امریکی انتخابات کے بعد غیر ملکی طلبہ ویزا پالیسی کے حوالے سے پراُمید

امریکی انتخابات کے بعد غیر ملکی طلبہ ویزا پالیسی کے حوالے سے پراُمید

امریکہ میں مختلف ممالک سے تعلیم کے حصول کے لیے آئے طلبہ پرامید ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں طلبہ اور امیگریشن پالیسی میں جو بائیڈن کے صدر بننے کی صورت میں تبدیلیاں آئیں گی۔

جارجیا اسٹیٹ یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم یوکرینی طالب علم رومان ایواسی کا کہنا ہے کہ “میں اس پر یقین رکھتا ہوں کہ غیر ملکی طلبہ اپنی تعلیم کے حصول کے دوران خود کو زیادہ محفوظ تصور کریں گے۔ خصوصاً کرونا کے مسئلے کے دوران، جب زیادہ تر تعلیمی پروگرام آن لائن ہو گئے ہیں۔”

کرونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران اس برس مارچ سے امریکہ میں کالج اور یونیورسٹیاں بند ہیں جس کی وجہ سے غیر ملکی طلبہ اپنے ویزوں میں توسیع کے حوالے سے پریشان ہیں۔

ملائیشیا سے تعلق رکھنے والی طالبہ عائشہ وراستو کا کہنا ہے کہ “اب میں اُمید کرتی ہوں کہ امریکہ کا سفر کرنا قدرے آسان ہو گا اور خاص طور پر گریجویشن مکمل کرنے کے بعد ویزا کی درخواست دینے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔”

خیال رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے عندیہ دیا تھا کہ وہ ایسے طلبہ کے ویزوں میں توسیع نہیں کریں گے جو گریجویشن کے بعد ایچ ون۔ بی ویزا کے تحت سائنس، انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی سمیت دیگر شعبوں میں عملی تربیت کے لیے تین سال کا ورک ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔

کارنل یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم برازیل کی طالبہ مایانہ سی۔۔ کا کہنا تھا کہ انتخابات کے نتائج کے دوران وہ بہت دباؤ میں تھیں۔ اُن کا کہنا تھا کسی بھی ممکنہ ردعمل سے بچنے کے لیے وہ اپنا پورا نام ظاہر نہیں کر سکتیں۔

مایانہ کہتی ہیں کہ یہ اُن کے لیے مایوس کن ہے کہ وہ الیکشن کے اس تاریخی عمل کا حصہ نہیں بن سکیں جس کا لامحالہ اثر اُن جیسے طلبہ پر پڑے گا جو سال کا بیشتر وقت امریکہ میں گزارتے ہیں۔

رواں سال ٹرمپ انتظامیہ نے غیر ملکی طلبہ کے لیے ویزا قوانین میں کئی تبدیلیاں کی ہیں جس کی وجہ سے لاکھوں طلبہ اپنے مستقبل کے حوالے سے غیر یقنی صورتِ حال سے دوچار ہیں۔

ستمبر میں ہوم لینڈ سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ نے ایک نیا قانون متعارف کیا کہ جس کے تحت ‘ایف’ اور ‘جے’ اسٹوڈنٹ ویزا صرف چار برس کے لیے ہو گا جب کہ کئی تعلیمی پروگرام چار سال سے زائد بھی ہوتے ہیں۔

اس قانون کے تحت ایسے ممالک جن کے 10 فی صد سے زائد طلبہ نے ویزے کی میعاد ختم ہونے کے باوجود قیام کیا یا ایسے ممالک جو محکمہ خارجہ کی ٹیرارزم لسٹ میں شامل ہیں وہاں کے طلبہ کو صرف دو سال کا ویزا دیا جائے گا۔

امریکی امیگریشن ایجنسی ‘آئس’ نے بین الاقوامی طلبہ سے کہا تھا کہ اگر وبا کے باعث یونیورسٹیز اور کالجز کی کلاسز صرف آن لائن تک محدود رہیں تو غیر ملکی طلبہ کو اپنے ملکوں میں واپس جانا ہو گا۔

اگست میں ایک نیا قانون متعارف کرایا گیا جس کے تحت ایسے غیر ملکی طلبہ جو وبا کی وجہ سے آن لائن کلاسیں لے رہے تھے انہیں کیمپس جانے کا کہا گیا ورنہ انہیں ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ قانون ایک ہفتے بعد شدید تنقید کے بعد واپس لے لیا گیا۔

اسی طرح صدر ٹرمپ نے ایک صدارتی حکم نامے کے تحت کئی چینی طلبہ کو اس الزام کے تحت ملک میں آنے سے روک دیا تھا کہ وہ امریکی ‘انٹلیکچوئیل پراپرٹی’ چراتے ہیں۔

منی سوٹا یونی ورسٹی میں روس سے تعلق رکھنے والی طالبہ اینا شیٹی نینا نے کہا کہ ’’ٹرمپ کی جانب سے غیر ملکی طلبہ سے متعلق اقدامات کے باعث وہ ذہنی دباؤ کا شکار تھیں۔ لیکن اب یہ اندیشہ ہے کہ بائیڈن کے دور میں روس کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کشیدہ ہو سکتے ہیں۔

واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ڈومینیکن طالب علم ہوزے اے الماڈاوور نے کہا کہ ’’ہم فل برائٹ ہیں، ہمیں یہ اعزاز ہے کہ ہمیں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اسپانسر کیا ہے۔ مگر بہت سے غیر ملکی طلبہ کو یہ سہولت حاصل نہیں ہے۔ اور انہیں یہ خدشات ہیں کہ صدر ٹرمپ کے ہوتے ہوئے ان کے ویزا کی سہولیات کسی بھی وقت منقطع ہو سکتی ہیں۔”

کچھ طلبہ کا خیال ہے کہ غیر ملکی طلبہ کے لیے اسٹوڈنٹ ویزا کی پالیسیوں میں زیادہ فرق نہیں آئے گا۔

اسٹونی بروک یونیورسٹی، نیویارک میں مصر سے تعلق رکھنے والے طالب علم محمد بداوے نے کہا کہ”میرا دیانتدارانہ خیال ہے کہ بائیڈن متوازن ہوں گے، مگر ان کی وجہ سے ویزا سسٹم میں کوئی بہت زیادہ مثبت تبدیلی نہیں آئے گی۔”

عائشہ وراستو کا کہنا تھا کہ “مجھے امید ہے کہ وفاقی فنڈز میں غیر ملکی طلبہ کے لیے امداد بھی شامل ہو گی۔”

انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ایجوکیشن کے مطابق بین الاقوامی طلبہ کو نجی قرضوں کی سہولت حاصل ہوتی ہے۔ انہیں معاشی امداد نہیں ملتی۔ 60 فی صد اپنی جیب سے تعلیمی اخراجات پورے کرتے ہیں۔

Photo Credit : https://news.harvard.edu/wp-content/uploads/2020/03/iStock-513103439-1200×800.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: