امریکی کمپنی فائزر کا 90 فی صد مؤثر کرونا ویکسین بنانے کا دعویٰ

امریکی کمپنی فائزر کا 90 فی صد مؤثر کرونا ویکسین بنانے کا دعویٰ

امریکی دوا ساز کمپنی ‘فائزر’ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بنائی گئی کرونا وائرس کی تجرباتی ویکسین 90 فی صد سے زائد مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ کمپنی اسے کرونا وبا کے خلاف بڑی کامیابی قرار دے رہی ہے جس کے باعث اب تک پوری دنیا میں 12 لاکھ 57 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

پیر کو فائزر اور اس کی معاون جرمن کمپنی ‘بائیو این ٹیک’ یہ دعویٰ کرنے والی دنیا کی پہلی دوا ساز کمپنیاں بن گئی ہیں جنہوں نے بڑے پیمانے پر کلینیکل ٹرائل کے بعد اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ٹرائل میں ثابت ہوا کہ ویکسین کے استعمال سے کوئی منفی ردعمل نہیں ہوا جس کے بعد رواں ماہ امریکی حکومت کی منظوری کے بعد اس کی ہنگامی ترسیل شروع کی جا سکتی ہے۔

لیکن ابھی یہ واضح نہیں کہ مذکورہ ویکسین کتنے عرصے تک انسان کو وائرس سے محفوظ رکھے گی جب کہ فوری طور پر اس کی محدود خوارکیں دستیاب ہوں گی۔

ماہرین کے بقول اس خبر سے یہ اُمید بڑھ گئی ہے کہ کرونا سے بچاؤ کے لیے تیار کی جانے والی دیگر ویکسینز کے بھی مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔

پیر کو ایک بیان میں ‘فائزر’ کے چیئرمین البرٹ بورلا نے کہا کہ یہ سائنس اور انسانیت کے لیے عظیم دن ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ہم اس وبا سے نمٹنے کے لیے کامیاب ویکسین کا سنگِ میل ایسے وقت میں حاصل کر رہے ہیں جب دنیا کو اس کی اشد ضرورت ہے، وائرس کے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں اور اسپتالوں میں گنجائش بھی کم پڑ رہی ہے۔

فائزر کے حکام پر اُمید ہیں کہ اُنہیں 16 سے 85 سال تک کے افراد کو ویکسین فراہم کرنے کے لیے رواں ماہ کے آخر تک اجازت مل جائے گی۔ تاہم اس سے قبل اُنہیں تحقیق میں شامل 44 ہزار رضا کاروں میں سے نصف کا حفاظتی ڈیٹا فراہم کرنا ہو گا جو رواں ماہ کے اختتام تک متوقع ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے ایک ٹوئٹ میں فائزر کے اس دعوے کو بہت اچھی خبر قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین جلد آ رہی ہے جو 90 فی صد مؤثر ہے۔

فائزر کے اس اعلان کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں اس کے شیئرز کی قیمت میں چھ فی صد جب کہ جرمن کمپنی ‘بائیو این ٹیک’ کے امریکہ میں حصص کی قیمتوں میں 18 فی صد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

کرونا ویکسین بنانے والی دیگر دوا ساز کمپنیوں کے حصص کی مالیت میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

فائزر کی تحقیق امریکہ میں کرونا وبا سے نمٹنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے ‘آپریشن وارپ اسپیڈ’ کا حصہ نہیں لیکن امریکی انتظامیہ نے اس کی ویکسین محفوظ اور مؤثر ثابت ہونے کی صورت میں 10 کروڑ خوراکوں کے عوض ایک ارب 95 کروڑ ڈالر دینے کا معاہدہ کر رکھا ہے۔

دونوں کمپنیوں نے یورپی یونین، برطانیہ، کینیڈا اور جاپان کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے معاہدے کر رکھے ہیں۔

فائزر نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ 2021 میں ویکسین کی ایک ارب 30 کروڑ خوارکیں تیار کر لیں گے۔

خیال رہے کہ فائزر کی جانب سے کرونا کی ممکنہ ویکسین کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں کرونا وائرس کے آغاز سے اب تک اس کے متاثرین کی مجموعی تعداد 5 کروڑ سے زیادہ ہو گئی ہے۔

جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق وبائی مرض سے دنیا بھر میں اب تک 12 لاکھ 56 ہزار 254 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکہ میں وبائی مرض کے آغاز سے اب تک 99 لاکھ 71 ہزار 650 سے زیادہ کیسز سامنے آ چکے ہیں جب کہ دو لاکھ 37 ہزار سے زیادہ اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔

امریکہ کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد کے لحاظ سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہے جب کہ بھارت کا نمبر دوسرا ہے جہاں اب تک 85 لاکھ سے زائد مریضوں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے اور ایک لاکھ 26 ہزار سے زائد اموات بھی ہوئی ہیں۔

Photo Credit : https://i.inews.co.uk/content/uploads/2020/11/PRI_171971406.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: