امن مذاکرات: افغان خواتین مستقبل اور حقوق سے متعلق خدشات کا شکار

امن مذاکرات: افغان خواتین مستقبل اور حقوق سے متعلق خدشات کا شکار

طویل انتظار کے بعد طالبان اور افغان حکومت کے درمیان بین الافغان مذاکرات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں شروع ہو گئے ہیں۔ جہاں فریقین گزشتہ 40 سال سے ملک میں جاری شورش اور بد امنی کے خاتمے کے لیے متفقہ لائحہ عمل طے کرنے کی کوشش کریں گے۔

افغان عوام ان مذاکرات کی کامیابی کا بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں۔ تاہم افغانستان میں بسنے والی خواتین اب بھی اپنے حقوق کے لیے زیادہ پُر امید نظر نہیں آتیں۔

بین الافغان مذاکرات کی افتتاحی تقریب کے موقع پر جب ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے طالبان رہنماؤں سے خواتین کے حقوق کے بارے میں پوچھا تو ان کے جوابات واضح نہیں تھے۔

بہشتہ ارغند پیشے کے لحاظ سے صحافی ہیں۔ انہوں نے افغانستان میں براہِ راست طالبان کا دور تو نہیں دیکھا۔ البتہ انہوں نے اپنے بڑوں سے اس دور کے قصے ضرور سنے ہیں۔

دیگر افغان باشندوں کی طرح بہشتہ کو بھی افغان حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے بین الافغان مذاکرات سے بہت زیادہ امیدیں ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ افغانستان میں جلد سے جلد امن قائم ہو تاکہ ہر شخص پُرامن زندگی گزار سکے۔

ہمارا ہند سے بات کرتے ہوئے ، بہشتا ارغند نے کہا کہ 1996 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کا کنبہ پاکستان ہجرت کر گیا۔ ایک سال بعد ، وہ پشاور کے نواح میں شمشوٹو پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوا۔

بہشتہ کے بقول انہوں نے ابتدائی تعلیم مہاجر کیمپ کے اسکول میں حاصل کی جس کے بعد 2012 میں ان کے خاندان کو واپس کابل جانا پڑا۔

بہشتہ کابل یونیورسٹی کے جرنلزم ڈیپارٹمنٹ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد ان دنوں ملکی اور غیر ملکی میڈیا اداروں کے لیے کام کر رہی ہیں۔

بہشتہ کے مطابق صحافت کا شوق اُنہیں پاکستان میں مہاجر کیمپ کے دوران اس وقت ہوا جب وہ پاکستان ٹیلی وژن پر خواتین کو پشتو زبان میں خبریں پڑھتے دیکھتی تھیں۔ تب سے اُنہیں بھی یہ شوق ہوا کہ وہ مستقبل میں افغانستان کی خواتین کی آواز بنیں تاکہ عالمی برادری کو بتا سکیں کہ وہ مزید جنگ نہیں چاہتیں اور دیگر ممالک میں بسنے والے افراد کی طرح پر امن زندگی گزارنا چاہتی ہیں۔

اُن کے بقول، “میں نے افغانستان میں طالبان کا دورِ حکومت خود تو نہیں دیکھا لیکن میرے اہلِ خانہ کی اس دور کی یادیں کچھ زیادہ خوشگوار نہیں ہیں۔

بہشتہ کہتی ہیں کہ افغانستان میں خواتین کی آزادی کے لحاظ سے ڈاکٹر نجیب کا دور سنہرا تھا جس میں ہر کسی کو شخصی آزادی حاصل تھی۔ لیکن اس کے بعد کے ادوار میں آہستہ آہستہ خواتین کے تمام حقوق سلب ہو گئے اور حتیٰ کہ طالبان کے دور میں تو خواتین کے کام کرنے پر بھی پابندی لگ گئی۔

بہشتہ کے نزدیک اب خواتین کو محدود رکھنا ممکن نہیں ہو گا۔ کیوں کہ اب حالات بہت بدل چکے ہیں۔

یاد رہے کہ افغانستان میں طالبان کے دورِ حکومت میں خواتین کے حوالے سے بہت سخت قوائد و ضوابط تھے جس کی وجہ سے اُن کے طرز حکومت کو عالمی سطح پر پذیرائی نہیں ملی تھی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ طالبان اب آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور اس لحاظ سے ضروری ہے کہ وہ اپنی پالیسی میں لچک کا مظاہرہ کریں۔

طالبان کی قیادت نے بھی بارہا خواتین کی تعلیم اور روزگار کے حوالے سے اپنے رویوں میں لچک کا مظاہرہ کیا ہے اور متعدد بار یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اُنہیں خواتین کی تعلیم اور روزگار کے حوالے سے شرعی اصولوں کی پیروی کرتے ہوئی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

تاہم بہشتہ ارغند طالبان کی اس دلیل سے مطمئن نہیں ہیں۔ اُن کے مطابق طالبان سے اب بھی خواتین کے مسائل کے حوالے سے بات کی جائے تو اُن کا جواب ہوتا ہے کہ اس پر بعد میں بات کی جائے گی۔ اس لحاظ سے افغانستان کے عوام جاننا چاہتے ہیں کہ انہیں اپنی پالیسی کی وضاحت کرنا ہو گی کہ وہ افغانستان کی خواتین کے حقوق کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔

بہشتہ کے مطابق یہ ایک نئی نسل ہے۔ دو دہائی قبل اور آج کے افغانستان میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔

طالبان اور افغان حکومت کے نمائندوں کے درمیان ہفتے کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بین الافغان مذاکرات کے حوالے سے افتتاحی تقریب کے بعد اب باقائدہ طور پر مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔ جس میں وہ افغانستان کے مستقبل کے لیے لائحہ عمل طے کریں گے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ افغان وفد میں خواتین کی بھی نمائندگی ہے لیکن طالبان کے وفد میں کوئی خاتون شامل نہیں ہے۔

طالبان کا کہنا ہے کہ ضروری نہیں کہ ان کا وفد کسی خاتون کی عدم موجودگی میں ان کے حقوق کی بات نہیں کر سکتا۔

شینکئی کروخیل، 2005 سے افغان پارلیمنٹ کی رکن ہیں۔ اُن کے مطابق وہ طالبان اور اس کے بعد کے دور کا مقابلہ نہیں کر سکتیں کیوں کہ طالبان کے دور میں تو خواتین کے کوئی حقوق ہی نہیں تھے۔

ہمارا ہند سے بات کرتے ہوئے ، شنکائی کروخیل نے کہا کہ آج ، افغان لڑکیاں ملکی پارلیمنٹ اور کابینہ کے ساتھ ساتھ نجی شعبے اور میڈیا میں بھی خدمات انجام دے رہی ہیں۔

اُن کے بقول خواتین کے لیے افغانستان کی یونیورسٹیوں کے دروازے کھلے ہیں جو کہ خوش آئند ہے اور اسے جاری رہنا چاہیے۔

شینکئی کروخیل کہتی ہیں کہ طالبان کا دوبارہ اقتدار میں آکر پھر سے پرانا نظام نافذ کرنا اب ناممکن ہے۔ کیوں کہ افغانستان میں آمریت کے دروازے مکمل طور پر بند ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آمریت کے ذریعے کوئی نظام نہیں چل سکتا۔ اس لیے حکومت سازی کے لیے باقاعدہ انتخابات ہوں گے اور اس کے نتیجے میں حکومت قائم ہو گی۔

شینکئی کروخیل کے مطابق الیکشن میں خواتین کے بھی بڑی تعداد میں ووٹ ہیں اور وہ اپنے اچھے برے سے متعلق بہتر جانتی ہیں۔ اس لیے ماضی جیسے نظام جس میں خواتین کے لیے کوئی کردار نہیں تھے، باقی ماندہ دنیا کے لیے بھی یہ نظام قابل قبول نہیں ہو گا۔

رکن اسمبلی شینکئی کہتی ہیں کہ افغانستان کی خواتین کو مکمل یقین ہے کہ عالمی برادری ایسے کسی بھی نظام کی حمایت نہیں کرے گی جس کا تجربہ افغانستان میں پہلے ہو چکا ہے۔ شینکئی کروخیل کہتی ہیں کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق افغانستان کی 70 فی صد سے زائد خواتین نا خواندہ ہیں جس کی وجہ سے انہیں صحت، روزگار، معاشی طور پر با اختیار، سیاست میں کردار ادا کرنے اور گھریلو تشدد جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم وہ پُر امید ہیں کہ اب جبکہ افغانستان میں ایک نظام چل پڑا ہے اور ایسے حالات میں اسے مزید مضبوط کیا جائے گا۔

https://mondediplo.com/local/cache-vignettes/L890xH627/lmd_0820_08_getty_963985052_-8f114.jpg?1596026279

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: