امریکی صدارتی انتخاب میں فاتح کا اعلان کون کرتا ہے؟

امریکی صدارتی انتخاب میں فاتح کا اعلان کون کرتا ہے؟


بہت سے لوگوں کے خیال میں امریکہ کی صدارت کا فاتح وہ ہوتا ہے جس کا اعلان میڈیا کرتا ہے اور ہارنے والا امیدوار اپنی تقریر میں اپنی شکست کو قبول کر لیتا ہے۔ لیکن در حقیقت ایسا نہیں ہے۔ کسی صدارتی امیدوار کی فتح کے باضابطہ اعلان میں مہینوں لگ جاتے ہیں، اور یہ ایک طویل عمل ہے جو جنوری میں جا کر مکمل ہوتا ہے۔

اس عمل میں امریکی شہری انتخاب کرنے والے کو ووٹ دیتے ہیں، پھر یہ انتخاب کنندہ صدرکو ووٹ دیتا ہے اور پھر کانگریس الیکشن کے فاتح کا اعلان کرتی ہے۔

امیریکن یونیورسٹی میں سائن انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اینڈ پالیٹکس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایمی ڈیسی کہتی ہیں کہ ایک تو انتخاب والا دن ہوتا ہے، جب انتخاب کرنے والوں کو منتخب کیا جاتا ہے، پھر دسمبر میں یہ انتخاب کرنے والے مل بیٹھتے ہیں اور صدر کیلئے رائے دہی ہوتی ہے، اور پھر جنوری میں جا کرکانگریس انتخابات کی تصدیق وتوثیق کرتے ہوئے صدر کا اعلان کرتی ہے۔

مزید برآں، الیکٹورل کالج جب صدر کا اتخاب کرتا ہے، تو اس کی تصدیق و توثیق امریکی سینیٹ، ایوان نمائندگان، اور نیشنل آرکائیوز کرتی ہے۔

چار ماہ پر محیط یہ عمل، اُس سمجھوتے کا نتیجہ ہے جو کہ امریکہ کے دسستور کے خالقین میں طے پایا تھا، جو کہ اس بات پہ قائل نہ ہو سکے تھے کہ عام ووٹر کسی لائق لیڈر کو منتخب کر سکیں۔

ڈیسی کہتی ہیں کہ امریکہ کے بانیوں کو اپنے شہریوں پر اعتماد نہیں تھا کہ وہ ایک درست فیصلہ کر سکتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی وہ، اس فیصلہ سازی کا پورا اختیار کانگریس کو بھی نہیں دینا چاہتے تھے۔

انتخابات کے ماہرین یہ پیش گوئی کر رہے ہیں کہ اس سال کووڈ-19 عالمی وبا کی وجہ سے اور جس بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے گئے، ووٹوں کی گنتی میں دیر ہو سکتی ہے۔

مسسی سپی سٹیٹ یونیورسٹی میں امیریکن پالیٹکس کی اسسٹنٹ پروفیسرلِیہ میریواکی کہتی ہیں کہ یہ قانونی عمل ہے جس کی بہرحال پیروی کرنا ہوتی ہے۔ الیکشن والی رات ہی نتائج کا اعلان کرنے سے مزید ابتری پھیل سکتی ہے اور بد اعتمادی پیدا ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب، لوگ چاہتے ہیں کہ الیکشن والی رات ہی نتائج سامنے آ جائیں۔ اس لئے انتخابی عملے اور عہدیداروں کا کام زیادہ مشکل ہو گا کیونکہ وہ سارے عمل کو شفاف رکھنے کی تگ و دو میں ہونگے۔

ایک دفعہ جب 50 ریاستوں، اور دارالحکومت ڈی سی کے ووٹوں کی گنتی ہو جائے گی، تو پھر ہر ریاست کا گورنر صدر کا انتخاب کرنے والے الیکٹورل کالج کے ارکان کی فہرست مرتب کرے گا۔ پھر ان فہرستوں کی نقول جنہیں سرٹیفیکیٹ آف اسرٹینمنٹ کہا جاتا ہے، یو ایس آرکائیوسٹ کے پاس جائیں گی، جو کہ نیشنل آرکائیوز کے سربراہ ہیں۔

اس کے بعد، ہر ریاست کے الیکٹرز یعنی انتخاب کرنے والے اپنی اپنی ریاست میں اکٹھا ہونگے اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا کے الیکٹر یہاں ڈی سی میں ملیں گے تا کہ صدر کیلئے اپنا ووٹ دیں۔ الیکٹرز کے یہ اجلاس دسمبر دوسرے بدھ کے بعد پیر کے روز ہو گا اور اس دفعہ یہ تاریخ 14 دسمبر ہو گی۔

ہر ریاست کے الیکٹرز اپنے ووٹ دینے کے بعد، جنہیں سرٹیفیکیٹس آف ووٹ کہا جاتا ہے، اپنی ریاست کے عہدیداروں اور امریکی سینیٹ اور امریکی آرکائیوز کو بھیجیں گے۔ اس کے بعد الیکٹورل کالج کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔

آخری مرحلہ چھ جنوری 2012کو آئے گا، جب کانگریس اپنا اجلاس کرے گی اور الیکٹورل ووٹ کی گنتی ہو گی اور تب سرکاری طور پر فاتح یعنی صدر کی تصدیق و توثیق کی جائے گی۔

Photo Credit : https://www.dailyreckoning.com.au/wp-content/uploads/2020/10/us-election-investors.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: