسٹر کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق شاہد خاقان عباسی کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

حمارہ ہند سے بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ نگراں حکومت پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے انتخابات کو صاف ، شفاف اور غیر جانبدارانہ قرار دیا۔

دوسری جانب وفاقی وزیرِ اطلاعات شبلی فراز نے حزبِ اختلاف کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن نے الیکشن سے پہلے ہی دھاندلی کا منترا پڑھنا شروع کردیا تھا۔ اگر دھاندلی ہوتی تو تحریک انصاف 14 سے 15 نشستیں حاصل کر لیتی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے گلگت بلتستان پر زبانی جمع خرچ کیا جسے عوام نے مسترد کیا۔ اپوزیشن کا طریقہ کار یہ رہا ہے کہ جو الیکشن یہ جیتیں وہ ٹھیک ہوتے ہیں۔

سات نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک موصول ہونے والے غیر سرکاری نتائج کئی اعتبار سے مختلف ہیں۔

گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی اور تجزیہ کار عبدالرحمان بخاری کے مطابق گلگت بلتستان کے انتخابات کی ایک تاریخ رہی ہے اور وہی تاریخ دوبارہ دہرائی گئی ہے۔ حکمراں جماعت سے وابستہ امیدوارں کی اکثریت انتخابی معرکے میں کامیاب رہی ہے۔

حمارا ہند سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری گذشتہ تین ہفتوں سے گلگت بلتستان میں اپنی پارٹی کی مہم چلا رہے ہیں۔ اسی طرح مریم نواز نے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے کئی بڑے جلسے بھی کیے۔

اُن کا کہنا تھا کہ حالیہ انتخابات سے ثابت ہوا ہے کہ ترقیاتی کام بھی کسی سیاسی جماعت کے لیے فتح کا ضامن نہیں بن سکے۔

اُن کے بقول مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے کئی ترقیاتی کام کروائے جس میں بلتستان اسکردو سڑک کی تعمیر اور یونیورسٹی کا قیام سرِ فہرست ہیں، اس کے باوجود مسلم لیگ (ن) حالیہ انتخابات میں ناکام رہی۔

عبدالرحمان بخاری کے مطابق انتخابی مہم کے دوران وزیرِ اعظم عمران خان نے بھی ایک جلسے میں کئی اعلانات کیے تھے لیکن اس کے باوجود نو یا دس نشستوں پر تحریک انصاف کے امیدواروں کی کامیابی زیادہ احسن کامیابی ہر گز نہیں ہو سکتی۔

اُن کے بقول سیاسی جماعتوں کے برعکس سات آزاد امیدواروں نے تحریک انصاف کے امیدواروں کو شکست دی ہے جن کا نہ کوئی سیاسی منشور تھا اور نہ ہی کوئی بڑے بڑے اعلانات۔

Photo Credit : https://thekashmirpress.com/wp-content/uploads/2020/09/Gilgit-baltistan.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: