امریکیوں کے لیے کرونا وائرس امدادی پیکیج کانگریس میں تعطل کا شکار

امریکیوں کے لیے کرونا وائرس امدادی پیکیج کانگریس میں تعطل کا شکار


امریکی قانون سازوں کے پارٹی بنیادوں سے ہٹ کر کام کرنے والے گروپ کی طرف سے امریکیوں کے لیے کووڈ 19 کے 900 ارب ڈالر کا امدادی پیکیج میں جمعرات کے روز اس وقت تعطل آ گیا، جب سینیٹ میں اکثریتی جماعت کے لیڈر مچ میکونیل نے کہا کہ ری پبلکن جماعت کے سینیٹر اس بل کی حمایت نہیں کریں گے۔

اس پیکیج میں 160 ارب ڈالر ریاستوں اور مقامی حکومتوں کی امداد کے لیے دیے جانے تھے۔

سینیٹر مچ میکنول کے سٹاف نے مذاکرات کاروں کو بتایا کہ سینیٹر مچ میکونل اس امدادی پیکیج کی موجودہ حالت میں حمایت نہیں کریں گے۔ سینیٹر میکونیل کے اس مؤقف کی وجہ سے 900 ارب ڈالر کے اس امدای پیکیج کی منظوری ایک نئے تعطل کا شکار ہو گئی ہے۔

اس کے ساتھ ایک اور غیر متعلقہ سرکاری فنڈنگ کی ڈیڈ لائن کو خطرہ ہے، جسے جمعہ کی نصف شب تک منظور ہونا ہے۔ جس کے بغیر ہفتے کے روز سے کاروبارِ حکومت کے ٹھپ ہونے کا خطرہ ہے اور حکومتی شٹ ڈاؤن کا آغاز ہو سکتا ہے۔ اس صورت حال کے سلسلے میں بات چیت جاری ہے۔

ایک ہفتے کے لیے فنڈنگ کی منظوری دے دی گئی تھی تا کہ مرکزی حکومت کا کاروبار چلتا رہے۔ بدھ کے روز ایوان نے کاروبارِ حکومت کے جاری رہنے کے لیے کم مدتی فنڈنگ کی منظوری دی تھی۔ اب جمعہ سے قبل سینیٹ سے اس کی منظوری ہونا لازمی ہے ورنہ جمعہ کے بعد جزوی شٹ ڈاؤن ہو سکتا ہے۔

اب اگلی ڈیڈ لائن 18 دسمبر ہے لیکن ایوان نمائندگان اور سینیٹ کا کہنا ہے کہ امدادی اقدامات کی منظوری کے بغیر اجلاس برخواست نہیں کریں گے۔

Photo Credit : https://h7f7z2r7.stackpathcdn.com/sites/default/files/images/articles/congress-mcconnell.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published.

%d bloggers like this: