آئی جی کو کس نے ‘اغوا’ کیا؟ آرمی چیف کا تحقیقات کا حکم

آئی جی کو کس نے ‘اغوا’ کیا؟ آرمی چیف کا تحقیقات کا حکم

پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کراچی میں کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے لیے آئی جی سندھ کے مبینہ اغوا کا نوٹس لیتے ہوئے کور کمانڈر کراچی کو معاملے کی تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے منگل کو جاری بیان کے مطابق آرمی چیف نے کور کمانڈر کراچی ہمایوں عزیز کو تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے الزام عائد کیا تھا کہ کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کرنے سے انکار پر پاکستان رینجرز نے آئی جی سندھ کو اغوا کر کے اُنہیں کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری پر مجبور کیا۔

پاکستان کے ذرائع ابلاغ کے مطابق منگل کو آئی جی سندھ مشتاق مہر، کراچی پولیس چیف سمیت صوبے کے کئی اعلیٰ پولیس افسران نے ایک ساتھ چھٹی پر جانے کی درخواست دی۔

چھٹی پر جانے کی درخواست دینے والوں میں ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ عمران یعقوب منہاس اور ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن بھی شامل ہیں۔ ان افسران کے علاوہ اندرون سندھ کے کئی سینئر افسران نے بھی چھٹی پر جانے کی درخواست دی۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان افسران کا کہنا ہے کہ وہ پولیس افسر کی بے عزتی برداشت نہیں کر سکتے اور اس واقعے پر دل برداشتہ ہیں۔

یاد رہے کہ پیر کو علی الصبح کیپٹن (ر) صفدر کو کراچی کے نجی ہوٹل سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اُن پر بانیِ پاکستان کے مزار پر سیاسی نعرے لگانے کے الزامات کے تحت مزار کی بے حرمتی سے متعلق قانون کی خلاف ورزی پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تاہم بعدازاں مقامی عدالت نے اُنہیں ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔

بلاول بھٹو زرداری کی پریس کانفرنس

دریں اثنا پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل فیض حمید سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ تحقیقات کرائیں کہ صبح سویرے آئی جی سندھ کے گھر کا گھیراؤ کرنے والے دو اہلکار کون تھے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جس طرح مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے ساتھ کیا گیا اس پر وہ شرمندہ ہیں اور منہ دکھانے کے بھی قابل نہیں رہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ جنرل باجوہ اور جنرل فیض اپنے ادارے کی تحیققات کریں کہ وہ کس طرح سے صوبے میں کام کر رہے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ مزارِ قائد پر ایک نعرہ لگانے کی پاداش میں آئی جی سندھ کے ساتھ صبح چار بجے میٹنگ کرنے کا کیا مقصد تھا۔ کیا ہمارے شہر میں خود کش حملہ ہوا تھا۔ کیا قتل و غارت ہوئی تھی۔

بلاول بھٹو زرداری کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسے واقعات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ریاست کے اندر ریاست ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں ایک نہیں بلکہ کئی ریڈ لائنز عبور ہوئی ہیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد سندھ پولیس کے حوصلے انتہائی پست ہوئے ہیں۔ یہ برداشت نہیں کیا جا سکتا کہ پولیس کی بے عزتی کی جائے۔ تمام فورسز کی عزت ہوتی ہے اور کسی طور بھی پولیس کی بے عزتی برداشت نہیں کی جائے گی۔

وزیرِ اعلی سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی کا ذکر کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ سندھ حکومت نے کمیٹی بنا دی ہے لیکن پولیس افسران کو اسی صورت تسلی ہو گی جب آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی اپنے طور پر بھی تحقیقات کرائیں۔

وزیرِ اعظم کا ذکر کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ جب عمران خان قائد کے مزار پر آتے تھے تو ان کے کارکن اسی طرح نعرے لگاتے تھے۔ کالعدم تنظیمیں بھی وہاں نعرے لگاتی تھیں۔ لیکن کبھی ایف آئی آر نہیں ہوئی۔

اُن کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کا جلسہ عمران خان حکومت کے خلاف کھلا ریفرنڈم تھا۔

وزیر اعلٰی سندھ کی پریس کانفرنس

قبل ازیں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مقدمے کے اندراج اور اُن کی گرفتاری سے متعلق سامنے آنے والی باتوں کی تحقیقات کے لیے حکومتی وزرا پر مشتمل ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے گی۔

پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں نے کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے لیے آئی جی سندھ کے اغوا اور رینجرز کے دفتر میں اُنہیں زبردستی کیپٹن صفدر کی گرفتاری پر مجبور کرنے سے متعلق سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔

وزیر اعلٰی سندھ نے کہا کہ بہت سی باتیں اُن کے علم میں ہیں، لیکن فی الحال وہ میڈیا کے سامنے کچھ نہیں کہہ سکتے کیوں کہ اس سے انکوائری متاثر ہو سکتی ہے۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ شام سے لے کر رات تک پولیس پر دباؤ ڈالا جاتا رہا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس دوران بعض تشویش ناک باتیں سامنے آئیں جس کے بعد اس معاملے پر حقائق سامنے لانے کے لیے انکوائری کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر اعلٰی سندھ نے کہا کہ ایک وفاقی وزیر نے باقاعدہ طور پر پولیس کو دھمکیاں دیں کہ مقدمہ درج کرو۔ اُن کا کہنا تھا کہ مدعی وقاص نے الزام لگایا ہے کہ اسے جان سے مارنے کی دھمکی دے کر درخواست دینے پر مجبور کیا گیا۔

وزیر اعلی سندھ کا کہنا تھا کہ پولیس کو ڈرانا دھمکانا منتخب نمائندوں کا کام نہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف قائم کیے گئے جھوٹے مقدمے میں کہا گیا کہ اُنہوں نے قتل کی دھمکیاں دیں۔ مدعی وقاص کی لوکیشن معلوم کی تو وہ اس وقت بقائی یونیورسٹی کے قریب تھے جو مزارِ قائد سے کافی دُور ہے۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ مدعی کا مزید ریکارڈ نکالا گیا تو معلوم ہوا ہے کہ اس کا کریمنل ریکارڈ ہے۔

وزیر اعلٰی سندھ نے بتایا کہ اُنہیں صبح ساڑھے چار بجے معلوم ہوا کہ کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان پر 506 بی کا مقدمہ بنایا گیا ہے اس کے بعد جو کچھ ہوا اس کا تذکرہ میڈیا پر کیا تو انکوائری متاثر ہو گی۔

وفاقی حکومت کا ردعمل

وزیر اعلی سندھ کی پریس کانفرنس کے بعد وزیر اعظم پاکستان کے معاونِ خصوصی ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ وزیر اعلی سندھ کی باتوں میں تضاد ہے۔ ایک جانب وہ مانتے ہیں کہ مزار کے تقدس کو پامال کیا گیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ دوسری طرف کہتے ہیں اس پر کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔

شہباز گل کا کہنا تھا کہ ایک طرف وزیر اعلٰی کہہ رہے ہیں کہ پولیس ہمارے کنٹرول میں ہے اور دوسری طرف کہتے ہیں کہ اُنہیں صبح علم ہوا کہ ایف آئی آر کٹ گئی ہے۔

شہباز گل کا کہنا تھا کہ اگر یہ سب کچھ سندھ حکومت کی مرضی سے نہیں ہوا تو پولیس سے پوچھیں اور آئی جی کو فارغ کر دیں۔ جب جرم ہوا تو کارروائی پر شور کیوں مچایا جا رہا ہے۔

اُن کے بقول وزیر اعلٰی سندھ کی پریس کانفرنس سے یہ بات طے ہو گئی کہ چند شرپسند لوگ اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہے تھے وہ جھوٹ تھا انہیں شرم آنی چاہیے۔

Photo Credit : https://imagevars.gulfnews.com/2019/06/06/2019-05-30T164606Z_486045579_RC1250AFD490_RTRMADP_3_PAKISTAN-MILITARY-SPYING–Read-Only-_16b2da58a95_medium.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: